سوزی اور لکھی رانی – پھر وہی کہانی؟

0 1,888

سوزی لاہور چڑیا گھر کی واحد ہتھنی 35 سال کی عمر میں مرگئی۔ مجھے وہ دن یاد ہے جب میں نے جنگ اخبار کے اندرونی صفحے پر وہ تصویر دیکھی تھی جس میں سوزی کو ٹرک سے اتارا جارہا تھا۔ اس وقت وہ ایک ننھی بچی کی طرح لگ رہی تھی۔ ڈری ڈری، سہمی سہمی۔ اس کی موت کی خبر سن کر میرے ذہن میں دو باتیں آئیں۔ ایک تو یہ کہ اس مخلوق نے اپنی سری زندگی اکیلے ہی گزار دی۔ کبھی کسی دوسرے ہاتھی یا ہتھنی کی قربت اسے نصیب نہ ہوئی۔ دوسری یہ کہ کیا ایسا ممکن نہیں تھا کہ اس کی نسل کو آگے بڑھایا جاسکتا، جیسا کہ دنیا کہ دوسرے چڑیا گھروں میں ہوتا ہے۔ جب میں نے ایک ویٹنری ڈاکڑ سے اس کے متعلق پوچھا تو اس نے مجھے بتایا کہ ایک تو نر ہاتھی کا بندوبست کرنا چڑیا گھر کے منتظمین نہیں چاہے گے کیونکہ نر کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے۔ خصوصاً جب وہ مست حالت میں ہوتا ہے اور اس مست حالت میں ہی وہ مادہ سے میٹنگ کرتا ہے۔ دوسرا لاہور چڑیا گھر میں اس کے لیے جگہ بھی کم اور نا مناسب تھی۔ نسل حاصل کرنے کا دوسرا طریقہ مصنوعی تھا جس میں اس نسل کے نر کے سپرم حاصل کرکے محٖوظ کرلیے جاتے ہیں اور پھر انجیکش کے ذریعے مادہ کے رحم میں رکھ دیے جاتے ہیں۔ لیکن شاید انتظامیہ نے اس پر بھی توجہ دینا گوارہ نہیں کیا۔
ہاتھیوں کی اوسط عمر 60 سے 70 برس ہوتی ہے لیکن سوزی کی عمر ابھی صرف 35 سال تھی۔ اس لحاظ سے وہ ابھی جوان ہی تھی۔ پھرایسا کیا ہوا کہ اس کی موت واقع ہوگئی؟ اس کا جواب احبابِ ختیار کے پاس ہونا چاہیے۔

اب زرا سوزی کی چڑیا گھر آمد سے کچھ ماہ پہلے کی ایک تصویر پر چلتے ہیں۔ یہ تصویر اس وقت کی لاہور زو کی واحد ہتھنی کی موت کی تصویر تھی۔ اس ہتھنی کا نام لکھی رانی تھا اور یہ ہتھنی پاکستان بننے سے پہلے ہندوستان کے کسی راجہ کے اصطبل سے لائی گئی تھی۔ یہ جس وقت مری اس کی عمر 80 کے لگ بھگ تھی، یعنی اپنی پوری عمر گذار کر مری۔ حالانکہ اس دور میں شاید اتنے زیادہ علاج کے طریقہ دریافت نہ ہوئے تھے جتنے آج ویٹنری سائنسندان دریافت کر چکے ہیں۔

لکھی رانی کی جس تصویر کا میں ذکر کرہا ہوں اس کی ایک دلچسپ بلکہ غمگین کرنے دینے والی بات یہ تھی کہ جو اہلکار اس کی دیکھ بھال کرتا تھا وہ اس کی لاش کے پاس بیٹھا رو رہا تھا۔ کہتے ہیں جہاں انسان رہتا ہے وہاں کی اینٹ سے بھی اس کو محبت ہو جاتی ہے۔ لیکن لکھی رانی تو ایک جاندار تھی اور انسان کے بعد جن جانوروں کو عقلمند سمجھا جاتا ہے، ان میں کتے اور ڈالفن کے ساتھ ہاتھی کا نام بھی آتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ہاتھی کی یادداشت بہت تیز ہوتی ہے اور وہ کبھی نہیں بھولتا۔ اس کا ثبوت بھی میں لکھی رانی کی زندگی سے ملتی ہے۔

میں نے اس دور میں اردو ڈائجست میں ایک مضمون پڑھا تھا جس کا لکھنے والا ایک ہندوستانی تھا اور اس کا تعلق اس خاندان سے تھا جس کے اصطبل سے یہ ہتھنی لائی گئی تھی۔ وہ لکھتا ہے کہ “یہ میرا پسندیدہ جانور تھا۔ ملک کے بٹورے کے وقت میں ملک سے باہر تھا اور آزادی ملنے کے بعد ہندوستان میں ریاستیں بھی ختم کردی گئی تھیں۔ دورانِ تقسیم اثاثہ جات، یہ ہتھنی بھی کہیں پاکستان چلی گئی ہوگی۔ کافی سال گزرنے کے بعد مجھے پاکستان جانے کا اتفاق ہوا۔ گھومتے پھرتے لاہور کے چڑیا گھر بھی چلے گئے۔ جیسے ہی میں ہاتھی والے احاطے کے قریب گیا تو میں نے اس ہتھنی کو پہچان لیا۔ لیکن یکایک میں نے محسوس کیا کہ وہ بھی میری طرف دیکھ رہی ہے۔ پھر وہ تیزی سے ایک مرتبہ جھومی اور ہلکی سی چنگھاڑ ماری۔ ارد گرد کے دیکھنے والے لوگوں نے تو اس کو زیادہ محسوس نہیں کیا لیکن رکھوالے کے چہرے پر میں نے پریشانی دیکھی۔ وہ اِدھر اُدھر دیکھتا رہا کہ کہ ہتھنی ایسا کیوں کررہی ہے۔ لیکن میں چب چاپ اسے اور وہ مجھے دیکھتی رہی۔ پھر میں نے مناسب سمجھا کہ پیچھے ہٹ جاؤں اور میں بھیڑ کی اوڑھ لیتے ہوئے وہاں سے کھسک گیا۔ مجھے یہ بھی ڈر تھا کہ وہ میرے تک آنے کی کوشش میں کوئی نقصان ہی نہ کردے۔ لیکن میں واضح طور پر اس کی آنکھ میں غم اور خوشی کومحسوس کیا”۔

لکھی رانی کو دیکھنا میرے بچپن کا پرجوش لحمہ تھا جب کہ سوزی کو میرے بچوں نے بڑے شوق سے دیکھا، اور اس کو 10 روپے بھی دیے جو اس نے اپنی سونڈ میں پکڑ کر اپنے ٹرینر کو تھما دیے۔ لیکن ایک سوال میرے ذہن میں بار بار آتا ہے۔ آپ نے وہ مثال تو سنی ہوگی کہ ہاتھی زندہ لاکھ کا، مرا سوا لاکھ کا۔ کہیں ایسا ہی لکھی رانی اور سوزی کی کہانی میں تو نہیں؟ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، جن دنوں میں لکھی رانی مری ایک صاحب جو کہ مرے جانوروں کو حنوط کرنے کے پاکستان کے واحد ماہر تھے اور کافی مشہور تھے، نے انتظامیہ کو آفر کی کہ وہ اس ہتھنی کی لاش کو حنوظ کردیتے ہیں اور اس کے لیے انہوں نے ایک معقول معاوضہ مانگا اور ساتھ ہی ساتھ کچھ ایسی شرائط مثلاً انہیں اس کام کے لیے ایک پچاس فٹ چوڑا گڑھا اور دوسرے کیمکل فراہم کیے جائیں۔ لیکن جیسا کہ ہوتا ہے، بیوروکریسی نے اس کام کو سرخ فیتے کی نظر کردیا یا پھر اس کی لاش کودفنا دیا گیا۔ کھال کدھر گئی، ہاتھی دانت کا کیا بنا، کس آفیسر کے ڈرائنگ روم کی رینت بنا، کوئی جواب نہیں مل سکا۔ اب سوزی کی لاش کے متعلق بھی یہی کہا جارہا ہے کہ اسے چڑیا گھر میں ہی کہیں گڑھا کھود کر دفنا دیا جائے گا۔ لیکن ہاتھی مرا سوا لاکھ والی بات ہضم نہیں ہو رہی۔

مصنف ایک سیاسی و سماجی ورکر ہیں اور ماضی میں صحافت کے پیشے سے منسلک رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.