قائد اعظم یونیورسٹی کے ‘لبرل’ شدت پسند

1 1,118

قائد اعظم یونیورسٹی میں طلبہ گروپوں میں تصادم کی خبر ملی۔ مجھے بطور ٹرینی رپورٹر کیمرہ مین کے ساتھ بھیج دیا گیا۔ انتظامیہ نے میڈیا کو اندر جانے سے روکا ہوا تھا لیکین میں یونیورسٹی میں داخل ہونے کے چور راستوں سے واقف تھا۔ کسی نہ کسی طرح جائے وقوعہ تک پہچ گیا۔ میرے ساتھ ساتھ دیگر دو چینلز کے کیمرہ مین بھی داخل ہو گئے۔ پولیس کی سخت شیلنگ تھی، آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا، سانسیں خشک ہو چکی تھیں، کیمرہ مین کی ہمت کو سلام جو اس حالت میں بھی فوٹیج بنا رہا تھا۔

ہمارے ساتھ ہی کھڑے ایک لڑکے نے مجھے کہا میڈیا کو لے کر نکل جائو ورنہ برا سلوک ہوگا۔ میں نے پیچھے دیکھا تو پولیس کے جوان کھڑے تھے۔ مجھے حوصلہ ملا اور اس کی بات کو ان سنا کر دیا۔ صرف پانچ ہی منٹ گزرے تھے کہ اندر سے گالم گلوچ کرتے 30 سے 40 جینز شرٹ، اور شارٹ وغیرہ میں ملبوس نوجوانوں نے کیمرہ مینوں پر حملہ کردیا۔ گالیوں کی بوچھاڑ ہو گئی۔ ایک کیمرہ توڑ دیا، باقی چھین لیے۔

میرے ہاتھ میں لوگو تھا۔ میری طرف بھی لپکے۔ میں نے معافی تلافی سے جان چھڑوائی اور دوسری طرف دیکھا تو ایک کیمرہ مین کو زمین پر دستر خوان کی طرح بچھایا ہوا تھا۔ ڈیلیٹ کر مادر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈیلٹ کر بہن ،،،،،،،،،،،،،، میں ترسی ہوئی نگاہوں سے پولیس والوں کو دیکھ رہا تھا، مگر وہ بھی انتہائی بے بس دکھائی دیئے۔

آپ یقین کیجئے کہ میں نے آج تک ایسے روشن خیال جنگجو نہیں دیکھے۔ ہمارے یہاں مدارس اور اسلام پسندوں کو شدت پسند بتایا جاتا ہے لیکین قائد اعظم یونیورسٹی تو روشن خیالوں کی ہے، وہاں کون ہے جو انسان کو انسان کا دشمن بنا رہا ہے؟ کون ہے جو شدت پسندی سکھا رہا ہے؟ میڈیا مخالف پراپیگنڈا کون کروا رہا ہے؟ کوئی مذہب، مسلک، فرقہ یا کوئی جماعت؟ کوئی نہیں۔

بس ہم بحیثیت قوم شدت پسند، انتہا پسند، غصے میں آگ بگولا پھر رہے ہیں کیونکہ ہم انٹرینٹ کے ذریعے پوری دنیا کو دیکھ رہے ہیں۔ میڈیا ہمیں دنیا بھر کی ترقی دکھا رہا ہے۔ کتابوں میں ہم خلا پر گھر بسانے کے طریقے پڑھتے ہیں مگر ہم خود پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں۔ ہمارے حکمران آج بھی گٹروں اور نالوں کی صفائی پر ووٹ مانگ رہے ہیں۔

مصنف دنیا ٹی وی میں رپورٹر اور یوتھ کونسل پاکستان کے صدر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.