عذاب بیانات کی صورت میں بھی آتے ہیں

2 304

خدا کا ایک عذاب یہ بھی ہے کہ پاکستانی قوم کبھی بھی کسی بھی خوشی، واقعے کو بھر پور طریقے سے نہیں منا پاتے۔ اسٹیبلیشمنٹ کی اندرونی سیاست کہانی سے بے خبر، نا فہم افراد جب ذہن ہی ذہن میں عرصہ دراز سے کوئی دھماکہ نہ ہونے پر شکر کے الفاظ لبوں پر لانے کا ارادہ کرنے لگتے ہیں تو نہ جانے ان کی قسمت ان کے ارادے کی قاتل بن کے دھماکے کی بری خبر سنا دیتی ہے۔

مسلسل 3 سال ضربِ عضب اور جنرل راحیل شریف کے قصیدے پڑھنے والے پاکستانی شہری جنرل صاحب کے جانے کے بعد دہشتگردی کی فاتحہ پڑھنے کی تیاریوں میں مصروف ہوتے ہیں کہ اچانک خونی لہر اٹھتی ہے جو کم از کم سب کو یہ باور کرا دیتی ہے کہ جناب اس ناسور کےسدباب کے لئے ایک اور آپریشن کی ضرورت ہے۔ ایک نہیں شاید ایک سے زیادہ، بہت زیادہ!

اللہ اللہ کرتے تقریبا پانچ سال کے عرصے کے بعد جب زمبابوے کی ٹیم جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اور دنیا کی مخالفت مول لیتے ہوئے پاکستانی سر زمین پر کھیل کو آباد کرنے کا سنگ میل رکھتی ہے اور عشقِ کرکٹ میں سرشار زندہ دلانِ پاکستان  اس خوشگوار واقعے پر آئندہ کے لئے خوشنما امید باندھنے کے قریب ہوتے ہیں تو ایک خودکش حملہ آور اپنی جنت کی لالچ میں ان شہریوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیتاہے۔

خیر یہ مثالیں کبھی نہ کبھی ہر ذہن میں، ایک لمحے کے لئے کیوں نہ ہو، مگر اٹھتی ضرور ہوں گی۔ اس خاکسار کا اس میں کو ئی کمال نہیں۔
دنیا کی لیگوں میں غیر ملکی کھلاڑیوں کو ایک ساتھ دیکھ دیکھ کر خوش ہونے والی یہ قوم شدت سے اپنی لیگ کا انتظار کر تی رہی۔ اور پھر پی ایس ایل کا جادو چلا۔ شہری بھی جھوم اٹھے، خوشیاں منانے لگے لیکن رنگ میں بھنگ ڈالنے کے لئے پھر یہ خیال ذہن میں چلا آیا کہ ہم اپنی ہی لیگ، اپنے کھلاڑیوں کو پاکستان میں اپنے میدانوں میں نہیں دیکھ سکتے؟

پھر بھی امید بندھی رہی کہ کبھی نہ کبھی یہ معجزہ بھی ہو ہی جا ئے گا۔ پی ایس ایل کا دوسرا ایڈیشن پوری آب و تاب سے شروع ہوا، ساتھ ہی ساتھ صاحب اختیار حلقوں میں  لیگ فانئل لاہور میں کروانے کی سر گو شیاں بھی شروع ہو گئیں۔ یہ سرگوشیاں اتنی مدھم تھیں کہ اپنے بھی اس کو سمجھ کر رائے قائم کرنے سے قاصر تھے مگر یہ سرگوشیاں بھی دہشتگردوں کی سماعتوں تک پہنچ گئیں۔ پھر کیا تھا؟ فروری خونی مہینہ ثابت ہوا۔ تقریبا 200 افراد کی جانوں کا نذرانہ دینا پڑگیا۔

مگر پاکستانیوں کے دل ایک بار پھر جگمگا اُٹھے کہ دہشتگردی جیسے عظیم فساد کو رد کرنے کے واسطے “ردالفساد” شروع کر دیا گیا۔ لاہور فائنل کامعاملہ جو مدھم آوازوں کے ساتھ سر گو شیوں کی دہلیز تک ہی محدود تھا، اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے کو ششیں تیز ہو گئیں۔ حتمی اعلان کی راہ میں نہ غیر ملکی کرکٹرز کا مسئلہ درپیش تھا نہ ہی کوئی اور وجہ تھی۔ سیکییورٹی فول پروف ثابت کر نے کے لئے بڑے فیصلے کی ضرورت تھی جو کم از کم پورے پاکستان میں سب کو یہ یقین دلا دے کہ اگر فائنل لاہور میں ہوا تو کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔ بہت سوچ بچار کے بعد آرمی چیف اور وزیر اعظم کے نام  دعوت نامہ تحریر کرنے کے بعد پی ایس ایل سیزن ٹو کا فائنل لاہور میں کروانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا۔ ہر شہری خوشی سے جھوم اٹھا۔ اب پاکستانی بھی اپنے وطن کی سر زمین پر کرکٹ دیکھ سکیں گے۔ سب خوش تھے کہ پتہ نہیں یہ لمحات کسی نجی ٹی وی پہ بیٹھے عوامی لیڈر کو شائد اس عوامی ردعمل کی توقع نہ تھی یا یہ ردعمل برداشت نہیں ہوا اس لئے فورا یہ بیان داغ دیا کہ “پی ایس ایل فانئل لاہور میں کروانے کا فیصلہ پاگل پن ہے”۔

اور یوں پھر سے پاکستانیوں کے لئے ایک خوشی میں سیاپا ڈال دیا گیا۔ کیونکہ پہلے بیان کر چکا ہوں کہ خدا کا ایک عذاب یہ بھی ہے کہ  پاکستانی قوم کبھی بھی کسی بھی خوشی، واقعے کو بھر پور طریقے سے نہیں منا پاتے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Muhammad Asif کہتے ہیں

    ھاں جی کچھ لوگ ایک دو کالم لکھ کر اپنے ہیرو ز کی ہی کردار کشی شروع کر دیتےجس کو آپ سے ذیادہ کرکٹ کے بارے میں پتہ ہے اور ہو سکتا ہے جتنی آپ کی عمر ہو اتنا عرصہ اس نے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلی ہو اور ویسے بھی اتنی سکیورٹی میں جس میں مساجد تک کو تالے لگوا کر آپ دوسرے ملکوں کی ٹیموں کو کیا بتانا چاھتے ہو کے اس ملک میں امن ہے بس عمران خان اور ڈاکٹر قدیر جیسے لوگوں کی قدر کرنے کی بجاۓ کردار کشی کرا لو نوۓ لکھاریوں سے شاباش بچہ جاری رکھو کامیاب ہو جاو گے شرمیں عبید چناۓ جیسے لوگوں کی کمی نہیں ہے اس ملک میں

  2. سلمان نثار کہتے ہیں

    نبیل میاں آپ ایک نہایت عظیم انسان ہیں۔ آپ کا تبحر علمی اضطراب سے ہمکنار اور سرحدوں سے بے نیاز ہے البتہ گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.