اکھنڈ بھارت کا خواب اور پاکستان

0 24,435

ہندوستانی سیاست میں کامیابی کیلئے پاکستان دشمنی کو ایک نعرے کے طور پہ استعمال کیا جاتا ہے۔ تقسیم سے لے کر آج تک پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشوں کے پس پردہ ہمیشہ ہندوستانی سرکار نظر آئیگی۔ حال ہی میں کلبھوشن یادیو کے مسئلے کو ہندوستانی حکومت گھسیٹ کر عالمی عدالت انصاف تک لے گئی تاکہ اس گھناؤنے جرم کو انسانی حقوق کی ملمع کاری سے ڈھانپنے کی کوئی تدبیر نکل سکے، قطع نظر اسکے کہ بلوچستان میں ہندوستان کی مداخلت کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ ہمیں اس مخصوص ہندوستانی سوچ اور روئیے کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کا کوئی حل ایک قومی پالیسی کی صورت میں نکال سکیں۔

ہمیں ماضی اور تاریخ کو مد نظر رکھ کر اپنے مشرقی ہمسائے کی سوچ کو سمجھنا ہوگا۔ ہندوستان میں مودی سرکار دراصل سرمایہ دار اور مذہبی طبقے کے گٹھ کے نتیجے میں قائم ہوئی۔ یہ ہندو انتہا پسند ذہنیت دراصل 1920 کی دہائی میں ہندو مہاسبھا کے قیام کے ساتھ ابھری جو ہندوستان کو محض ہندو ہی دیکھنا چاہتی تھی اور نتیجتاً آر ایس ایس جیسی تنظیموں کیلئے خمیر تیار ہوا جو ہندوتوا کی پالیسی کے ساتھ ابھریں۔ کانگریس بھی اکھنڈ بھارت کی حامی تھی مگر اس کا نعرہ متحدہ قومیت کا تھا۔ مگر دونوں قسم کی ہندو سیاسی قیادت مسلمانوں کو سیاسی طور پر تسلیم کرنے پہ رضا مند نہیں تھی۔ 1946ء میں کیبنٹ مشن پلان، جس میں ہندوستان کو ایک لچکدار فیڈریشن بنانے کی تجویز دی گئی تھی، کو بھی کانگرس نے تسلیم کرکے بعد رد کردیا کیونکہ مشرق اور مغرب میں مسلم اکثریتی یونٹس دس برس بعد فیڈریشن سے الگ ہونے کا اختیار رکھتے تھے۔

اس ضمن میں مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب انڈیا ونز فریڈم کا بھی مطالعہ کیا جا سکتا ہے جس میں وہ تقسیم کی ذمے داری سردارپٹیل اور پنڈت نہرو پہ ڈالتے نظر آتے ہیں۔ کم وبیش اسی سوچ کا اظہار کانگرسی لیڈر کے۔ایم سیروائی نے اپنی کتاب پارٹیشن لیجنڈز اینڈ رئیلٹی میں کیا ہے۔ جب سابق ہندوستانی وزیرخارجہ جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں اسی حقیقت سے پردہ اٹھایا تو بھارتیہ جنتا پارٹی، جو اب برسرِ اقتدار ہے، نے انہیں رکنیت سے ہی فارغ کردیا۔ دراصل مخصوص ہندو ذہنیت نے مسلمانوں کو کبھی بطور سیاسی حقیقت تسلیم ہی نہیں کیا جو آج بھی پاکستان مخالف ہندوستانی روئیے کی بنیاد ہے۔

تقسیم کے وقت جب قائداعظم ہندوستان چھوڑ کر پاکستان کیلئے روانہ ہوئے تو سردار ولبھ بھائی پٹیل اس دن ایک جلسے میں تقریر کر رہے تھے۔ جب انہیں قائداعظم کی روانگی کی خبر ہوئی تو تقریر کے دوران کہنے لگے کہ آج ہندوستان کے جسم سے زہر نکل گیا۔ سردار پٹیل اور نہرو نے ہی متحدہ ہندوستان یا فوری تقسیم کا مطالبہ انگریز حکومت کے سامنے رکھا۔ انہیں گمان تھا کہ پاکستان عجلت میں اپنا وجود ہی برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ ہندوستان کی کشمیر پالیسی اور 1948 میں حیدرآباد ریاست کے خلاف آپریشن مارکوپولو بھی سردار پٹیل کی سوچ کے عکاس ہیں۔ اکھنڈ بھارت، جو محض ایک مخصوص ہندو ذہنیت میں بستا ہے، تاریخ میں اپنا وجود ہی نہیں رکھتا۔ بلکہ ہندوستان ہمیشہ مختلف ریاستوں میں بٹا ایک خطہ رہا ہے۔

اسے ایک یونٹ کی شکل میں انگریزوں نے ہی منظم کیا اور 1935 کے ایکٹ کے نفاذ سے قبل برما بھی اس میں شامل تھا۔ قیامِ پاکستان کو ایک مخصوص ذہنیت اکھنڈ بھارت کے خواب کی نفی سمجھتی ہے۔ 1971 میں سقوط ڈھاکہ کے بعد اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ ہم نے ہزار برس کی غلامی کا بدلہ لیا ہے۔ ہندوستان کو چین کے خلاف ایک طاقت کے طور پر سامنےلانے کی مغربی سوچ نے پھر سے بالادستی کا خمار ہندوستانی قیادت کے ذہن میں پیدا کر دیا ہے۔ خطے میں ہندوستانی بالادستی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان اور پاک چین تعلقات ہیں۔ افغانستان اور ایران میں ہندوستانی اثرورسوخ بہت واضح ہو چکا ہے۔ ایل او سی پر جارحیت کے بعد مودی سرکار نے پاکستان کو مغربی سرحدوں کی جانب سے دباؤ میں لانے کی کوشش تیز کر دی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سی پیک کی تشکیل کا سریع الرفتار منصوبہ ہے جس کا مرکز گوادر کی گہرے پانی کی بندرگاہ ہے۔

یقیناً سمندر تک رسائی افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کی ضرورت اور خواہش ہے۔ ہندوستان نے ایک اور منصوبہ ایران میں چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر اور اسے شاہراہ کے ذریعے وسطی ایشیاء سے منسلک کرنے کا شروع کر رکھا ہے جس کا مقصد گوادرکی اہمیت کو کم کرنا ہے۔ مودی ہندوستان کے یوم آزادی پر بلوچستان کا ذکر کرنا نہیں بھولے حالانکہ کشمیر میں آزادی کی اٹھتی ہوئی لہر محسوس نہ ہوئی انہیں۔ نکسل باڑیوں نے آج بھی چھتیس گڑھ اور ملحقہ علاقوں کو ہندوستانی سرکار کیلئے نو گو ایریا بنا رکھا ہے۔ خطے میں بالادستی کیلئے بنگلہ دیش بظاہر ہندوستان کی طفیلی ریاست بنتا نظر آ رہا ہے مگر مستقبل میں ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ عوامی لیگ حسینہ واجد کی قیادت میں آمرانہ انداز میں حکومت چلا رہی ہے۔ سارک میں افغانستان کی شمولیت ماضی میں ہماری کمزور سفارتی پالیسی کی آئینہ دار ہے۔ ہندوستان کا منصوبہ سارک کے پلیٹ فارم پہ پاکستان کو دباؤ میں لانے کا ہے اور افغانستان کو اس ضمن میں ایک مہرے کے طور پہ استعمال کر کے پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے۔

ہمیں اپنی افغان پالیسی کو بالغ نظری کے ساتھ ازسرِ نو مرتب کرنا ہو گا کیونکہ اسے ایکسپورٹ اور امپورٹ کیلئے ہر صورت پورٹ درکار ہے اور پاکستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے کو ہمیں گوادر منصوبے کے تناظر میں ایک نئی شکل دینا ہوگی ۔ پاکستان کو اس مرحلے پر ایک فعال خارجہ پالیسی تشکیل دینا ہوگی اور وہ ہے اپنے مغربی ہمسائیوں کو ڈائیلاگ میں شامل کرنا۔ افغانستان کو باور کرانا ہوگا کہ سمندر تک رسائی کا راستہ پاکستان کےذریعے ممکن ہے جس کی فراہمی ہم ماضی میں بھی یقینی بناتے رہے ہیں۔ تیس لاکھ افغان مہاجرین نے پاکستان کو ہی پناہ گاہ بنایا ہے اور ان کے ثقافتی اور تجارتی رشتے پاکستان سے وابستہ ہیں۔ پرامن افغانستان بھی پاکستان کے مفاد میں ہے اور اس کے لئے پاکستان نے بارہا افغان مذاکراتی عمل کو تقویت فراہم کی ہے۔ ان کا مستقبل پاکستان سے وابستہ ہے کیونکہ وہ اپنے دوست بدل سکتے ہیں، ہمسائے نہیں۔ اسی طرز کی پالیسی ایران کے بارے میں بھی مرتب کرنا ہوگی۔ ایرانی قیادت کو بھی قائل کرنا ہوگا کہ ہندوستان کے پیچھے ہٹنے کے باوجود پاکستان نے امریکی دباؤ کو مسترد کر کے گیس پائپ لائن منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔ چین ایرانی تیل کا بہت بڑا خریدار ہے۔ سی پیک منصوبے میں انرجی کوریڈور بھی شامل ہے جو ایران کیلئے سودمند ہو گا۔ بلوچستان میں بیرونی مداخلت مغربی سمت سے ہی ہو رہی ہے جس کا تدارک انتہائی ضروری ہے۔

ہندوستان کے روایتی پروپیگنڈے کو ہمیں ہر صورت روکنا ہوگا اور اس کا جواب دو طرح سے دیا جا سکتا ہے۔ اول تو یہ کہ بلوچستان میں امن کو یقینی بنا کر گوادر منصوبے کو جلد ازجلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ دوئم، کشمیریوں کی چوتھی نسل دو قومی نظریے کی تصویر بنی نظر آ رہی ہے۔ وہ کشمیری نوجوان جس نے کبھی پاکستان کو دیکھا نہیں، وادی میں پاکستانی پرچم لہرا رہا ہے۔ ان کی قربانیوں کو ہمیں بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا ہوگا۔ کشمیر اکھنڈ بھارت کا منہ چڑاتا مسئلہ ہے جسے سامنے لاکر ہندوستان کو سفارتی سطح پر اس کی سرحدوں کے اندر دھکیلا جا سکتا ہے۔ ہمیں اس حوالے سےنظریاتی، سیاسی اور سفارتی سطح پہ حکومتی نہیں بلکہ ایک متفقہ ریاستی پالیسی بنانی ہو گی تاکہ خطے میں خود کو ایک طاقت اور حقیقت منوا کر ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکیں۔

پاکستان کو مزید سٹریٹجک پارٹنرز کو تلاش کرنا چاہیے جیسے کہ چین اور ترکی ہمارے دوست ہیں اور مشترکہ مفادات کے حوالے سے باہم وابستہ ہیں۔ ماضی میں جب 1971 کے سانحے کے بعد پاکستان امریکہ سے فاصلے پر ہوا تو بھٹو حکومت سوؤیت یونین کے قریب ہوگئی۔ مگر بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدے کی وجہ سے سوؤیت حکومت نے پاکستان کو اہمیت نہ دی۔ اس وقت کی حکومت نے کامیاب خارجہ پالیسی اپناتے ہوئے چین سے مفادات کو وابستہ کیا اور پاکستان کی سیاسی اہمیت کو بڑھانے کیلئے اسلامی دنیا سے رابطہ قائم کیا۔ نتیجتاً 1974ء کی اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور میں منعقد ہوئی اور ہماری سیاسی ساکھ بڑی حد تک بحال ہوئی۔ آج بھی ہمیں اسی طرزکی علاقائی اور بین الاقوامی سیاست کو پیش نظر رکھ کر ایک ہمہ جہت ریاستی خارجہ پالیسی تشکیل دینا ہوگی۔

مصنف پیشے کے اعتبار سے کیمیادان ہیں، کتاببیں پڑھنا پسند کرتے ہیں اور تاریخ، فلسفہ، حالات حاضرہ اور اردو شاعری پسندیدہ موضوعات ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.