وہ زندہ لوگ میرے گھر کے

0 16,128

جیسا کہ کہا تھا کہ مشال خان کا خون کسی میڈیا ہاؤس کو پانامہ میراتھون نشریات جیسی ریٹنگ نہیں دِلوا سکتا۔ اسی طرح گزشتہ پانچ روز میں عام پاکستانی بھی بھول چکا ہے کہ مردان میں ایک تیئس سالہ نوجوان کِس جہالت بھری بے حسی کا شکار ہوا۔ پانامہ کیس کا محفوظ کردہ فیصلہ 20 اپریل کو سنایا گیا تو کسی نے کہا “چلو! میڈیا اور عوام میں مشال کا معاملہ یوں بھی اپنی طبعی عمر سے زیادہ دِن جی لیا تھا۔۔” یہ تبصرہ نہیں ہماری اجتماعی ترجیحات کا بدبودار خلاصہ ہے۔

14 اپریل سے اب تک کبھی قتل میں شامل کسی مبینہ سہولت کار یا ورغلانے والے کی گرفتاری کی خبر چند منٹ کے لئے سامنے آتی ہے تو کبھی کوئی ویڈیو کلپ کہ جس کا اردو ترجمہ کروانے کے لئے دوستوں سے رابطہ کرنا پڑتا ہے۔ ایک ویڈیو کے حوالے سے ڈاکٹر تقی سے مدد لی تو جو جملے سمجھ میں آئے کچھ یوں تھے “اگر وہ (مشال) مسجد میں بھی چھپا ہو تو اسے قتل کر دو۔ وہ مرتد ہے۔ اگر اس کے پیچھے یورپ اور امریکہ کا ہاتھ ہے تب بھی وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم اس کے پیچھے جیل تک جائیں گے۔ اگر وہ ہمارے ایمان کو نقصان پہنچاتا ہے تو (والدہ کو گالی) ۔۔۔ لبیک لبیک الھم لبیک”۔۔۔ اس ویڈیو میں لوگوں کے چہرے باآسانی شناخت کئے جا سکتے ہیں۔ اشتعال اور وحشت کا برہنہ رقص ہی تو تھا۔

مشال کا زخمی ساتھی عبداللہ کہتا ہے کہ خدائی فوجداروں نے کلمہ طیبہ سن کر اس کا اردو اور پشتو ترجمہ سنانے کو کہا۔ متاثرہ طالبعلم کے بیان کا یہ حصہ پڑھتے خیال یہی آیا کہ بھلے وقتوں میں مختلف جامعات کی خاک چھانتے فارغ التحصیل ہو گئی تھی ورنہ مشکل ہو جاتی۔ ماضی میں جھانکنا پڑے گا، کب اور کہاں ایسا کچھ ہوا جس نے عدم برداشت کا پارہ اس حد تک بڑھا دیا کہ لوگ ذاتی عناد اور اختلافِ رائے پر مذہب کارڈ اس بے دردی سے کھیلنے لگے۔

دادی کے وقت میں ہمارے ابا کی ابتدائی تعلیم میں مسیحی استانی کا مقام اس قدر بلند سمجھا گیا ہے کہ آج تک ان کی پینشن کے دفتری معاملات ابا نمٹایا کرتے ہیں جبکہ ایک اور غیرمسلم کمیونٹی کی استانی صاحبہ بیرون ملک سے جب بھی پاکستان آتی ہیں تو ان کے شاگرد سلام کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ کچھ فاسٹ فارورڈ کروں تو مجھے یاد ہے کہ ہماری کالونی میں ہر کمیونٹی کے گھرانے آباد تھے۔ دِن تہوار اور خوشی غمی میں بلاتخصیص شرکت لازمی ہوا کرتی تھی۔ یہ میٹرک کی بات ہے جب میر انیس کا مرثیہ سمجھانے والی مِس شبیہہ کے بارے میں کسی کلاس فیلو نے ان کے مسلک پر سرگوشی کی۔ ناگوار گزرا اور جب اماں کو بتایا تو نصیحت یہی آئی کہ “پڑھائی سے کام رکھو۔

کسی کے ایمان عقیدے کی رکھوالی کی ذمہ داری اٹھانے ہم سکول نہیں بھیجتے۔” ۔۔۔ مجھے یاد ہے کہ ایف۔ایس۔ای میں اردو کی پروفیسر (جو کہ ابا کی استانی کی چھوٹی بہن تھیں) دو ڈھائی سو طالبات کو نعت کی تشریح سمجھا رہی تھیں اور کالج پرنسپل مجھے دیوار کی اوٹ میں چھپ کر کھڑی دکھائی دی تھیں۔ اس روز پلے گراؤنڈ میں تمام کالج طالبات کو جمع ہونے کا کہا گیا تھا۔ کسی باجی نے جہاد پر لیکچر دینا تھا اور ایک جہادی تنظیم کے کتابچے تقسیم کئے گئے۔ اس روز میں نے بہت سی لڑکیوں کو اپنی زندگی پر نادم دیکھا۔ کئی ایک نے تو سال بھر کے ماہنامے اور دیگر مواد کی سبسکرپشن کا ارادہ بھی کیا۔۔۔ اس دن ہم چپکے سے کھسک کر کیفے ٹیریا میں دو سموسے اور مرنڈا کی پارٹی اڑاتے پکڑے گئے تھے۔۔۔ یونیورسٹی میں ایک دوست طالبہ کا مخصوص گاؤن کی بنیاد پر بائیکاٹ ہوتے دیکھا۔ ایسا نہیں کہ اس سب کے دوران باقی سب سکھ چین تھا۔ جھنگ میں پھوٹے فسادات نے کچھ اپنوں کو چھینا لیکن اس کے باوجود ہماری درسگاہیں، محلے اور میڈیا پر انسانوں کے خون سے الاؤ تاپنے کا رواج یکدم نہیں آیا۔ برسوں ایک مخصوص نہج پر اذہان کو ہانکا گیا ہے۔

ریلوے کالونی میں گزرے بچپن کو یاد کروں تو ریلوے ٹریک سے لوہے کا ٹکڑا یا سائیکل چرانے والا جب بھی شہریوں کے ہاتھ لگا اس کے سر اور بھنویں مونڈھ کر خوب درگت بنا کر گدھے کی سواری کروانے کی خبر مِلی۔ جیب کترا پکڑا جائے یا بازار میں کوئی خاتون چور تو دکاندار اپنی کاروباری فرسٹریشن اور راہگیر اپنے گھریلو و معاشی تناؤ کے لئے پنچنگ بیگ سمجھ کر ٹوٹ پڑتے۔ پھر ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگیں۔ لوگ “جسٹ آن دا سپاٹ” پر ورچوئل تھپکیاں دینے لگے۔ کچھ برس قبل تک کراچی اور دیگر جگہوں پر دن دیہاڑے (مبینہ طورپر) ڈاکو زندہ جلانے کی خبروں پر “ہجوم کا انصاف” جیسی بریکنگ نیوز چلتی رہی ہیں۔ پھر سانحہ سیالکوٹ ہو گیا۔ حجرہ شاہ مقیم سے نویں جماعت کا طالبعلم بھی فراموش کیا جا چکا ہے۔ بچہ بے دھیانی میں اٹھے ہاتھ کو گستاخی سمجھ کر وہی ہاتھ ٹوکے سے کاٹ کر پلیٹ میں رکھ کر امام مسجد کو پیش کر دے تو ریاستی مشینری کوئی کارروائی سے قاصر یوں رہ گئی کہ اہلِ علاقہ اور متاثرہ گھرانے میں سے کوئی بھی مکمل حقیقت بتانے کو تیار نہ ہوا۔ لُبِ لباب یہ بنا کہ نہ کسی نے اکسایا اور نہ کوئی دباؤ میں آیا۔ بحیثیت معاشرہ ہمارا یہ بیانیہ ارتقائی منازل طے کرتا آج اس مقام پر آ پہنچا ہے۔ کوئی کہیں رکا نہیں، روکا ہی نہیں گیا۔

لاہور میں چرچ پر خود کش حملوں میں سترہ مسیحی جان سے گئے تو بدلے میں دو مسلمان مزدوروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مشتعل ہجوم ان زخمیوں کو پولیس کی تحویل سے نکال کر لے گیا اور زندہ جلا دیا۔ اس وقت انسانوں کا ہجوم ان جلتے ہوئے انسانوں کی تصاویر اور ویڈیوز بنا رہا تھا لیکن انسانی جسم کے جلنے کی بدبو کے باعث ناک منہ رومال سے ڈھانپ رکھے تھے۔ انسانیت سستی ہو گئی۔ غیرت کے نام پر قتل میں گھر کی دہلیز پر تڑپتی بچی بھی تھی کہ جس کی آخری سانسوں کی تڑپ موبائل فونز پر ریکارڈ کرنا اہلِ محلہ کے لئے زیادہ ضروری تھا۔ کسی استاد کو درخت سے باندھا گیا، کسی شاگرد کو رُلا رُلا کر ویڈیو بنائی گئی تو کسی مسجد کی سیڑھیوں سے لٹکتے برہنہ بچے کی لاش۔۔۔ سب کچھ تصاویر اور ویڈیوز میں قید کرنا لازمی بن چکا ہے۔ شاید ہم تماش بین فطرت کے مالک ہجوم ہیں۔

یوحنا آباد ہو، جوزف کالونی ہو یا کوٹ رادھا کشن۔۔۔ بارہ ربیع الاول پر دولمیال ہو جائے یا پھر کسی خاص کمیونٹی سے تعلق رکھتے وکلاء، ڈاکٹرز اور پروفیسرز کی نسل کشی۔۔۔ مذہب کے نام پر خون میں سَنے ہاتھ اور زبانوں پر جاری نفرت بھرے کلمات ہماری پہچان بنتے جا رہے ہیں۔ بات یہاں آ کر ٹھہرتی نہیں۔ وہ لوگ جو ایک پلیٹ فارم سے لوگوں کو تکفیرت کے سرٹفکیٹ بانٹتے رہے المیہ یہ ہے کہ وہی مختلف سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر انسانیت کا پاٹ پڑھاتے ہیں۔ دوسروں کی زندگیاں مشکل بنا دینے والوں کے ہمدرد آج باہمی برداشت کا لیکچر دیتے ہیں اور بیانیہ میں بہادری و بزدلی کے فیصلے وہ کر رہے ہیں جو کسی پر لگے الزامات سے گھبرا کر اعلانِ لاتعلقی یا اپنے اکاؤنٹس ڈی ایکٹیویٹ کر کے غائب ہو جایا کرتے ہیں کہ کہیں ان پر کوئی آنچ نہ آجائے۔

مردان کے واقعہ کے بعد پسرور میں ممتاز قادری کو ہیرو سمجھنے والی تین بچیوں نے جس طرح قتل کی واردات کی ہے اس پر سوچنے کی فرصت کسی کے پاس نہیں۔ آٹھ برس کی عمر سے ایک بچی دِل میں قتل کا منصوبہ بناتی رہے اور تیرہ برس بعد ہم خیال سہیلیوں کے ساتھ کسی انسان کی جان لے بیٹھے تو سوچنے کا فریضہ کون ادا کرے گا؟ سوچ کی ڈگر تبدیل کرنے کی فراغت کسی کے پاس نہیں۔ ابھی نہ جانے کتنے معصوم ذہن اسی سمت سفر کرنے والے بنیں گے۔ اور بقول محسن نقوی

؏ زمیں کی پیاس اسی کے لہو کو چاٹ گئی
والا سلسلہ چلتا رہے گا

کون سمجھائے گا کہ جرم کی نوعیت کچھ بھی ہو لیکن عام مسلمان شہری “حد” کی سزا نہیں دے سکتا؟ عام شہریوں کا خود قاضی یا منصف بن جانا خطرناک صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ہمارے ہاں ٹی۔آر۔پی لیکن کسی اداکارہ کی طلاق کے حوالے سے شوز کرکے ملتی ہے۔ خشک موضوعات پر رسک کوئی نہیں لے گا۔

اکیس اپریل کو چترال میں شاہی مسجد کے خطیب مولانا خلیق الزماں نے بروقت معاملہ فہمی نہ دکھائی ہوتی تو قطر سے آئے پینتیس سالہ ذہنی مریض راشدالدین کا انجام شاید مشال خان سے زیادہ المناک ہو جاتا۔ اس واقعہ کا علم چترال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ممتاز کی ایک ٹوئٹ سے ہوا۔

چترال پرامن لوگوں کا مسکن سمجھا جاتا ہے۔ جہاں اسماعیلی کمیونٹی بڑی تعداد میں آباد ہے۔ مذہبی اعتبار سے تنوع میں گندھا چترال اسی کی دہائی میں اِکا دُکا واقعات کے علاوہ طالبان کے دِنوں میں بھی اندرونی طور پر پُرسکون روادار معاشرتی ماحول بنائے رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ معاشی عدم استحکام کے باوجود شرح خواندگی 80 سے 85 فیصد بتائی جاتی ہے۔ گزشتہ دو تین روز کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں، (چند شرپسند عناصر کے علاوہ) مذہبی و سیاسی رہنماؤں اور مقامی افراد نے جس طرح سے مذہبی آگ کو پھیلنے سے روکا ہے وہ جہاں قابلِ ستائش ہے وہیں تشویشناک بھی ہے کہ ایسے پرامن لوگ اگر اس قدر بھڑک سکتے ہیں تو ریاست کے باقی علاقے کِس آتش فشاں پر زندگی گزار رہے ہیں۔

خدانخواستہ چترال میں ہجوم کا انصاف برپا ہو جاتا تو بھی یقین مانیے چند گھنٹوں کے بعد ہمارے لیے “ترجیحی بنیادوں پر” زیادہ اہم پانامہ کیس کے فیصلے میں اختلافی نوٹ اور جے۔آئی۔ٹی جیسے موضوعات ہی ہوتے۔ اگر آپ کو کچھ شک ہے تو مشال خان کا چہرہ یاد کرنے کی کوشش کیجیے

عذاب آئے تھے ایسے کہ پھر نہ گھر سے گئے
وہ زندہ لوگ مِرے گھر کے جیسے مَر سے گئے

افشاں مصعب زندگی پر لکھنا پسندکرتی ہیں – سیاست ، سماجیات اور نفسیات ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں – متعدد بلاگ پیجز پر ان کی تحاریر شائع ہو چکی ہیں – افشاں اسلام آباد میں مقیم ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.