قصور شیر کا نہیں، چیونٹی کا ہے

3 3,187

زندگی میں لاتعداد کہانیاں ہوتی ہیں جن میں سے کچھ ان سنی ہوتی ہیں اور کچھ ان کہی۔ لیکن آج ہم آپ کو ایک ایسی اچھوتی کہانی سنانے جا رہے ہیں جو ہر اس شخص کی زندگی سے جڑی ہوئی ہے جس نے کبھی نہ کبھی کسی کارپوریٹ دفتر میں کام کیا ہے۔ توشروع کرتے ہیں کارپوریٹ کہانی۔

بڑوں، ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ روز کی طرح ایک چیونٹی اپنا کام جلدی جلدی نمٹا رہی تھی باوجود اس کے کہ وہ بہت مصروف تھی اس کے اطوار سے خوشی جھلکتی صاف دیکھی جاسکتی تھی۔ یہ منظر دور بیٹھا اس کا شیر باس دیکھ کر بہت حیران ہو رہا تھا۔ اس کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ایک معمولی سی چیونٹی بغیر کسی نگرانی کے اتنی پیداوار کیسے دے سکتی ہے اور ساتھ ہی وہ بہت خوش بھی نظر آ رہی ہے۔ شیر باس نے سوچا کہ اگر یہ چیونٹی بغیر نگرانی کے اتنا کام کر سکتی ہے تو کسی نگران کی موجودگی میں تو پیداوار دگنی تگنی ہو جائے گی۔ بس یہ خیال من میں سماتے ہی شیر نے بی مکھی کو جو نگرانی کے کام میں وسیع تجربے اور رپوٹیں لکھنے کی ماہر سمجھی جاتی ہے کو بطور مینیجر بھرتی کر لیا۔

بی مکھی مینیجر نے دفتر آنے کے بعد پہلا کام تو یہ کیا کہ ایک حاضری رجسڑ رکھوا لیا اور رپوٹیں لکھنے میں مدد دینے، نگرانی رکھنے اور فون کالز سننے کے لیے ایک خرگوش کی خدمات حاصل کر لیں۔ شیر باس بی مکھی مینیجر کی صفحات کے صفحات کالے کی گئیں رپورٹوں سے بہت خوش ہوئے اور فرمان جاری کیا کہ مجھے پیداواری لاگت اور مارکیٹ کے رجحانات پر مبنی گرافک رپورٹ فراہم کرو تاکہ میں اس کو بورڈ کے اجلاس میں پیش کر سکوں۔ اس غرض سے بی مکھی مینیجر کو ایک نیا کمپیوٹر، لیژر پرنٹر اور ایک بلی کو ITڈپارٹمنٹ چلانے کے لیے ملازم رکھنا پڑا۔

دوسری جانب چیونٹی جو خوب پیداوار دے رہی تھی اور اپنے کام سے بہت خوش اور مطمئن تھی اس غیر ضروری پیپر ورک اور روز کی لمبی لمبی میٹنگز سے تنگ آ گئی جو اس کا ڈھیر سارا وقت کھا جاتی تھیں۔ پیداوار میں کمی دیکھ کر شیر باس اس نتیجے پر پہنچے کہ چیونٹی کا دل کام میں نہیں لگ رہا ہے اور وہ کام چوری کر رہی ہے اس لیے اس کے اوپر ایک انچارج رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ ا س بار قرعہ فال بندر کے نام نکلا۔ بندرانچارج کو بھی ایک کمپیوٹر کی ضرورت تھی جبکہ اپنے ساتھ وہ اپنے ایک پرسنل اسسٹنٹ کو بھی لے آئے جو ان کے ساتھ پرانے دفتر میں ساتھ کام کرتا تھا کہ چلو اس کا بھی بھلا ہو جائے گا۔ حالانکہ بندر انچارج کا اصل کام ورک پلان اور بجٹ کنٹرول کرنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دینا تھا۔

ایک طرف شیر باس پیداوار بڑھانے کے لیے تمام تر داؤ پیچ لڑا رہے تھے تو دوسری جانب چیونٹی کو اپنی کام کی جگہ سے نفرت سی ہوتی جا رہی تھی۔ جہاں وہ کبھی گھر سے ہنسی خوشی آیا کرتی تھی اب نہ تو وہاں اس کا دل لگتا اور نہ ہی اس کو اپنے کام میں خوشی محسوس ہوتی۔ یہ وہی چیونٹی تھی جو گھنٹوں اپنے کام میں مگن رہتی، ہنستی مسکراتی، ہلا گلا کرتی اور دوسروں کو بھی خوش رکھتی تھی۔ اب نہ تو ڈپارٹمنٹ میں کوئی قہقہہ گونجتا ہے اور نہ کوئی کسی سے بات کرتا ہے بس ایک اداسی ڈیرے ڈالے رہتی اور کام ٹالا جانے لگا تھا۔

یہی وہ وقت تھا جب بی مکھی مینیجر نے شیر باس کو اس بات کا یقین دلا دیا کہ دفتری ماحول کے موسمیاتی مطالعے کی اشد ضرورت ہے تاہم ڈپارٹمنٹ کے اخراجات اور پیداوار کا جائزہ لینے پر شیر باس کوشدت سے احساس ہوا کہ چیونٹی کی جانب سے پیداوار اب بہت گھٹ گئی ہے اور یہ بہت تشویشناک بات ہے۔ یہ معمہ سلجھانے کے لیے شیر باس نے ترپ کا اپنا آخری پتہ پھینکنے کا فیصلہ کیا اور ایک سیانے الو کی مشاورتی کمپنی کو اصل مسئلہ کا سراغ لگانے اور اس کا حل تجویز کرنے کا مشکل کام سونپ دیا۔

الو مشیر نے چیونٹی کے ڈپارٹمنٹ کا تین ماہ تک بغورجائزہ لیا۔ کئی جلدوں پر مشتمل ایک شاندار رپورٹ تیار کی جس میں ہوشربا انکشافات کیے گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق پیداوار میں کمی کی متعدد وجوہات تھیں لیکن ناکامی کی اصل وجہ ضرورت سے زیادہ عملے کی بھرتی اور کام کرنے والوں کا منفی رویہ بتایا گیا۔ یہ خبر شیر باس پر بجلی بن کر گری اور اس نے اس ضمن میں تاریخی فیصلے لینے کاعزم کر لیا تاکہ ڈپارٹمنٹ کو دوبارہ سے کامیابیوں اور کامرانیوں کی شارع پر گامزن کیا جاسکے۔ شیر باس نے رپورٹ کا بغورمطالعہ کرنے کے بعد ادارے کے وسیع تر مفاد میں ڈاؤن سائزنگ کا فیصلہ کیا۔ آپ جانتے ہیں شیر باس نے اس اہم کام کا آغاز سب سے پہلے کہاں سے کیا؟

جی بالکل۔ چیونٹی سے۔ کیونکہ رپورٹ کے مطابق چیونٹی ہی وہ واحد کارکن تھی جس میں اگے بڑھنے کی لگن کا فقدان اور منفی رویہ سب سے زیادہ پایا گیا تھا۔

کہانی ختم پیسہ ہضم

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. kishwer کہتے ہیں

    A true picture of corporate world. Dedicated workers have very little say. Well written.

  2. Mariam کہتے ہیں

    Very well written. On point!

  3. Jauhar Afaq کہتے ہیں

    Lagta hai, writer nay kuch aisay hi makhi ya kisy siyaanay ulloo ka qirdar adaa kiya hai, chunti wala kirdar writer par fit nahi bethta.
    Perfect written and good eye.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.