ہڑپہ اور قدیم ہندوستانی تہذیب

0 1,223

انسان نے شعور کی منزلیں صدیوں کے سفر کے بعد طے کیں اور اس دوران وہ مختلف ادوار سے گزرا جو تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں۔ وادئ سندھ کی قدیم تہذیب پر تحقیق جاری ہے۔ مہر گڑھ اور بلوچستان میں اس کے آثار چھ ہزار برس قبل کے ہیں۔ وادئ سندھ کی تہذیب جو دریائے سندھ اور اس کے ذیلی دریاؤں کے کنارے آباد تھی، آثار قدیمہ کی کھدائی کے نتیجے میں دریافت ہوئی۔ ہڑپہ جو ضلع ساہیوال کے قریب ہے اور موہنجو دڑو جو ضلع لاڑکانہ کے قرب میں واقع ہے، اس کی دو اہم مثالیں ہیں۔ مجھے ہڑپہ میوزیم اور آثار دیکھنے کا حال ہی میں اتفاق ہوا جو وادئ سندھ کی تہذیب کے مطالعے کے حوالے سے میری تشنگی کو مزید بڑھانے کا باعث بنا۔ اس شہر کی ترقی کا سورج آج سے 4500 برس قبل نصف النہار پر تھا، مگر قابل افسوس امر یہ ہے کہ اس کی کھدائی کا عمل بہت دیر سے، انگریز دور میں شروع ہوا۔ یہ شہر اپنے دور کے حوالے سے میسو پوٹیما اور مصر کی قدیم تہذیب کا ہم عصر ہے۔ اس تہذیب کے بارے میں چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے ہیں، مگر بد قسمتی یہ ہے کہ اس کی زبان کو دوسری دو ہم عصر تہذیبوں کے برعکس ڈی کوڈ نہیں کیا جا سکا۔ قدیم تہذیب کے آثار رکھنا کسی بھی قوم کیلئے ایک قابل فخر بات ہے کیونکہ ایک طرف تو یہ ساری دنیا کی دلچسپی کا باعث ہوتی ہے تو دوسری جانب یہ اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ اس خطے کے لوگ ہزاروں برس قبل بھی ترقی یافتہ تھے۔

جب انگریزوں نے اٹھارہویں صدی کے وسط میں لاہور سے ملتان ریلوے لائن کی تعمیر کا آغاز کیا تو مقامی ٹھیکیداروں نے ہڑپہ کے کھنڈرات سے پرانی اینٹوں کو اکھاڑنا شروع کر دیا۔ انجینئرز نے اس بات کا نوٹس لیا اور معاملہ اعلیٰ حکام کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ ماہرین آثارِ قدیمہ نے معائنے کے بعد ان پختہ اینٹوں کو اہم قرار دیا اور محکمہ آثار قدیمہ نے کھدائی کا فیصلہ کیا۔ آج بھی کھدائی کا عمل جاری ہے اور تقسیم کے بعد ڈاکٹر احمد حسن دانی جیسے ماہرین نے اس پر مزید تحقیق کا کام کیا، مگر تاحال یہ سست روی اور حکومتی عدم دلچسپی کا شکار ہے۔

مصری اور میسو پوٹیمیا یا بابل کی تہذیب کی ترقی میں پتھر کا کردار اہم ترین ہے جو شہروں کی تعمیر میں استعمال ہونے والا اہم ترین جزو ہے، مگر ہڑپہ کے لوگوں نے اس کا متبادل پختہ اینٹوں کے فن میں مہارت حاصل کر کے تلاش کیا۔ دیگر دلچسپ حقائق میں اہم ترین پانی کی فراہمی کا نظام ہے۔ یہ نظام نہ صرف زراعت کیلئے تھا بلکہ آبادی کیلئے بھی اس کی فراہمی کا باقاعدہ نظام تھا بلکہ نکاسیِ آب کے نظام کے بھی باقاعدہ شواہد موجود ہیں۔ میوزیم سے آثار کی جانب مڑیں تو پہلی بڑی سائٹ بھی اسی حقیقت کو واضح کرتی نظر آتی ہے۔ یہاں ایک کنواں موجود ہے اور ایک عوامی حمام کے بھی آثار ہیں۔ ملحقہ سائٹ جو ایک ڈھلوان پر واقع ہے، بھی نکاسِ آب کے نظام کی تصویر کشی کرتی نظر آتی ہے۔ باقی تینوں سائٹس ہڑپہ کی قدیم تہذیب کا بہترین نقش ہیں۔ شہر کی گلیاں سیدھی اور سپاٹ تھیں جو ایک منصوبہ بندی کی نشاندہی کرتی تھیں۔ قبرستان کی کھدائی سے یہ معلوم ہوا کہ لاشوں کو مٹی کے بڑے برتنوں، جن کی شکل مرتبان نما تھی، میں قیمتی اشیاء کے ہمراہ دفن کیا جاتا تھا۔ یہ اس امر کا عکاس ہے کہ وہ لوگ حیات بعد از موت، یعنی مرنے والوں کیلئے موت کے بعد اگلی زندگی پر یقین رکھتے تھے۔ اسی طرز کے عقائد مصری فراعنہ کے مقبروں سے بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ یہاں سے مہریں بھی دریافت ہوئی جو اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ اس دور میں رابطے کیلئے تحریری زبان موجود تھی اور ان مہروں کا ہونا بذات خود سرکاری نظام کی دلیل ہے۔

ان کھنڈرات سے کھیتی باڑی کیلئے پتھر اور دھات کے اوزار بھی ملے جن پر تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس دور کے لوگ پتھروں کو پگھلا کر اس میں فولاد کو تو الگ کرنے کے قابل نہ تھے، البتہ دھاتوں کے ملغوبے کو استعمال کرتے تھے۔ ایک تھالی جو کھدائی کے عمل میں دریافت ہوئی اس کی مثال ہے۔ پختہ مٹی سے بنے بچوں کے کھلونوں میں بیل اور دیگر جانور بھی ملے یعنی آج سے پینتالس سو برس قبل یہ لوگ گھریلو استعمال کیلئے جانوروں کو سدھا چکے تھے۔ اہم ترین سائٹ ایک غلہ گودام کی ہے۔ وسیع رقبے پر پھیلی ایک چوکور عمارت جو مزید کمروں میں منقسم ہے، جن کا رقبہ ایک جیسا ہے۔ مرکز میں ستونوں کے آثار موجود ہیں اور عمارت کے گرد اسے محفوظ رکھنے کیلئے پشتے بھی تعمیر کئے گئے تھے۔ یہ سائٹ بھی ایک منظم شہر جو باقاعدہ نظام رکھتا تھا، جہاں اناج کو آفتوں یا دیگر وجوہات کی بنا پر اجتماعی طور پر ذخیرہ کیا جاتا تھا کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ پکی مٹی کی اشیاء جن میں روز مرہ استعمال کے برتن شامل ہیں بھی میوزیم میں موجود ہیں۔ اس تہذیب کی سب سے بڑی مہارت مٹی کو بھٹیوں میں پختہ کر کے استعمال کرنے بے مثال صلاحیت ہے۔

اس شہر کی تباہی کی وجوہات تاحال تحقیق کی متقاضی ہیں۔ دیگر قدیم شہروں کی طرح یہ بھی دریائے راوی کے کنارے آباد تھا۔ اس کا ایک وسیع احاطہ آج بھی کھدائی کا منتظر ہے۔ اس حوالے سے پاکستانی یونیورسٹیز میں موجود آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹس کو بین الاقوامی یونیورسٹیز کے ساتھ مل کر مشترکہ پروجیکٹس تشکیل دینے چاہییں تا کہ مقامی سطح پر ہم بھی آثار قدیمہ کی کھدائی کے عمل میں خود کفالت حاصل کر سکیں۔ سیاحوں کی آمد کو بڑھانے کیلئے بھی میوزیم کے انفراسٹرکچر کو بہت کرنے کی ضرورت ہے۔ نیشنل ہائی وے سے ہڑپہ میوزیم تک شاہراہ کی حالت زار کچھ بہتر نہیں جسے ایک بین الاقوامی دلچسپی کے مقام کے معیار سے مطابقت رکھنی چاہیے۔

مصنف پیشے کے اعتبار سے کیمیادان ہیں، کتاببیں پڑھنا پسند کرتے ہیں اور تاریخ، فلسفہ، حالات حاضرہ اور اردو شاعری پسندیدہ موضوعات ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.