اللہ کی انسان کے لیے سب سے بڑی نعمت کیا ہے؟

1 568

دنیا کے کسی بھی انسان کی سب سے بڑی خوبی اُس کی مسکراہٹ ہے جو کہ اللہ تعالی کا انعام جبکہ انسان کی سب سے بڑی خامی اس کا غرور اور تکبر جو کہ اللہ تعالی کے غضب کا باعث بنتا ہے۔ دُنیا کی سب سے بڑی کامیابی اپنی ذاتی کامیابی کو محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم قرار دینا ہے جبکہ سب سے بڑی ناکامی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ملنے والی کامیابی کو اپنی کامیابی قرار دینا ہے۔

مسکراہٹ ہر صوفی، ہر نیک عالم اور ہر اصلی دانشور کے چہرے کا ٹریڈ مارک ہوتی ہے۔ یہ مسکراہٹ آپ کو تاریخ میں ان کامیاب چہروں پر ملے گی جنہوں نے اپنی زندگی اس انداز سے گزاری کہ دوسروں کو یہ مسکراہٹ کا ہدیہ اور تحفہ تقسیم کرتے رہے۔ یہ مسکراہٹ آپ کو عبدالستار ایدھی، نیلسن منڈیلا، بابا بلھے شاہ ؒ سے لے کر شاہ حسین، بابا فرید ؒ، میاں محمد بخشؒ اور امام غزالی سے لے کر مولانا روم تک ہر چہرے پر دکھائی دے گی۔ یہی مسکراہٹ ان کی کامیابی کی علامت تھی۔

جو انسان اپنی اس مسکراہٹ اور کامیابی کو محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم قرار دیتا ہے، اس کی مسکراہٹ نہ صرف تاحیات تروتازہ رہتی ہے بلکہ بعد ازموت بھی اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے کا نام لوگوں کے دلوں میں زندہ و تابندہ رکھتا ہے جبکہ جو شخص دُنیا میں ملنے والی کامیابیوں کو ذاتی کوشش، کاوش، جدوجہد اور محض اپنی محنت کا نتیجہ قرار دیتا ہے، اس میں اس سوچ کی وجہ سے غرور اور تکبر پیدا ہو جاتا ہے۔ دُنیا میں تکبر کی سب سے بڑی شکل سیلف میڈ ہے۔ جب کوئی انسان اپنی تمام تر کامیابیوں کو سیلف میڈ کا نام دیتا ہے، تو وہ نہ صرف اللہ تعالیٰ اور فطرت کی نفی کرتا ہے بلکہ وہ تمام انسانوں کے احسانات اور مہربانیوں کو بھی روند ڈالتا ہے، جنہوں نے اس کی کامیابیوں میں مرکزی کردار ادا کیا ہوتا ہے۔ یہ دُنیا کا بدترین تکبر ہے جو دُنیا کے ذہین وفطین اور کامیاب حکمرانوں کو فرعون اور نمرود بنا دیتا ہے۔ یہ تکبر اُنہیں ناصرف ناکامیوں کی طرف لے جاتا ہے بلکہ اس تکبّر اور غرور کی آخری کڑی ان کو تنہائی کا شکار کر دیتی ہے۔

اس کے مقابلے میں کامیاب لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوتا ہے۔ جب وہ اپنی تمام تر کامیابیوں کو محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور کرم قرار دے دیتے ہیں، تو قدرت آسمانوں سے لوگوں کے دلوں میں اُن کی محبت ڈال دیتی ہے۔ لوگ اُن کے پاس کھنچے چلے آتے ہیں اور اُن کے آستانے آباد رہتے ہیں۔ جو لوگ اپنی تمام تر کامیابیوں کو محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور کرم قرار دے دیتے ہیں، قدرت اُن سے بدرجہا اتم خوش ہو جاتی ہے اور کامیابیاں ان کا مقدر بن جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو کروڑوں اور اربوں لوگوں میں سے کامیابی کے لیے خصوصی طور پر چُنتا ہے، انہیں وژن اور آئیڈیاز دیتا ہے، ان کو محنت کرنے کی طاقت اور ہمت دیتا ہے اور ان کو اپنے بندوں کو راضی کرنے کے تمام تر گُر سکھا دیتا ہے۔ ان کو دوسرے بندوں کے مقابلے میں اچھی صحت اور بیش بہا توانائی عطا کر دیتا ہے۔ ان کی کامیابی کے لیے خصوصی مواقع پیدا کر دیتا ہے۔ ان کے لیے اپنی قدرت کاملہ سے کامیابی کے تمام دروازے کھول دیتا ہے۔ معاشرے کے بااثر اور اہم لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے محبت اور ہمدردی ڈال دیتا ہے اور آخر میں تمام لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان کو کامیاب تسلیم کر لیں اور ان کی زبانوں سے اس بات کا اقرار کروا دیتا ہے۔

ایک مرتبہ ہم اپنے روحانی بابا جی کی محفل میں بیٹھے تھے تو اُنہوں نے سوال کر دیا اچھا تم سب بتاؤ کہ ’’اللہ تعالیٰ نے انسان کو سب سے بڑا تحفہ کیا دیا تھا؟‘‘۔ میں نے تھوڑی دیر سوچا اور عرض کیا کہ شعور، لیکن اُنہوں نے انکار میں سر ہلا دیا۔ میں نے عرض کیا عقل، وہ فوراً بولے شعور اور عقل ایک ہی چیز کا نام ہے۔ کسی نے کہا آکسیجن، سورج کی روشنی، پانی، خوراک اور جمالیاتی حس، اُنہوں نے سب رد کر دیے ایک دانشور قسم کی شخصیت بولی فی زمانہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی، اُنہوں نے ناں میں سرہلا دیا۔ کسی نے عرض کیا تعمیر کا فن، انسان کائنات کی واحد مخلوق ہے جو پتھروں کو ہیرے کی شکل دے دیتی ہے، جو مٹی کو محلوں میں تبدیل کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا جی نہیں! ایک شخص کھڑا ہوا اُس نے انسان کی تمام صلاحیتوں اور خوبیوں کو گننا شروع کر دیا۔ بابا جی مسلسل انکار میں سر ہلاتے رہے جب وہ بے بسی کی تصویر بن کر بیٹھ گیا تو محفل میں سکوت طاری ہو گیا۔ اب بابا جی اپنی روایتی مسکراہٹ کے ساتھ نرم لہجہ میں بولے آپ نے انسان کی جن خوبیوں اور صلاحیتوں کا ذکر کیا یہ سب اللہ تعالیٰ کی دین ہیں اور جب تک قدرت چاہتی ہے، یہ خوبیاں انسان میں قائم و دائم رہتی ہیں اور جب اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے تو انسان کی تمام تر خوبیاں اُس کی خامیاں بن جاتی ہیں۔ اب میں آپ کو اللہ تعالی کے سب سے بڑے تحفے کا بتاتا ہوں، سب لوگ ہمہ تن گوش ہو گئے تو بابا جی نے فرمایا کہ ’’قدرت نے انسان کو اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کی صلاحیت سے نواز رکھا ہے۔ دُنیا کی کوئی دوسری نوری یا خاکی مخلوق اس خوبی کی مالک نہیں ہے، لہذا اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کا فن صرف انسان جانتا ہے جبکہ اللہ کی مخلوق کو خوش کرنے کا فن بھی یہی انسان ہی جانتا ہے۔ دُنیا میں ایسے رہو جیسے پھول۔ دیکھو پھول کی زندگی چند روزہ ہوتی ہے، مگر اس کا جوبن اور مختصر سی زندگی انسانی نگاہوں کو فقط یہ پیغام دینے آتی ہے کہ موت سے فرار ممکن نہیں، اس لیے جب تک زندہ ہو مہکتے رہو، کھِلے رہو، خوشبو بکھیرتے رہو اور زندگی کا پیغام دیتے رہو اور اسی مسکراہٹ کے ساتھ دُنیا سے رخصت ہو جاؤ۔

یاد رکھو! دُنیا کا ہر الہامی مذہب حسنِ اخلاق پر زور دیتا ہے اور اس اخلاق کا مرکز و محور مسکراہٹ ہوتی ہے۔ مسکراہٹ جو دلوں کو مسخر کرتی اور اُمید کے چراغ روشن کرتی ہے۔ اُسی مسکراہٹ سے دُنیا میں بعض اوقات وہ کام جو آپ کے ذرائع اسباب اور روپیہ پیسہ نہیں کروا سکتے وہ کام محض ایک مسکراہٹ سے بھی ہو جاتا ہے۔ مسکراہٹ ایک ایسا صدقہ ہے جو بلا قیمت مگر بیش قیمت ہوتا ہے۔ سچی مسکراہٹ دل کا پھول، چہرے کا نور اور قدرت کا ظہور ہوتی ہے۔ مسکراہٹ زندگی کا پیغام، خزاں میں بہار، تاریکی میں روشنی، دُکھوں کا مداوا حتیٰ کہ زندہ رہنے کا سب سے بڑا آسرا ہوتی ہے۔ ہنستا مسکراتا چہرا ہی انسان کو بھلا لگتا ہے۔ دیکھو! آج سے تہیہ کر لو کہ اس تحفہ خداوندی کا شکر تمام بنی نوع انسانیت میں مسکراہٹ کا تحفہ بانٹ کر کرنا ہے۔ ہم میں سے اگر ہر انسان اس وصف کو اپنا لے تو یہ دُنیا ہی ہمارے لیے جنت کا منظر پیش کرنے لگے گی اور یہ وہ خوبی ہے جس سے کائنات کا انسان دوسرے انسان کو مسخر کر سکتا ہے۔ اگر دُنیا میں اس نعمت کی بہتات ہو جائے تو نفرتوں کا نام و نشاں صفحہ ہستی سے مٹ جائے اور دُنیا امن اور سکون کا گہوارہ بن جائے، ہر طرف پیار، محبت، خوشی، خوشحالی، یگانگت نظر آنے لگے۔ انسانوں میں غصّہ، نفرت، ضد، تکبر اور ہٹ دھرمی کا خاتمہ ہو جائے اور یہی دُنیا کے ہر انسان کی فطرتی خواہش بھی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.