ماہِ جون میں ماہِ صیام کیسے گزاریں؟

0 922

ماہِ صیام مسلمانوں کے لیے مقدس اور قابلِ ا حترام ہوتا ہے۔ یہ مہینہ ہمارے لئے صبر و استقامت، برداشت اور امن کا پیغام لاتا ہے۔ جہاں ہم اپنے نفس پر قابو رکھ کر سارا دن کھانے پینے سے اجتناب کرتے ہیں وہیں ہمارے اندر صبر جیسی صفت کی پرورش ہوتی ہے۔ رمضان کا مہینہ مسلمانوں کے لیے خوشیوں کی نوید لاتا ہے۔ اس سال یہ جون کے گرم ترین مہینے میں آ رہا ہے جب تمازتِ آفتاب اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ گرمی سے لْو لگنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔ مگر چند احتیاطی تدابیر اپنا کر ہم گرمی کو شکست دے کر ماہِ صیام کو پْر سکون بنا سکتے ہیں۔

ماہرین صحت کا مشورہ ہے کہ روزے دار افطار و سحر میں پروٹین، کاربوہائیڈریٹ اور ریشہ سے بھرپور غذا لیں لیکن اوپر تلے کی چیزیں نہ کھائیں۔

اس مرتبہ 15 گھنٹے سے زیادہ دورانیے کا روزہ ہے، چنانچہ اس میں اپنی خوراک کا پورا خیال رکھنا چاہیے، سحری میں پروٹين سے بھرپور خوراک لی جائے جس سے دن بھر آپ کو بھوک کا احساس بھی نہ ہو اور کمزوری بھی محسوس نہ ہو۔

سحری میں وقت سے قبل بیدار ہوں تاکہ وقت کم ہونے کی وجہ سے بے صبری اور جلدی جلدی میں نہ کھانا پڑے۔ سحری میں بھی ایک کے اوپر ایک چیز بالکل نہیں کھانی چاہیے۔

طبی ماہرین کے مطابق سخت گرم موسم میں سحری کے لیے ایسی غذاؤں کا استعمال کیا جانا چاہیے جو دیر تک توانائی فراہم کریں۔ دلیا، انڈے، کھجوریں، سوکھی خوبانی، فروٹ سلاد اور سبزیوں کا استعمال روزہ داروں کو دن بھرتوانا رکھتا ہے۔ گرم موسم میں پیاس لگتی ہے، اس کے لیے سحری میں پانی، دہی، دودھ، لسی اور کھیرے کا استعمال پیاس کی شدت میں کمی کرتا ہے۔ روزے کی حالت میں باہر نکلنا ضروری ہو تو گرمی کی سختی سے بچنے کے لیے چھتری کا استعمال کریں۔ غیر ضروری طور پر دن میں گھر سے باہر نہ نکلیں۔ افطار کے وقت ٹھنڈے مشروبات، پانی، پھلوں میں آم، کیلا، خوبانی، خربوزے کا زیادہ استعمال کریں تاکہ جسم کو تقویت بھی پہنچے اور پانی کی کمی بھی پوری ہو۔ چھولے، چنے اور پھلیوں کا استعمال کریں تاکہ طاقت ملے۔ تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز کریں۔

سحری میں شوربے والے سالن استعمال کریں جس میں تیل اور مسالا کم ہو، جو باآسانی ہضم ہو سکے۔ کوشش کریں کہ غذا میں ریشہ کا زیادہ استعمال ہو، مثلاً پھل اور ہری سبزیوں کا استعمال کریں کیونکہ یہ آہستہ آہستہ ہضم ہوتی ہیں، اور ان کے استعمال سے دن میں پیٹ خالی محسوس نہیں ہوتا۔ اور ان کے ذریعے جسم کو پانی بھی مہیا ہوتا رہتا ہے۔

افطار کے وقت کھجور اور پھل کا زیادہ استعمال کیا جائے اور فوراً پانی نہ پیا جائے۔ آم اور کھجور کے ملک شیک لیں اور شربت کے استعمال کو معمول میں شامل کریں۔
رمضان کے مہینے میں مکمل نامیاتی سائیکل تبدیل ہو جاتا ہے۔ موجودہ دور میں کوئی بھی 100 فیصد صحت مند نہیں ہے لہٰذا یہ ضروری ہے کہ سحری اور افطار دونوں وقت احتیاط سے کھائیں اور خوراک کی زیادہ مقدار استعمال نہ کریں۔

سخت گرمی کے موسم میں جسم کو پانی کی ضرورت رہتی ہے اس لیے پانی بھی پوری مقدار میں پیا جائے، لیکن ایک ساتھ ایک دو لیٹر پانی پینے کے بجائے تھوڑا تھوڑا کر کے پیئں۔

دن میں براہ راست دھوپ میں نکلنے سے بچیں اور جہاں تک ممکن ہو سخت مشقت والا کام نہ کریں، تاکہ توانائی برقرار رہے، اس کے ساتھ اگر ممکن ہو تو دن میں ایک دو گھنٹہ کی نیند ضرور لیں۔

ماہرین غذائیات افطار کے وقت بھی خود پر کنٹرول رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ افطار میں كولڈڈرنک، جنک فوڈ اور کیفین پر مشتمل خوراک مثلاً چائے کافی کا استعمال نہ کریں کیونکہ اس سے پیاس بڑھ جاتی ہے۔ مرغن غذاؤں سے پرہیز کریں۔ سادہ خوراک کو زیادہ ترجیح دیں۔ تاکہ روزے رکھنے کے باوجودآپ کا وزن بھی نہ بڑھے۔

کھجور کی تاثیر اگرچہ گرم ہوتی ہے لیکن اگر اسی کھجور کو پانی میں بھگو کر اور اس کا شربت بنایا جائے تو اس سے زیادہ پرتاثیر اور تسکین سے بھرپور شاید کوئی شربت نہیں ہوگا۔ ویسے بھی اس وقت پوری دنیا میں دل کے امراض، انجائنا، ہارٹ اٹیک کیلئے کھجور کا استعمال بہت تیزی سے رواج پا رہا ہے۔ کھجور فطرت کا بہتر ین تحفہ ہے۔ اس کا استعمال سْنتِ نبویؐ بھی ہے۔ سحری و افطاری میں اس کا شربت فرحت بخش بھی ہے اور فائدہ مند بھی۔

جن لوگوں کا بلڈ پریشر روزے کے دوران کم ہو جاتا ہے، وہ اس آسان سی مشق سے وقتی علاج کرسکتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے پیروں کو سیدھا کرکے لیٹ جائیں اور دس منٹ کے لیے پیروں کو اوپر کر لیں۔ اگر ایک ساتھ دس منٹ تک نہیں کر سکتے ہیں تو دو دو منٹ کرکے یہ عمل کریں۔ اس سے دماغ کو خون کی فراہمی بحال ہو جائے گی۔

ان چند احتیاطی تدابیر کو اپنا کر آپ بھی رمضان المبارک کے بابرکت مہینے سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

مصنفہ کا تعلق لاہور سے ہے اور سماجی معاملات پر لوگوں کی فلاح کے جذبے سے لکھتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.