عرب و فارس کی دہکتی چنگاری اور ہم

8,085

سعودی عرب میں منعقد ہونے والی عرب، اسلامک اور امریکہ سربراہی کانفرنس نے بالخصوص مشرق وسطیٰ اور بالعموم مسلم دنیا کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ سعودی شاہ سلمان نے براہ راست ایران کا تذکرہ کر کے معتدل رویہ رکھنے والے مسلم ممالک کیلئے تذبذب کی فضاپیدا کر دی ہے۔ پاکستان کیلئے یہ صورتحال نازک ہے کیونکہ ایران سے ہمارے تعلقات خوشگوار نہیں اور حال ہی میں کلبھوشن یادیو کا مسئلہ ہو یا ایرانی سیکیورٹی فورسز کا پاکستانی علاقوں میں کاروائی سے متعلق بیان، ہمارے باہمی تعلقات مشکلات سے دو چار ہیں۔ ہماری مغربی سرحدیں ایران اور افغانستان کو چھوتی ہیں جہاں بھارتی اثرو رسوخ ڈھکا چھپا نہیں۔ بد قسمتی سے بھارتی عدم شمولیت کے باوجود ہم نے ایران سے گیس پائپ لائن منصوبے کا معاہدہ کیا مگر اس سے دونوں ممالک میں قربتیں نہیں بڑھ سکیں۔

عرب اور فارس کے مابین خلیج وسیع ہوتی جا رہی ہے اور 1979 کی ایران عراق جنگ کے بعد سے پورا مشرق وسطیٰ اس کی لپیٹ میں ہے۔ موجودہ حالات کو سمجھنے کیلئے ہمیں اس صورتحال کے پس منظر کو سمجھنا ہوگا۔ اس اختلاف یا تصادم کی جڑیں قوم پرستی میں راسخ ہیں جس کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ 1979 میں ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد اس چپقلش نے مسلکی رخ اختیار کر لیا مگر اس سے قبل ایران اور عرب خطے میں سیاسی افق پر بادشاہت یا لبرل آمریت مسلط تھی۔ افغانستان میں سوویت مداخلت نے مسلم دنیا میں شدت پسند مذہبی رویوں کو جنم دیا جس نے انتہا پسندی کیلئے مزید زمین ہموار کر دی۔ 1978 میں اسرائیل سے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد مصر نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا اور رد عمل کے طور پہ عرب دنیا نے مصر سے منہ موڑ لیا۔

نتیجتاً عرب دنیا کی قیادت سعودی عرب کے ہاتھ میں آگئی۔ امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر اوروزیر خارجہ ہنری کسنجر نے پالیسی دی تھی کہ مشرق وسطی میں جنگ مصر اور امن شام کے بغیر ممکن نہیں لہٰذا انہوں نے مصر سے اسرائیل کو تسلیم کروا لیا اور اسے ایک بڑی جنگ کے خدشے سے نجات دلا دی۔

مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ شام کی خانہ جنگی اور یمن کے حالات ہیں۔ شام میں بعث پارٹی کی حکومت دہائیوں سے قائم ہے مگر علوی فرقے کی اکثریت اس جماعت میں غالب رہی۔ عرب سپرنگ کے بعد بشارالاسد کی شامی حکومت کی گرفت کمزور پڑ گئی اور عوام میں بغاوت پھیل گئی۔ خلیجی ممالک نے مبینہ طور پر وہاں موجود انتہا پسند گروہوں، بالخصوص داعش، کو معاونت فراہم کی جو اس سے قبل عراق کے شمالی شہروں پر اپنا کنٹرول قائم کر چکی تھی۔ ایران نے بشارالاسد کی حکومت کو مدد فراہم کی اور لبنان میں اس کی حامی تنظیم حزب اللہ بھی ان کی مدد کو آ پہنچی جو اسرائیل کیلئے سنگین خطرہ سمجھی جاتی ہے۔

مریکہ اس صورتحال میں بظاہر خاموش رہا مگر مبینہ طور پر وہ شام میں بشارالاسد مخالف کسی بھی گروہ کی حمایت کرتا ہے۔ جب بعث پارٹی کی حالت نازک ہوئی تو روس نے اس  کی حمایت میں اپنی فوج شامی سرزمین پر اتار دی جس نے بشارالاسد کی حکومت کو نئی زندگی فراہم کی۔ تیل کی دولت سے مالامال مسلم ممالک کی چپقلش نے شام کی آدھی سے زیادہ آبادی کو دربدر کر دیا جو ہجرت یا کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حماس کے سربراہ خالدالمشال سالہا سال سے دمشق میں مقیم تھے اور ان کی تنظیم یہاں سے آزادی کی جدوجہد میں مصروف تھی۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہنری کسنجر کی اسرائیل کو تحفظ دینے کی پالیسی شام کی خانہ جنگی کے نتیجے میں تکمیل کو پہنچ چکی ہے۔ اس ساری صورتحال کا سب سے بڑا فائدہ اسرائیل کو ہوا ہے۔ اگر سعودی عرب میں کانفرنس کی تصویری جھلکیاں دیکھی جائیں تو شاہ سلمان اور ٹرمپ کے ساتھ مصری صدر السیسی نظر آئیں گے جس کا مطلب ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا عرب ملک سعودی اتحاد میں شامل ہے۔

یمن جزیرہ نما عرب کا وہ ملک ہے جو خانہ جنگی کا شکار ہے بلکہ اس سے قبل بھی ماضی میں یہاں ایسی ہی صورتحال رہ چکی ہے۔ جب 1960 کی دہائی میں عرب دنیا میں مصری صدر جمال عبدالناصر کا طوطی بول رہا تھا، تو یمن خانہ جنگی کا شکار تھا جہاں اشتراکیت پسندوں کی حمایت مصرکر رہا تھا جبکہ مذہبی سوچ کے حامی گروہ، جو بنیادی طور پر حوثی قوم پر مشتمل تھے، کی حمایت سعودی عرب کر رہا تھا۔ حوثی اکثریت زیدی مسلک کی پیروکار ہے۔ مگر آج کے تناظر میں ان کی پشت پر ایران کھڑا ہے اور سعودی عرب ان کے مخالف گروہوں کی پشت پر ہے۔ یمن کی سرحد سعودی عرب اور اومان سے ملتی ہے لہٰذا خلیجی ممالک اور بالخصوص سعودی عرب اسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔ شام اور یمن میں خانہ جنگی دراصل ایک پراکسی وار ہے مگر اس کی تہ میں دہکتے شدت پسندی کے شعلے پوری مسلم دنیا کو لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ یمن گیس کے وسائل سے مالامال ملک ہے اور یہ بحیرہ احمر کے کنارے واقع ہے جہاں سے یورپ اور ایشیا کے مابین تجارت کنٹرول کی جاتی ہے۔ یہاں القاعدہ کے اڈوں کا بھی چرچا عام ہے۔ یقیناً یہ امریکی دلچسپی کیلئے موزوں خطہ ہے اور یہی محسوس ہوتا ہے کہ جب پراکسی وار سے یہ ملک نڈھال ہو کر کھنڈر ہو جائے گا تو امن کے قیام کیلئے بالآخر نیٹو یا امریکی افواج آئیں گی۔

پاکستان مسلم دنیا کا دفاعی لحاظ سے اہم ترین ملک ہے۔ سعودی عرب سے ہمارے دیرینہ مراسم ہیں اور پندرہ لاکھ سے زائد پاکستانی وہاں روزگار کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو نامساعد حالات میں سعودی امداد پاکستانیوں کیلئے ہمیشہ دستیاب رہی ہے۔ سعودی عرب کے زیرِ اثر اتحادی افواج کی کمانڈ بھی جنرل راحیل شریف کے پاس ہے جو پاکستان کے سابق ہر دلعزیز آرمی چیف ہیں۔

دوسری جانب ایران ہمارا ہمسایہ ہے جسے ہم نظرانداز نہیں کر سکتے۔ وہاں موجود ہندوستانی لابی اور قونصلیٹ بلوچستان میں امن اور سی پیک کے قیام کیلئے خطرہ ہیں۔ اس موقع پر ہمیں بہترین سفارتکاری کا ثبوت دینا چاہیے ورنہ عرب و فارس کے تصادم کی دہکتی چنگاریاں ہماری سرحدوں کے اندر بھی آگ پھیلا سکتی ہیں۔ پاکستان کو ترکی جیسے دوست ملک کو اعتماد میں لے کر او آئی سی فورم کو بحال کر کے ایران اور عرب ریاستوں کے مابین مصالحت اور مفاہمت کی فضا قائم کر نے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ تیل کی دولت سے بارود خریدنے کا سلسلہ تھم جائے اور شدت پسندی کا اجتماعی طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔

مصنف پیشے کے اعتبار سے کیمیادان ہیں، کتاببیں پڑھنا پسند کرتے ہیں اور تاریخ، فلسفہ، حالات حاضرہ اور اردو شاعری پسندیدہ موضوعات ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.