میڈیا ہر جگہ، سچ کہاں ہے؟

0 836

آج کے زمانے میں جدید ٹیکنالوجی اور آزاد میڈیا کے ہوتے ہوئے حقائق چھپانا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ یہ وہ عمومی تاثر ہے جو الیکٹرانک میڈیا کے بارے میں لوگوں کی اکثریت کا تھا۔ صحافت کے کنوئیں میں چھلانگ لگانے سے پہلے یہ تاثر ہماری رائے ہوتا تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پتا چلا کہ خبر چھاپنا ہی نہیں، خبر چھپانا بھی ایک فن ہے، اور اس میں اب پرنٹ میڈیا کے بعد الیکٹرانک میڈیا بھی بہت حد تک ماہر ہو چکا ہے۔

یہ ٹھیک ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور ریٹنگ کی ہوس آپ کو حقائق کھول کھول کر بیان کرنے کے لیے بے تاب کرتی ہے، مگرآپ اور ہم سب جانتے ہیں کہ موجودہ دنیا کارپوریٹ دنیا ہے، اس میں جڑے افراد اور کمپنیاں ہر چیز کو کاروباری پیمانے میں تولتی ہیں۔ کوئی بات، اطلاع، خبر یا واقعہ چاہے جتنا بھی اہم ہو، اگر اس سے کاروباری مفادات کو ٹھیس پہنچتی ہو، یا یہ فائدہ نہ پہنچائے تو اتنی ہی بے وقعت ٹھہرتی ہے جتنا پھیکا خربوزہ یا چوسی ہوئی گنڈیری۔ پھر ریٹنگ، مقبولیت اور ‘یہ سچ سب سے پہلے ناظرین ہم آپ تک پہنچارہے ہیں۔۔۔” کی باتیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔

گزشتہ ماہ ایک تعمیراتی کمپنی اور ایک نجی ٹی وی چینل کے اشتراک سے عید الفطر کے لیے اسلام آباد میں پروگرام کی رکارڈنگ کے دوران سٹیج دھماکے سے نیچے آ گرا۔ اسٹیج پر ‘پرفارمنس’ دینے والے فنکاروں اور اداکاروں کو تو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا تاہم عام شہریوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر انتظامیہ رفو چکر ہوگئی۔ واقعہ میں ایک خاتون جاں بحق جبکہ 70 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ اتنے بڑے واقعے پر کوئی نجی چینل ‘سب سے پہلے’ پہنچا نہ کسی اخبار نے ‘سب کی چھُپائی خبر چھاپ کر دکھائی’۔ وجہ یہی نظر آرہی ہے کہ جب کاروباری مفادات اور پیسہ جھوٹ کے سورج سے وابستہ ہوجائے تو سچ کا چاند ماند پڑ جاتا ہے۔

پچھلے دنوں یکے بعد دیگرے پاکستان کے دو نامور ادیب تہ خاک جا سوئے۔ بانو قدسیہ اور مختار مسعود۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ادب کے ذریعے لوگوں کو ادب سکھایا، شعور دیا۔ جن کی رائے سے اختلاف ہوسکتا ہے مگر ان کے فن پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ ان دونوں کی موت پر ایک دو چینلوں نے رسمی سی ہیڈ لائن چلائی، ایک دو اخبارات نے صفحہ اول پر ایک کالم اور چند سینٹی میٹر کی خبر لگائی، اللہ اللہ خیر صلا! کہ ادیبوں سے آج کے اخبارات اور چینلوں کا کیا لینا دینا؟ ان کی موت کی خبر دینے سے ریٹنگ بڑھتی ہے نہ پیسہ، پھر کیوں محنت کی جائے؟ کیوں ان کی سوانح سامنے لانے کا جھنجھٹ پالا جائے اور کیوں ان پر پروگرام کرکے اپنا وقت ضائع کیا جائے؟ منجن تو ن لیگ اور پی ٹی آئی کے لوگوں کے درمیان گالم گلوچ کا بکنا ہے، پھر کیوں بوریت کا بھجن گایا جائے؟ ہاں کوئی موسیقار مرے، کسی گلوکار کی برسی ہو تو پرائم ٹائم بھی حاضر ہے۔ ہیڈ لائنز میں بھی ماتم ہوگا۔ اخبار کے صفحات کے صفحات سیاہ کیے جائیں گے۔

یہ ہے وہ المیہ جو تیزی سے بڑھتا جارہا ہے اور معاشرے میں احساس کو چاٹ رہا ہے۔ جب وہ ذرائع جن کی ذمہ داری حقائق پہنچانا ہے، وہ کسی کا کاروبار، کسی کی ساکھ بچانے کی خاطر سچ کا سودا کر دیں، 70 انسانی جانوں کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت ہی نہ ہو، جب وہ ادیبوں کی موت کی خبر چلانے کے لیے بھی ریٹنگ کا سانچہ ڈھونڈتے پھر رہے ہوں تو پھر سچ کیسے سامنے آئے گا؟ خبر دینے والے ہی جب خبر دبا لیں تو حقائق کہاں سے ملیں گے؟ ایسا نہ ہو کہ آنے والے دنوں میں میڈیا کے بارے میں عام تاثر کچھ اس طرح ہوجائے کہ، موجودہ دور کے میڈیا کے ہوتے ہوئے حقائق چھاپنا یا نشر کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔

مصنف مختلف اخباروں میں کالم لکھتے رہتے ہیں اور آج کل کراچی یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹر کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.