آزادئ صحافت کو خطرہ کس سے؟

0 233

آزادیء صحافت پر کچھ باتیں لکھنے کا من چاہ رہا تھا۔ یہ صحافی بھڑوں کے جھتے میں ہاتھ ڈال دیتے ہیں۔ حکمرانوں کے کرتوتوں کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں۔ انہیں ڈر نہیں لگتا؟

انسان بالعموم شوق کمال کے باعث ضمیر بیچتا ہے یا خوف زوال کے پیش نظر سمجھوتہ کرتا ہے۔ اسی طرح آزادیء صحافت کو بھی ہمیشہ دو چیزوں سے خطرہ رہتا ہے۔ ایک خوف اور دوسرا لالچ، لیکن مار پیٹ یا پھر ایجنسیوں کی جانب سے اٹھا لیے جانے کے خدشات سر اٹھاتے ہیں۔ میرا اب تک کا مشاہدہ ہے کہ آزادیء صحافت کو سب سے بڑا خطرہ ان ترغیبات اور مالی و سماجی ثمرات سے ہے جو سچ کو چھپا لینے پر انعام کی صورت میں صحافیوں کو حاصل ہوتے ہیں۔

میں یہ بھی سوچنے پر مجبور ہوں کہ آج صحافت زیادہ آزاد ہے یا پہلے کا دور اچھا تھا۔ مجھے تو لگتا ہے ابتلا و آزمائش کا وہ پرانا زمانہ اچھا تھا جب کھرے کھوٹے کی پہچان تھی۔ معلوم تھا کہ سچ لکھیں گے تو کوڑے پڑیں گے اور جیل جائیں گے۔ جو شخص زیر عتاب ہوتا اسے قارئین حق گوئی کا سرٹیفکیٹ دے دیتے جس اخبار کے اشتہار بند ہوتے اس کی پذیرائی بڑھ جاتی۔ مجھے تو ایوب، بھٹو اور ضیاء کا دور زیادہ بہتر محسوس ہوتا ہے کیونکہاس دور میں ناپسندیدہ اخبارات کے ڈیکلریشن منسوخ ہو جاتے، خبریں سنسر کر دی جاتیں حتیٰ کہ حق گوئی کے مرتکب جیلوں میں ڈال دیے جاتے لیکن ایڈیٹروں اور کالم نگاروں کی خرید وفروخت نہیں ہوتی تھی۔ اینکرز اور رپورٹرز کو سرکاری خرچ پر حج اور عمرے نہیں کرائے جاتے تھے۔ صاف معلوم ہوتا کہ کون درباری صحافی ہے اور کون حق اور سچ کا علمبردار۔

پھر سوچتا ہوں کہ شعبہ صحافت میں بہتری تو آئی ہے۔ آج کل کتنی خوشحالی ہے، تب تو صحافیوں کو تنخواہیں ہی نہیں ملتی تھیں۔ اس وقت اور موجودہ حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ کل صحافی مفلوک الحال تھا اور قلم زرخیز، مگر آج صحافی خوشحال ہے تو قلم بانجھ اور زبانیں گونگی۔ کل تک صحافی محض گرفتار ہوتے تھے، آج غائب کر دیے جاتے ہیں۔ اس پرفتن دور میں محض چند صحافی شہید ہوئے جنہیں انگلیوں کی پوروں پر گنا جا سکتا ہے، مگر صحافی آزادی کے اس مثالی دور میں گزشتہ 16 سال کے دوران 150 صحافی موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ یونسیکو کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان صحافیوں کیلئے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔ بظاہر تو صحافیوں کو سب کہنے کی آزادی ہے اور ہر جگہ تک ان کی رسائی ہے۔ ہر جگہ انہیں جانے کی اجازات ہے مگر جو “نو گو ایریاز” ہیں وہ سب کو ازخود معلوم ہیں۔

بزرگ صحافی ہمیں بتاتے ہیں کہ جج اور جرنیل کیخلاف احتیاط سے بات کرنا کیونکہ جج بدلا لیتے ہیں اور جرنیل اٹھا لیتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر منظور نظر اور من پسند افراد کو نوازنے کی بات کر رہا ہوں جس میں سرکاری پروٹوکول، گاڑیاں، رہائش، دفتر، غیر ملکی دورے اور اس طرح کی دیگر ترغیبات شامل ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ صحافیوں کی اکثریت ایماندار اور پرہیزگار ہے۔ میڈیا سے وابستہ بہت سے پرہیز گار افراد شعوری کوشش کے نتیجے میں مالی ترغیاب جیس آسائشوں سے تو اپنا دامن بچا لیتے ہیں لیکن چنگاری کی مانند یہاں خانہ دل میں سلگتی قرب شاہی کی آرزو ہمیشہ تشنہ رہتی ہے۔ اقتدار کی غلام گردشوں سے جڑے رہنے کی خواہش نہیں جاتی۔ اصحاب اقتدار سے یارانے ٹوٹ جانے کا خوف پیچھا نہیں چھوڑتا اور یوں پاکیزہ صحافت کے بڑے بڑے علمبردار اپنی سوچ آلودہ کر بیٹھے ہیں۔

میرے خیال میں حکمرانوں کی دوستیاں خراب کرتی ہیں۔ جب انسان یہ سوچ کر نہال ہوتا ہے کہ فلاں وزیر مجھے دن میں پانچ مرتبہ فون کرتا ہے۔ اسے جھنڈے والی گاڑی میں بٹھایا جاتا ہے۔ چیف منسٹر دورے پر اپنے ہیلی کاپٹر میں ساتھ بھٹا لیتا ہے تو قلم اور آواز میں سکنت آ جاتی ہے۔ آزادیِ صحافت کو یقینی بنانے میں قارئین کا بھی ہاتھ ہے۔ پروگرام کی ریٹنگ خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے یا پھر عوامی ردعمل کا خوف سچ بولنے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ سیاسی جماعتیں دھمکاتی ہیں، تصویریں جلائی جاتی ہیں، انٹرنیٹ پر بہیودہ گالیاں دی جاتی ہیں اور مالکان پر دباؤ ڈال کر نوکری سے نکلوا دیا جاتا ہے۔ یہ سب ہتھکنڈے آزادیء صحافت کیلئے سنگین خطرہ ہیں اور باقی خطرات کی طرح ان دیکھے خطرات کی بھی نشاندہی کرنی چاہیے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.