سرکاری محکموں‌ کی حالت اور پرائیویٹائزیشن کی ضد

0 3,053

“بیٹا! بات سننا”۔

میں جیسے ہی ایم فل کا فارم جمع کرانے یونیورسٹی کی راہداری میں داخل ہوا، ایک لرزتی ہوئی آواز کانوں سے ٹکرائی تھی۔

“جی فرمائیے”، میں نے کہا۔

“بیٹا! یہ بینک کس طرف پڑے گا؟”

میں نے انکل کو جگہ سمجھاتے ہوئے وجہ دریافت کرنا چاہی تو پتہ چلا کہ وہ اپنی بیٹی کا فارم جمع کرانے آئے ہیں۔ ان کا کوئی بیٹا نہیں اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی بیٹی یونیورسٹی کی لمبی لائنوں میں خوار ہو، سو وہ خود آ پہنچے تھے۔ انکل کی عمر 70 سال کے لگ بھگ ہوگی، وہ تھوڑا پاﺅں گھسیٹ کر تیزی تیزی سے چلنے کی کوشش کررہے تھے۔ میں دل ہی دل میں افسوس کرتے ہوئے ان سے آگے نکل کر لمبے ڈگ بھرتا ہوا بینک کے گیٹ پر جاپہنچا، وہاں حسب معمول لمبی لائن تھی اور گزشتہ سال کی طرح محض ایک چھوٹی سی کھڑکی کھول کر صرف ایک خاتون اہلکار کوئی دو سے تین سو طلبہ و طالبات کے ہجوم کے پے آرڈر بنارہی تھی اورایک طالب علم کو نمٹانے میں بلامبالغہ آدھا گھنٹہ لگ رہا تھا۔

ابھی 15منٹ گزرے ہوں گے کہ وہ انکل بھی ہانپتے کانپتے بینک آگئے۔ لڑکوں نے انہیں سب سے آگے جگہ دے دی، آدھے گھنٹے بعد ان کی باری آئی تو پتا چلا کہ پے آرڈر بنوانے کے لیے سٹوڈنٹ کے دستخط بہت ضروری ہیں، لہٰذا ان کی بیٹی کو آنا ہوگا۔ انکل پسینے سے شرابور ناکام واپس آئے، انہیں ایک بار پھر ہانپتے کانپتے ہوئے گھر جانا تھا، بیٹی کو لانا تھا، لائن میں لگنا تھا، تب کہیں جاکر ان کا پے آرڈر بنتا۔ ان انکل کو پاﺅں گھسیٹ گھسیٹ کر واپس راہداری میں جاتا دیکھ کر دفتر کے ایک ساتھی یاد آگئے۔

ان کا شناختی کارڈ زائد المعیاد ہوچکا تھا۔ دفتر کے کارڈ کے لیے شناختی کارڈ ضروری ہوا تو انہیں اس کی تجدید کی فکر ستائی۔ نادرا دفاتر میں لمبی قطاروں اور وقت کی تنگی سے گھبرا کر انہوں نے نادرا کی آن لائن شناختی کارڈ بنوانے کی سہولت سے فائدہ اٹھانا چاہا۔ پہلے نادرا دفتر فون کیا تو دوسری جانب موجود اہلکار نے ان کو پہلے ہی مرحلے میں مایوس کرنے کی کوشش کی۔ فرمانے لگے کہ آن لائن بنوانا بہت مشکل ہے، ہر چیز سکین کر کے بھیجنا پڑے گی۔ دفتر میں سکینر موجود تھا اور ان کا حوصلہ بھی جوان تھا، لہٰذا انہوں نے مشکلات کے باوجود تمام دستاویزات 17 گریڈ کے افسر سے دستخط کروانے کے بعد سکین کرکے ای میل کر دیں۔ اگلے دن انہیں نادرا کے “سہولت مرکز” پر جا کر آن لائن سروس چارجز کے طور پر 1600 روپے جمع کروانے کی ہدایت جاری کی گئی (قطاروں میں لگ کر بننے والے شناختی کارڈوں کی فیس 400 سے 800 روپے تک ہے)۔ انہوں نے رقم جمع کروائی اور اسے بھی سکین کرواکے بھجوادیا۔ انہیں ریفرنس نمبر دیا گیا اور موبائل پر میسج آیا کہ آپ کو 15 دن کے اندر آپ کے گھر پر شناختی کارڈ مل جائے گا۔ مگر 15 دن پورے ہونے سے پہلے ایک میسج میں بتایا گیا کہ آپ کی شناختی کارڈ بنوانے کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔ وہ پریشان ہو کر دو دن دیے گئے نمبر پر رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر ناکام رہے۔ آخر کار تیسرے دن فون ریسیو کیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ چونکہ آئی ڈی کارڈ ایکسپائر ہوئے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لہٰذا ان کا کارڈ آن لائن نہیں بن سکتا۔ انہیں نادرا سینٹر جا کر قطار میں لگ کر ہی کارڈ بنوانا پڑے گا۔ اس سارے عرصے میں ان کے 1600 بھی لگے، وقت اور 15، 20 دن بھی برباد ہوئے لیکن نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلا۔

اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یونیورسٹی والے یہ بڑا سا لکھ کر گیٹ پر یا ویب سائٹ پر یا اخباری اشتہار میں نہیں لگا سکتے تھے کہ سٹودنٹ کی موجودگی کے بغیر نہ پے آرڈر بنے گا نہ فارم جمع ہوگا؟ اور کیا نادرا والے فارم وصولی کے پہلے مرحلے پر ہی انہیں یہ اطلاع نہیں دے سکتے تھے کہ ایکسپائری تاریخ کو زیادہ عرصہ گزرجانے پر آن لائن فارم جمع نہیں ہوسکے گا؟ نہیں! کیونکہ ایسا کرنے سے نہ ان انکل کو پریشانی ہوتی نہ دفتر کے ساتھی کو، اور سرکاری ادارے شاید یہ تہیہ کر چکے ہیں کہ عوام کو سہولت نہیں لینے دینی۔ اور حکومت غلطی سے ہی عوام کی سہولت کا سوچ ہی لے تو اس میں ڈنڈی ضرور مارنی ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک، حتیٰ کہ بھارت تک میں سرکار سے منسوب ادارے، محکمے اور چیزوں میں شفافیت اور عوام کو کھجل خوار کرنے سے گریز کی حتی الامکان کوشش کی جاتی ہے۔ اس لیے کہ سرکاری ادارے اور محکمے ہی دنیا میں کسی ملک کا امیج بناتے یا بگاڑتے ہیں۔ مگر ہمارے یہاں پرائیویٹائزیشن کی ایسی ہوا چلی ہے کہ اس نے سرکاری اداروں اور محکموں کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ پی آئی اے، اسٹیل ملز حتیٰ کہ پی ٹی وی تک کا حال خراب ہے۔ ہماری حکومتیں یہ سوچے سمجھے بغیر کہ نجکاری حکومت کی نااہلی کا کھلا اعتراف ہوتی ہے، اداروں کو پرائیویٹائز کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ بس پرائیویٹائزیشن کو آخری حل سمجھ لیا گیا ہے، اور اگر عدلیہ یا دوسری قوتیں اس کی راہ میں مزاحم ہوتی ہیں تو حکومتیں ناقص کارکردگی کے ساتھ اداروں کو برداشت کرنے کا مشورہ دینے لگتی ہیں۔ یعنی یہ طے کرلیا گیا ہے کہ درست نہیں ہونا، نہ اس کی کوشش ہی کرنی ہے۔ جس کو اپنی حالت خود بدلنے کا خیال نہ ہو، اسے توشاید پرائیویٹائزیشن بھی فائدہ نہ دے سکے۔

مصنف مختلف اخباروں میں کالم لکھتے رہتے ہیں اور آج کل کراچی یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹر کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.