کرکٹ یا کوڑا کرکٹ

0 285

کرکٹ کا لفظ کُوڑے کے ساتھ کیوں لگایا جاتا ہے؟ ایک غور طلب بات ہے۔ میرے خیال میں اگر کرکٹ کا لفظ اتنا ہی معتبر ہوتا تو کوڑے کی عزت میں اضافہ کرنے کے لیے ہرگز نہ لگایا جاتا۔ بہرحال کرکٹ ایک کھیل کا نام بھی ہے جو ان گوروں کا قومی کھیل بتایا جاتا ہے جو کبھی برِصغیر پاک وہند کو اپنی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور یہ کرکٹ بھی انہیں کی نشانی ہے۔ ہم نے بظاہر تو گوروں سے آزادی حاصل کر لی لیکن اپنے سابقہ آقا کی بہت ساری باتیں بڑے فخر سے اپنائے ہوئے ہیں جن میں سے ایک کرکٹ بھی ہے۔

کرکٹ پاکستان میں دیوانگی کی حد تک کھیلا اور پسند کیا جاتا ہے۔ کرکٹ کبھی شریفوں کا کھیل بھی تصور کیا جاتا تھا۔ اسے صرف نرم خو اور امن پسند لوگ وقت گزاری کے لیے کھیلتے تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب کرکٹ میں پیسہ نہیں تھا، صرف شرافت سے کام چلایا جاتا تھا۔ اب تو کرکٹ کمرشلزم کی وجہ سے جوا مافیا کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے اور پیسہ بنانے کا ایک ذریعہ ہے جس میں کھلاڑیوں سے لے کر ارباب اختیار تک ملوث پائے جاتے ہیں۔ ویسے تو کھیل ایک اہم مثبت سرگرمی ہے جو نوجوانوں کو صحت مند رکھنے کے ساتھ ساتھ ان میں ڈسپلن اور وقت کی قدر جیسی خوبیاں پیدا کر کے انہیں معاشرے کا مفید فرد بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ لیکن کیا کرکٹ بھی ایسا کھیل ہے جس سے یہ مقاصد حاصل ہو سکیں؟

ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا کرکٹ کا کھیل ان مقاصد کو پورا کر رہا ہے جو ہم باقی سب کھیلوں کو چھوڑ کر کرکٹ کے فروغ کے لیے پاگل ہوئے جا رہے ہیں۔ کرکٹ نے ہماری قوم اور نوجوان نسل پر کون سے مثبت اثرات ڈالے ہیں؟۔ کرکٹ میں دوسرے کھیلوں ایتھلیٹکس، فٹ بال، ہاکی اور کبڈی وغیرہ کی نسبت کوئی جسمانی مشقت نہیں ہے جس سے صحت کے مقاصد پورے ہو سکیں اور نہ ہی کرکٹ سے کھلاڑی میں کوئی ڈسپلن پیدا ہوتا ہے، وقت کی پابندی کیا خاک سیکھنی ہے۔ کرکٹ سے بڑھ کر کوئی کھیل وقت ضائع کرنے والا نہیں ہے۔ سٹوڈنٹ سارا سارا دن ایک میچ میں ضائع کر دیتے ہیں۔ اس کھیل میں پیسہ، شہرت اور گلیمر کی چکا چوند دیکھ کر ہر نوجوان قومی ٹیم میں پہنچنے کا خواب دیکھتا ہے۔ بہت سے نوجوان تو اپنے تعلیمی سلسلے کو برباد کر لیتے ہیں، کیونکہ قومی ٹیم میں تو گیارہ کھلاڑی ہی پہنچ سکتے ہیں اور اس کے لئے بھی کوئی میرٹ نہیں بلکہ اور بہت کچھ چلتا ہے۔

کرکٹ کھیلنے والے تو ایک طرف دیکھنے والے بھی اپنا کتنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ ملازمت پیشہ اپنی جاب چھوڑ کر اور بزنس مین اپنا کاروبار چھوڑ کر سارا سارا دن جتنا نقصان کرتے ہیں بے حساب ہے۔ کرکٹ کے کھلاڑی پیسہ بنانے کے چکر میں جوا مافیا کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں۔ عوام مصلوں پر سجدے میں گرے ٹیم کی فتح کی دعائیں مانگ رہی ہوتی ہے اور پتہ چلتا ہے کہ میچ تو فکس تھا۔

اسی طرح کرکٹ کے فائدے کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔ اگر کسی چیز کے فائدے کم اور نقصانات زیادہ ہوں تو اسے چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔ کرکٹ سے بہتر تو کوڑا کرکٹ ہے جسے جلا کے کیمیائی کھادیں اور بجلی تو پیدا کی جا سکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ کرکٹ کے سٹیدیمز کو ایتھلیٹکس کے سٹیدیمز میں تبدیل کر کے ایتھلیٹکس کے فروغ کے لیے اقدامات کرے۔ ایتھلیٹکس میں ہم دنیا کے بڑے ایونٹس اولمپکس وغیرہ میں حصہ لے سکیں جہاں ہماری نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکومت کرکٹ کے بجائے دوسرے کھیلوں ہاکی، فٹبال اور کبڈی کے فروغ کے لئے اقدامات کرے۔

Muhammad Saeed has completed his BS(Mass Communication) from Virtual University of Pakistan. Now he is working as freelance writer for different magazines and websites.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.