ڈرتا ہوں کچھ کہا تو زمانہ خفا نہ ہو

0 794

میری آنکھ کھلی تو آفتاب کی کرنوں سے کمرہ جگمگا رہا تھا اور نیلے پردے ہوا سے پھڑا پھڑا رہے تھے۔ میں نے انگڑائی لی۔ طبیعت کچھ بوجھل سی تھی۔ خیر گرم پانی سے غسل کر لینے کے بعد ساری سستی اور درماندگی دور ہو گئی۔ آج بازار گھومنے کا پروگرام تھا۔ لہٰذا تیار ہو کر میں لان میں آیا اور ماں جی سے ناشتہ لگانے کا کہا۔ کچھ دیر میں ماں جی نے پر تکلف ناشتہ لگا دیا تھا۔ ناشتے کے دوران میں نے چاچا سے گاڑی تیار کرانے کا کہا۔ ذراسی دیر میں ڈرائیور مشتاق گاڑی لئے حاضر تھا۔

“زلفی صاحب! سلام علیکم” مشتاق نے مخصوص انداز میں سلام کیا۔

“وعلیکم السلام ” میں نے ہلکے سے تبسم کے ساتھ جواب دیا۔

“تم جاؤ! آج میں گاڑی خود لےکر جاؤں گا”۔

آدھے گھنٹے بعد گاڑی پارک کرکے بازار کی طرف آ رہا تھا۔ بازار خوبصورت دوپٹوں اور حسین چہروں سے خوب آراستہ تھا۔ میں خراماں خراماں چل رہا تھا اور آتے جاتے چہروں کا بغور مطالعہ کر رہا تھا۔ اچانک میرا کندھا کسی سے ٹکرایا، سر گھما کر دیکھا تو ایک گل رخ، قاتل نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی، ہلکے سبز رنگ کی کاٹن پہنے، کالی آنکھوں اور گورے ہاتھوں والی مہ جبیں نے مجھے مسرور کر دیا۔ اس نے تبسم کے ساتھ “sorry” کہا اور ایک انداز سے چل دی۔

میرے دل کی تاروں کو اس کی ہنسی نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ قدرے احتیاط کے ساتھ اس کا پیچھا کیا۔ مجھے اطمینان ہوا کہ وہ اکیلی تھی۔ وہ پھولوں کی ایک دکان کی طرف گئی تو میں بھی “ہمر کاب” تھا۔ پھولوں پر نظریں جمائے وہ کن انکھیوں سے مجھے بھی دیکھ رہی تھی۔ اچانک اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور ایک طرف کو چل پڑی۔ میں مسحور انداز میں اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ تھوڑی دیر میں وہ میری گاڑی کے قریب پہنچ چکی تھی۔

میں نے فوراً دروازہ کھولا۔ وہ چپ چاپ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔ میں نے حیرانی، خوشی اور پریشانی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ گاڑی سٹارٹ کی، وہ مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ سامنے دیکھنے میں مصروف تھی۔ میں نے گاڑی ایک ویران سڑک کی طرف موڑ دی۔

اس کا نام پوچھا اس نے اپنے مرمریں ہاتھوں سے زلف پریشاں کو چہرے سے پرے ہٹایا اور میری طرف دیکھا۔ میں نظارہ جاناں میں محو ہوا ہی چاہتا تھا کہ اس نے میری طرف ہاتھ بڑھایا ۔اف! یہ کیا ۔۔۔۔۔۔ میرا سر۔۔۔۔۔ اوہ!

ایک سپاہی سٹرک کے کنارے مجھے جگاتے ہوئے پوچھ رہا تھا “ارے بھائی! کہیں اور نیند نہیں آئی تمہیں؟

“ارے میری گھڑی میرا بٹوا ، میری کار۔۔۔۔۔۔۔۔۔! وہ  ۔۔۔۔وہ”

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.