اور پھر ذکر اس اپسرا کا کہ جس نے ماں باپ کی کمی کو ہتھیار بنا لیا

0 1,138

دنیا کے نامور مصنفوں کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کامیابی کا راز خود اعتمادی میں پوشیدہ ہے۔ وہ پہلے پہل اپنے مقصد کا تعین کرتے ہیں اور پھر منزل کے حصول میں اپنی جان وار دیتے ہیں۔ جب آپ اپنے ذہن کو کامیابی کی تصویر دکھاتے ہیں تو کامیابی خود آپ کے سامنے کھڑی مسکرا رہی ہوتی ہے۔ ناکامی کا ذرا سا تصور بھی آپ کو اپنے مقصد میں کامیاب ہونے نہیں دیتا بلکہ ہر وقت ناکامی کا اندیشہ لاحق رہتا ہے۔ ایک مصنف جسے اپنے قلم پہ یقین نہیں وہ کبھی بھی کچھ نہیں لکھ سکتا۔ ایک سائنسدان جسے خود پر اعتبار نہیں وہ کبھی بھی کچھ ایجاد نہیں کر سکتا۔ اسی طرح ایک تحقیق دان جسے خود پر بھروسہ نہیں وہ کبھی بھی کچھ دریافت نہیں کر سکتا۔

کامیابی و ناکامی زندگی کا حصہ ہے۔ بڑے بڑے لکھاری، سیاستدان، سائنسدان، محقق وغیرہ کی زندگی کو پڑھ لیں تو یہی سبق سیکھنے کو ملتا ہے کہ کامیابی کا راستہ ناکامی سے ہو کر گزرتا ہے۔ ناکامی انسان میں حوصلہ، عزم اور ہمت پیدا کرتی ہے۔ پستی کی طرف دیکھنا بھی انسان کے لیے کسی پہاڑ کی چوٹی سے گرنے سے کم نہیں ہوتا۔ بلندی پر پہنچ کر پستی کی طرف دیکھنا ایسا ہی ہے جیسے آپ کے پاس سونے کے ذخائر ہوں اور آپ چاندی کے حصول کی امنگ لیے دربدر ٹھوکریں کھا رہے ہوں۔ پہلے پہل ہمیں ٹھوس اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیں خود پر یقین اور بھروسہ کرنا آنا چاہیے۔ ہر انسان میں قدرت نے اس کی زندگی کا مقصد اور کوئی نہ کوئی صلاحیت چھپا کر رکھی ہے۔ اپنی صلاحیت کو تلاش کرنا انسان کے خود کے کرنے کا کام ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی قابلیت کو ترجیح دینے کے بجائے شک کرتے ہیں۔ یہی شک ہمیں پستی کی طرف دھکیلنے میں ذرا سی بھی دیر نہیں لگاتا اور ہم مزید پستی کی طرف دھکیل دیے جاتے ہیں۔ دراصل کامیابی اور ترقی کا راز منزل کے تعین میں مضمر ہے اور خود کو تبدیل کر کہ اپنے أپکو کامیابی اور ترقی کے قابل بنانا اپنے أپ میں ایک منزل ہے۔ پھر انسان کو اپنی منزل خود دیکھائی دینے لگتی ہے اور وہ اپنی منزل کے حصول کے لیے پوری توانائی صرف کردیتا ہے۔ لمبے چوڑے اور دشوار گزار راستے اسکے سامنے کوئی حیژیت نہیں رکھتے بلکہ وہ انکو اپنے لیے ہی نہیں دوسروں کے لیے بھی راستوں کے ہموار کرنے کے راز کو پچان چکا ہوتا ہے۔

ایسی ہی ایک محنت پسند، باہمت اور نامور مصنفہ جے ۔ کے رولنگ ہیں۔

جاسوسی، سسپینس اور جادوئی ناول تخلیق کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی قابلیت کے بل بوتے پر بہت کم وقت میں دنیا بھر میں نام کمایا ہے۔ دنیا بھر میں ان کے ناول انتہائی شوق سے پڑھے جاتے ہیں۔ زمانہ طالب علمی کے ابتدائی سٹیج سے ہی وہ مختلف کہانیاں لکھنے اور اپنے ہم جماعت طالب علموں کو سنانے میں صاحب کمال تھیں۔ بچپن سے ہی وہ خود کو ایک کہانی کے کردار کے طور سے دیکھتی آئی تھیں۔ اسی کہانی کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے ہیری پوٹر اور پارس پتھر کے عنوان سے بچوں کے ناوال پر استادانہ کام کیا۔

وہ لندن سے مانچسٹر کی طرف سفر کر رہی تھیں کہ انہیں کہانی تخلیق کرنے کا خیال آیا۔ کہانی کے تمام کردار ان کے ذہن میں تھے۔ اپنے خواب کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے چند سیکینڈ بھی نہیں لگائے اور سفر کے دوران ہی کہانی لکھنا شروع کر دی۔ ان کا بچپن بہت ہی کربناک تھا۔ ماں نے پال پوس کے بڑا کیا اور ابتدائی تعلیم وائیڈن سکینڈری سکول سے حاصل کی۔ ماں کے باپ کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہونے کی بنا پر والدہ کی وفات کے بعد انہیں لندن شفٹ ہونا پڑا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ہیری پوٹر کے ناول میں باپ کے ظلم و ستم کو بطور کردار پیش کیا گیا ہے۔ برطانیہ کی آیکذٹر یونیورسٹی سے فرنچ اور کلاسکس میں بی۔اے کرنے کے بعد وہ ایمنسٹی انٹرنیشنل میں بطور محقق کام کرنے لگی تھیں۔ زمانہ طالب علمی میں “اور پھر اس اپسرا (رقاصہ) کا نام کیا تھا” کے عنوان سے یونیورسٹی کے ایک جریدے نے ان کی کہانی شائع کی جو کہ بہت مقبول ہوئی۔ رولنگ کے پاس کہانیاں لکھنے کی اخلاقی جرات اور ہمت ہے۔ وہ کہانیوں میں سہی اور غلط کے انتخاب کا استعمال کرنا بہت اچھے سے جانتی ہیں۔ مصیبت میں خود کو ظالم لوگوں سے بچانے کے ساتھ ساتھ آسان راستے کی تلاش ان کے ناول کے بنیادی جز ہیں۔ ہیری پوٹر سیریز اب تک کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا ناول ہے۔

Harry_Potter_Saga

ناول کے پہلے حصے کو ایک پرانے ٹائپ رائٹر پر مکمل کرنے کے بعد وہ لندن شہر کے بارہ پبلشر کے پاس گئیں جواب میں انہیں تمسخر اور ٹھٹھے کے سوا کچھ نہ ملا۔ اتنے برے ردعمل کے باوجود وہ مایوس نہ ہوئیں بلکہ وہ پرامید تھیں کہ ایک دن یہی پبلشر ان کا ناول خریدنے کے لیے منت سماجت کریں گے۔ ایک سال کے قلیل عرصے کے بعد بیری نام کے ایک پبلیشر کو ان کا ناول بے حد پسند آیا اور اشاعت کے لیے ہامی بھرنے کے بعد ایک ہزار کاپی کی نقل تیار کی گئیں جن میں سے پانچ سو نقول شہر کی مختلف لائبریریوں میں رکھوائی گئی تھیں۔ پانچ ماہ کی قلیل مدت میں نیسلے سمارٹس ایوارڈ اپنے نام کیا تو scholastic publishers نامی امریکی پبلشنگ کمپنی نے انہیں ایک لاکھ پانچ ہزار ڈالر بطور انعام سے نوازا تھا۔

اتنی بڑی کامیابی پر وہ پھولے نہیں سما رہی تھیں۔ ان کے بقول وہ خوشی سے مرنے کے قریب تھیں۔ اس عظیم کامیابی کے بعد ہیری پوٹر اینڈ چیمبر آف سیکرٹس اور ہیری پوٹر اینڈ پرائیذن آف اذکبان جیسے شہکار ناولوں کو دوسری اور تیسری مرتبہ بھی نیسلے سمارٹس ایوارڈ کا حقدار ٹھہرایا گیا تھا۔ رولنگ وہ واحد خاتون ہیں جنہوں نے ایک ساتھ تین مرتبہ نیسلے سمارٹس ایوارڈ کا سہرا اپنے سر سجایا تھا۔ ہیری پوٹر سیریز کا چوتھا ناول ہیری پوٹر اینڈ گوبلیٹ آف فائر تخلیق کرنے میں انہیں سخت محنت کرنا پڑی تھی۔ وہ ناول کے ہر ایک چیپٹر کو بار بار لکھتی تھیں۔ ان کی کوشش تھی کہ ناول قاری کو ان کی امیدوں سے بڑھ کر پسند ائے۔ اور پھر جیسا انہوں نے چاہا ویسا ہی ہوا تھا۔ ناول شائع کرنے کے پہلے ہی روز برطانیہ میں اس کی پونے چار لاکھ جب کہ امریکہ میں تین ملین کاپیاں سیل کی گئیں تھیں۔

ہیری پوٹر سیریز کی مقبولیت، لوگوں کی پسند اور جذبے کو دیکھتے ہوئے انہوں نے چھٹے اور ساتویں ناول ہیری پوٹر اینڈ ہالف بلڈ پرنس اور ہیری پوٹر اینڈ ڈیتھلی ہاؤلز کو شائع کیا تو صرف ایک دن میں دونوں کی بیس ملین کاپیاں فروخت ہوئی تھیں۔ ہیری پوٹر سب سے مہنگی سیریز کا اعزاز اپنے نام کرنے کے ساتھ ساتھ سب سے تیز ترین بکنے والی کتاب کے طور پر بھی خود کو منوا چکی ہے۔ دنیا کی پینسٹھ سے زائد زبانوں میں ترجمہ کی جانے والی ہیری پوٹر سیریز نے نوجوانوں کو کتابیں پڑھنے کی طرف راغب کیا ہے جو کہ جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہر واقت کمپیوٹر اور ویڈیو گیم کے ساتھ چپکے رہتے تھے۔

ہیری پوٹر سیریز ایک یتیم بچے کے گرد گھومتی ہے۔ جس کے ماں باپ ایسے تعلیمی ادارے میں پڑھاتے ہیں جن کی دنیا اصل دنیا سے ہٹ کر ہوتی ہے۔ جہاں جادو کی تعلیم و تربیت دی جاتی ہے۔ ہیری کے والدین کو والڈی مور نامی ولن قتل کر دیتا ہے۔ گیارہ سال کی عمر میں ہیری کو ہاگورٹز میں پڑھنے کے لیے بلایا جاتا ہے۔ وہ دوستی، موہ، رومانوی تعلقات، مختلف امتحانات، بے چینی، ڈیپریشن، کشیدگی اور زیادہ سے زیادہ چیلنجوں سمیت جادوئی، سماجی اور جذباتی مسائل کے ساتھ خود کو ایک خاص محاذ کے لیے تیار کرتا ہے۔ ہیری پوٹر سیریز کی جادوئی دنیا حقیقی دنیا سے کافی متوازی ہے۔ سیریز میں موت کی خوفناک منظر کشی کی گئی ہے۔ موت کا کھیل ہیری کے والدین کی موت سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ ہیری پوٹر سیریز تشدد سے نفرت اور طاقت کو صحیح جگہ استعمال کرنے جیسے اسباق پر مشتمل ایک بہترین ناول ہے۔

ہیری پوٹر سیریز کی مقبولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وارنر بروس نے اس کے حقوق خریدے اور ایک شاندار فلم بنا ڈالی۔ وقت کے ساتھ ساتھ مختلف ڈائریکٹر ہیری پوٹر کو فلمانے پر کام کرتے رہے جو کہ ایک کامیاب سیریز ثابت ہوئی تھی۔ رولنگ دنیا کی واحد خاتون ہیں جو صرف ہیری پوٹر سیریز کے لکھنے سے کروڑوں پتی بن گئیں۔ ان کا نام برطانیہ کی پہلی دس اور دنیا کی ایک ہزار باسٹھ نمبر پر طاقتورترین اور امیر ترین شخصیات میں شمار ہوتا ہے۔

اس امیر ترین اور کامیاب مصنفہ نے پہلی شادی کے ناکام ہونے کے بعد دوسری شادی کی جو کہ ان کی کامیاب زندگی کا حقیقی نمونہ ہے۔ ہیری پوٹر سیریز کے علاوہ انہوں نے بہت سے ناول لکھے جن میں ٹیلز أف پیڈل برڈ اور کیوال ویکنسی جیسی کتابیں شامل ہیں۔ آج کل رولینگ ایک خیراتی ادرہ چلا رہی ہیں۔ وہ ایسے بچوں کی سرپرستی کر رہی ہیں جن کا کوئی خاندان نہیں ہوتا۔ رولنگ جیسے کامیاب افراد ناکامی اور فنا کے خوف سے آزاد ہوتے ہیں۔ کتنی ہی تلخیاں، دشواریاں اور کٹھن مراحل آ جائیں، وہ ہمت نہیں ہارتے بلکہ وہ انہی چیزوں کا سامنا کرتے ہیں جن سے انہیں خوف محسوس ہوتا ہے۔ اس طرح یہ ناہموار راستے کو ہموار کر کے کامیاب منزل کے مسافر بن جاتے ہیں۔

مصنف طالبِ علم ہیں اور تاریخ، سیاست، سماجی حالات کے علاوہ دنیا بھر کے کامیاب لوگوں کی زندگی پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔ آپ انہیں مندرجہ ذیل لنک سے فیس بک، اور ٹویٹر پر فالو کر سکتے ہیں.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.