اس کی آنکھیں سوال کرتی ہیں، میری ہمت جواب دیتی ہے

1 548

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے پہلے ترجمان مولوی عمر کو سکیورٹی فورسز نے اگست 2009ء میں زندہ گرفتار کیا تھا۔ سوات کے طالبان کے ترجمان مسلم خان بھی زندہ پکڑے گئے تھے اور اب پہلے کالعدم تحریک طالبان اور پھر جماعت الاحرار کے ترجمان مقرر ہونے والے احسان اللہ احسان نے ازخود گرفتاری دے ڈالی ہے۔

کیا دہشتگردوں کے ترجمان اپنے دیگر ساتھیوں کی نسبت زیادہ بزدل ہوتے ہیں؟ کیا ان کی مبینہ بزدلی کا سبب یہ ہوتا ہے کہ بندوق کی بجائے تحریر و تقریر سے زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں؟ لیکن اگر ان کا اصل شعبہ تحریر و تقریر ہوتا ہے تو پھر یہ دہشتگردوں کے ساتھ کیوں مل جاتے ہیں؟ کیا ان کی معاشی مجبوریاں انہیں بے بس کر دیتی ہیں؟ کیا دہشتگرد بھی مجبور ہوتے ہیں کہ اپنے ساتھ کچھ بزدل لوگوں کو بھی شامل کر لیں؟ کیا حکمرانوں کی طرح دہشتگردوں کو بھی کچھ ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے کہ جو لفظوں کے کھیل میں اس قدر یدطولیٰ رکھتے ہوں کہ ان کے سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ ثابت کر سکیں؟

شاید ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں کہ جہاں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں کہ جو دہشتگردوں کا مؤقف یا جواز سننے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اسے کسی نہ کسی حد تک ماننے کا رجحان بھی رکھتے ہیں۔ جبھی تو دہشتگرد اپنی دہشتگردی کا جواز یا نام نہاد اخلاقی جواز پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور اس کیلئے وہ جواز سازی میں مہارت رکھنے والے کچھ دانشور بھی اپنی صفوں میں شامل کر لیتے ہیں۔

اگر یہ سوچ یا اس کا کچھ حصہ بھی درست ہے تو پھر ہمارا بڑا مسئلہ دہشتگرد نہیں بلکہ معاشرے کا وہ ذہنی پسماندہ طبقہ ہے کہ جو دہشتگردوں کے بیانیے کیلئے اپنے دلوں میں نرم گوشہ رکھتا ہے۔ ہمارا بڑا مسئلہ وہ مسلم خان، وہ مولوی عمر اور وہ احسان اللہ احسان ہیں کہ جو بندوق سے دوستی نہیں رکھتے اور جنگ کے فن سے بے بہرہ ہیں مگر پھر بھی جنگجوؤں کے بیانیے کو بھی بالکل اسی مدلل اور پرسکون انداز میں درست، جائز اور ناگزیر ثابت کر رہے ہوتے ہیں کہ جس طرح احسان اللہ احسان فوج کی گرفت میں آنے کے بعد پرسکون، مدلل اور عالمانہ شان کے ساتھ اپنے دس سال سے ساتھ رفقاء کو برائیوں کی جڑ قرار دے رہے تھے۔ عمومی تاثر تو یہی ہے کہ ایسے دہشتگرد جب ویڈیو بیان دیتے ہیں تو اس کا سکرپٹ سکیورٹی فورسز والے خود لکھ کر دیتے ہیں لیکن ترجمانوں کا معاملہ کچھ مختلف لگتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ اپنے گرفتار کرنے والوں کو بتاتے ہوں کہ یوں نہیں یوں بولوں گا تو تمہارا بیانیہ زیادہ شدت کے ساتھ واضح ہو گا۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر احسان اللہ احسان کے پاس وہ کونسی گیدڑ سنگی ہے کہ جس کی مدد سے یہ توپ و تفنگ سے بے بہرہ ہونے کے باوجود اور اپنے ڈیل ڈول سے دہشتگرد کم اور گوجرانوالہ کے گوشت خور پہلوان زیادہ معلوم ہونے کے باوجود تحریک طالبان یا جماعت الاحرار جیسی خونی جماعتوں کو چھوڑ کر نہایت خاموشی سے اور کسی بھی گزند سے محفوظ رہتے ہوئے سکیورٹی فورسز کی تحویل میں پہنچ جاتے ہیں اور پھر وہاں سے نہایت اطمینان کے ساتھ اور نہایت متبسم انداز میں اپنا بیان بھی ریکارڈ کروا ڈالتے ہیں۔ کیا یہ کسی نیکسس کا ظاہری مہرہ ہیں یا یونہی ایک بے ضرر سا کل پرزہ؟

ان کا ویڈیو بیان غور سے دیکھیں تو ایک ہی شعر ذہن میں گونجتا ہے:

اس کی آنکھیں سوال کرتی ہیں
میری ہمت جواب دیتی ہے

سلمان نثار شیخ لکھاری، صحافی اور محقق ہیں۔ وہ اردو اور اقبالیات کی متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Rizwan hussain کہتے ہیں

    ‏احسان الہ احسان کا اعترافی بیان اور سرینڈر مطلب سئو چوھے کھا کر بلی حج کو چلی
    اب دیکھنا ہے باقی طالبان لیڈر کے سئو چوھے کب پورے ہوتے ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.