نصیب آزمانے کے دن نہیں آ رہے ہیں

0 11,495

جب طوفان تھم گیا تو ایک روز حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی میں بنایا ایک کھڑکی نما سوراخ کھول کر اس میں موجود ایک پرندہ باہر بھیجا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ باہر ابھی بھی ہر طرف پانی موجود ہے یا نہیں۔ پرندہ واپس نہ آیا۔ حضرت نوح علیہ السلام جان گئے کہ پانی اتر گیا ہے اور پرندہ زمین سے دانہ دنکا چگنے کے قابل ہو گیا ہے، جبھی تو واپس نہیں آیا۔

جب مشرف سے کیے گئے معاہدے کو تقریباً 5 برس بیت گئے تو ایک روز میاں صاحب نے اپنا “شہباز” پاکستان بھیجا۔ مشرف نے اسے واپس بھجوا دیا۔ وہ سمجھ گئے کہ طوفان ابھی نہیں تھما اور پھر کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے۔

جب خان صاحب 2013 کا الیکشن ہار گئے تو ان کے متعدد حواریوں اور ملک بھر میں جابجا پھیلے سیاسی پنڈتوں نے انہیں دیگر اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پی پی پی کے ساتھ مل کر نواز مخالف اتحاد بنانے کے مشورے دیئے۔ خان صاحب شیخ رشید کے ساتھ ملنے پر پیدا ہونے والا عوامی ردعمل دیکھ چکے تھے۔ انہوں نے انکار کر دیا۔

خان صاحب نے کہیں سے غیرمصدقہ اور غیرحتمی افواہ سن لی کہ امپائر انگلی کھڑی کر دے گا۔ وہ اسلام آباد چلے گئے۔ سڑک پر بیٹھ گئے۔ بیٹھے رہے۔ بیٹھے رہے۔ کسی نے ایک نہ سنی۔ تھک گئے تو واپس آ گئے۔ اگر نواز شریف کے طریقے پر چلتے اور پہلے اپنے کسی سجادہ نشین یا قابل ترین حواری کو اسلام آباد بھیج کر حالات کا پتہ لگوا لیتے تو اس قدر خاک نہ اڑتی۔

چند ماہ قبل سے کچھ درباریوں نے تخت اسلام آباد کے مالکوں کو مبارکبادیں دینا شروع کر رکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ راولپنڈی میں موسم بدل چکا ہے۔ اب انجوائے کریں۔ تخت اسلام آباد کے مالک آزمودہ کار کھلاڑی ہیں۔ وہ پوری دوا انجیکٹ کرنے سے قبل ٹیسٹ ڈوز لگانا ناگزیر سمجھتے ہیں چنانچہ انہوں نے پہلے ایک ایسا قدم اٹھایا جسے چند گھنٹے بعد “جزوی” کہہ کر “ری کنسڈر” یا “ریوائز” یا “امینڈ” کیا جا سکتا تھا اور پھر یہی ہوا۔ جونہی تیز ہوا نے اپنے پر پھڑپھڑائے شہرِ قائد میں موجود تخت اسلام آباد کے ایک دبنگ درباری نے سامنے آ کر بادبان کھول دیا۔

لہٰذا منتظر حضرات سے گزارش ہے کہ اپنے اپنے ٹی وی سیٹ سوئچ آف کر دیں اور سو جائیں۔ نہ تو کوئی اپنے اہل وطن کو عزیز جانے گا اور نہ ہی کوئی کسی چپ کا روزہ رکھے غائب ہوئے بیٹھے بھاری یا افتاد طبع کے ہاتھوں مجبور کھلاڑی کو کسی عبوری موسم میں باغوں میں جھولے جھولنے کے لیے پکارے گا۔

روحِ فیض سے معذرت کے ساتھ

نصیب آزمانے کے دن نہیں آ رہے ہیں
قریب ان کے آنے کے دن نہیں آ رہے ہیں
ابھی سے دل و جاں سرِراہ نہ رکھو
کہ لٹنے لٹانے کے دن نہیں آ رہے ہیں

سلمان نثار شیخ لکھاری، صحافی اور محقق ہیں۔ وہ اردو اور اقبالیات کی متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.