جناح بمقابلہ گاندھی: ہاتھیوں کی لڑائی میں گھاس کی فریاد

0 811

حاشر ابن ارشاد سے ملاقات کا شرف کبھی حاصل نہیں ہوا مگر اپنے اساتذہ میں سے سمجھتا ہوں۔ مولا علی کا فرمان ہے کہ کسی سے ایک لفظ بھی سیکھو تو وہ تمہارا استاد ہے، اور جس خوبصورتی سے حاشر ابن ارشاد اردو لکھتے ہیں، خواہش ہے کہ میں بھی کبھی اس کی گرد کو چھونے کے قابل ہو سکوں۔ لیکن کبھی کبھی جذبات اور احساسات انسان کے دل میں کچھ ہوتے ہیں مگر الفاظ ان کو کچھ اور ہی جامہ پہنا دیتے ہیں۔ حال ہی میں ہم سب پر حاشر ابن ارشاد اور یاسر لطیف ہمدانی کی جناح اور گاندھی سے متعلق ‘جگل بندی’ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ یاسر کی جناح سے محبت کی قسم تو خیر میں اپنے پیارے دوست عمید ملک کے سر پر ہاتھ رکھ کر کھانے کے لیے بھی تیار ہوں، لیکن شاید حاشر اور یاسر دونوں ہی صاحبان کی اس سلسلے میں پہلی تحاریر زیادہ متوازن اور دوسری تحاریر اچانک کچھ کڑوی کڑوی سی لگیں۔

میرا مرتبہ تو نہیں لیکن کچھ اس سلسلے میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ جہاں سے کتاب ملے، چاٹنے کی پوری کوشش میں بھی کرتا ہوں۔ اور گو کہ ابھی اتنی کتابوں کی دھول نہیں جھاڑی کہ ان دونوں حضرات سے بحث کر سکوں مگر اپنی بات کہنے کی اجازت چاہتا ہوں۔

میرا ذاتی تجزیہ یہ ہے کہ حاشر ابن ارشاد بلا شبہ ‘پاکستان کے لیے شہید ہونے والا پہلا رہنما ۔ موہن داس کرم چند گاندھی’ لکھتے ہوئے یہ شعوری طور پر نہیں چاہتے تھے کہ وہ ان کا جناح سے مقابلہ کریں لیکن شاید کہیں نہ کہیں تقابل لازمی سا امر ہو جاتا ہے۔ یہ معاملہ ہی کچھ ایسا ہے۔ ان دو افراد کی باہم رقابت اتنے طویل عرصے پر محیط ہے کہ ایک کو دوسرے سے علیحدہ کر کے دیکھنا تقریباً ناممکن ہے۔ مثلاً حاشر صاحب جب لکھتے ہیں کہ “کیا کوئی درسی کتاب یہ بتانے کا حوصلہ رکھتی ہے کہ ہندو مسلم فسادات کی نیو 16 اگست 1946 کو یوم راست کے سر پر رکھی گئی جو جناح صاحب کی اپیل پر منایا گیا تھا” تو ظاہر ہے کہ پڑھنے والے پر بھی وہی اثر ہوتا ہے جو شاید یاسر پر ہوا۔ پھر آگے چل کر آپ لکھتے ہیں کہ “یوم راست یا ڈائریکٹ ایکشن ڈے کو دس ماہ گزرتے ہیں اور ایک میز پر بیٹھ کر جناح، نہرو، ابوالکلام آزاد، امبیڈکر اور تارا سنگھ مذہبی بنیادوں پر تقسیم پر متفق ہوتے ہیں۔ گاندھی اکیلی آواز ہے جو نفرت کے پودے کو تناور درخت بنتے دیکھ رہی ہے۔ وہ اپنی آواز ان سب آوازوں میں ملانے کو تیار نہیں ہے جو تقسیم کے علاوہ اب کوئی راستہ نہیں دیکھتے پر سیلاب کا زور بہت ہے اور ایک نحیف آواز اس کے آگے بند نہیں باندھ پاتی”۔ یہاں بھی تقابل نظر آتا ہے۔

میرا مطمع نظر یہی دو سطور ہیں۔ عرض ہے کہ اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ راست اقدام کی کال جناح نے ہی دی تھی۔ لیکن جس طرح بقول حاشر صاحب کے گاندھی اور نہرو یک جان یک قالب نہیں تھے، اسی طرح سہروردی اور جناح بھی یک جان یک قالب نہیں تھے۔ جناح نے اپنی ساری زندگی قانون میں رہتے ہوئے گزارنے کی کوشش کی۔ میرا خیال ہے کہ کسی انسان کے عزائم کو اس کی بقایا زندگی سے جانچنا کوئی معیوب یا غیر متعلقہ دلیل یا فعل نہیں ہے۔ جناح نے یہ کال ضرور دی لیکن جیسا کہ عائشہ جلال کا کہنا ہے کہ جناح کے پاس اس کال دینے کے بعد اس کو قابو میں رکھنے کے لیے کوئی ذرائع موجود نہیں تھے، ان کا انحصار مکمل طور پر سہروردی پر تھا اور سہروردی کے اوپر گو کہ باآسانی ‘بنگال کا مودی’ ہونے کا الزام لگایا جا سکتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ جس طرح سہروردی کی غفلت کو اس سلسلے میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح غلام (گُلام) سرور کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ گُلام سرور 1945-46 کے انتخابات میں ایک لیگی کارکن کے ہاتھوں ہی شکست سے دو چار ہوا تھا، لیکن اس کا مسلمان ہونا مسلم لیگ کو بھاری پڑا اور تاریخ کے اسباق آج تک کلکتہ کی ان تاریک شب و روز کو نہیں بھولے۔

اسی طرح آزاد سمیت سب کے مذہب کی بنیاد پر تقسیم پر متفق ہونے کے حوالے سے میرا خیال ہے کہ حاشر صاحب کچھ جذبات کی دھارا میں بہہ گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں تھا۔ آزاد آخری وقت تک متفق نہیں تھے۔ اپنی کتاب India Wins Freedom میں مولانا کہتے ہیں کہ “اب جب کہ پرساد اور نہرو دونوں تقسیم کے حامی بن چکے تھے، میری آخری امید گاندھی جی ہی رہ گئے تھے۔ ان دنوں گاندھی جی پٹنا میں تھے۔ اس سے پہلے انہوں نے چند روز نواکھلی میں گزارے تھے جہاں انہوں نے مسلمانوں پر ایک بہترین تاثر چھوڑا اور ہندو مسلم اتحاد کی ایک نئی فضا قائم کی تھی۔ ہمیں امید تھی کہ وہ دہلی آ کر ماؤنٹ بیٹن سے بات کریں گے اور وہ 31 مارچ کو آ بھی گئے۔ میں فوری طور پر ان سے ملنے کے لیے پہنچا اور ان کے پہلے الفاظ یہ تھے کہ ‘تقسیم اب ایک خطرہ بن چکی ہے۔ لگتا ہے کہ ولبھ بھائی اور نہرو بھی ہتھیار ڈال چکے ہیں۔ تم اب کیا کرو گے؟ کیا تم میرے ساتھ کھڑے ہو یا تم بھی بدل چکے؟’”

“میں نے جواب دیا کہ میں ہمیشہ سے تقسیم کے خلاف تھا اور آج بھی ہوں۔ بلکہ آج میں پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مخالف ہوں۔ ہاں لیکن مجھے اس بات پر افسوس ہے کہ ولبھ بھائی اور نہرو نے شکست تسلیم کر لی ہے اور آپ کے الفاظ میں، ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ اب آپ ہی میری واحد امید ہیں۔ اگر آپ تقسیم کے خلاف کھڑے رہیں تو شاید ابھی بھی ہم حالات کو خراب ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ بھی بیٹھ گئے تو مجھے ڈر ہے کہ ہم انڈیا کو کھو چکے ہیں۔”

“گاندھی جی نے کہا، ‘یہ کیا سوال کر رہے ہو؟ اگر کانگریس نے تقسیم کو تسلیم کیا تو یہ میری لاش پر سے گزر کر ہوگا۔ جب تک میں زندہ ہوں، کبھی انڈیا کی تقسیم کو قبول نہیں کروں گا۔ اور اگر ہو سکا تو کانگریس کو بھی تسلیم نہیں کرنے دوں گا۔’”

“اسی روز کچھ دیر بعد گاندھی جی کی ملاقات ماؤنٹ بیٹن سے ہوئی۔ انہوں نے اگلے دن ایک اور ملاقات کی اور پھر 2 اپریل کو مزید ایک ملاقات ہوئی۔ سردار پٹیل ان کی پہلی ملاقات کے فوراً بعد ان سے ملنے کے لیے آئے اور تقریباً دو گھنٹے تک ان سے بند کمرے میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں کیا ہوا، میں نہیں جانتا۔ لیکن جب میں اگلی مرتبہ گاندھی جی سے ملا تو مجھے یہ جان کر کہ وہ بدل چکے ہیں اپنی زندگی کا سب سے بڑا دھچکا لگا۔ وہ ابھی تک بھی تقسیم کے حق میں کھل کے نہیں بول رہے تھے لیکن انہوں نے پہلے کی طرح اس کے خلاف بولنا چھوڑ دیا تھا۔ سب سے زیادہ صدمہ مجھے اس بات سے پہنچا کہ انہوں نے وہی دلائل دینا شروع کر دیے تھے جو سردار پٹیل پہلے ہی دیتے رہے تھے۔ میں دو گھنٹے سے زیادہ ان کے آگے گذارشات کرتا رہا لیکن ان پر کوئی اثر نہیں ڈال سکا”۔

“مایوسی کے عالم میں میں نے ان سے کہا کہ ‘اگر آپ بھی یہ دلائل مان چکے ہیں تو پھر میرا نہیں خیال کہ اب انڈیا کو اس تباہی سے کوئی بچا سکتا ہے’”۔

ان الفاظ سے واضح ہے کہ گاندھی جی آزاد سے بھی پہلے تقسیم کو تسلیم کر چکے تھے۔ وولپرٹ نے اپنی کتاب The Shameful Flight میں یہ ضرور لکھا ہے کہ گاندھی جی اس سارے معاملے میں وہ واحد انسان تھے جنہوں نے آنے والے وقت کو پڑھا لیکن میرے نزدیک گاندھی سے زیادہ اس بات کو آزاد بہتر سمجھتے تھے۔ اور اس حوالے سے میں جناح کا نظریہ ان کے یا ان کے کسی قریبی سے جاننے سے تو قاصر ہوں کہ جناح نے کبھی اپنے خیالات کا کھل کر اظہار نہیں کیا، مگر جناح کے دوسرے اقدامات، مثلاً بنگال کی تقسیم کی مخالفت، پنجاب کی تقسیم کی مخالفت اور دہلی میں پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کی تجویز سے صاف ظاہر ہے کہ جناح مستقل حالات کو قابو میں لانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔

یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ بنگال کے فسادات کے بعد جب آگ تیزی سے ملک بھر میں پھیل رہی تھی اور ‘گڑھ مکتیشور میں ہر ہر مہا دیو کے نعرے گونجے اور راولپنڈی میں اللہ اکبر کی صدائیں’ بلند ہو رہی تھیں تو یہ جناح ہی تھے جنہوں نے لارڈ ویول کو فوج کے ذریعے معاملات قابو میں لانے کی تجویز دی۔ جناح نے ویول سے کہا کہ مجھے فرق نہیں پڑتا کہ آپ اس کو کیسے روکتے ہیں، لیکن اس پاگل پن کو کچھ بھی کر کے روکیے’۔ یہ ایک واضح اشارہ تھا کہ فوج کے استعمال کی صورت میں مسلم لیگ اپنا احتجاج محدود رکھے گی۔ یہ البتہ علیحدہ بات ہے کہ ویول کا خیال مختلف تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ حالات فوج کے آ جانے سے بھی قابو میں نہ آئے تو تاج برطانیہ کی فوج کی قلعی کھل جائے گی۔ لہٰذا انہوں نے معاملات کو جیسے چل رہے تھے، ویسے ہی چلنے دیا۔

میں پھر بھی اس بات سے متفق ہوں کہ یاسر کو شاید گاندھی کا مقابلہ جناح سے نہیں کرنا چاہیے تھا، باوجود اس کے کہ حاشر صاحب کی تحریر میں کچھ ایسے اشارے موجود تھے جن سے لگتا تھا کہ وہ دونوں لیڈران کا موازنہ کر رہے ہیں۔ مگر بہر حال اس حوالے سے میں اپنے تحفظات، بلکہ اختلاف، کا کھل کر اظہار ضرور کروں گا کہ جناح اور گاندھی کی ‘شہرت’ کا مقابلہ کسی صورت بھی جائز نہیں۔ گاندھی صرف ایک لیڈر نہیں تھے بلکہ ایک لکھاری بھی تھے۔ ان کو صرف ان کے فیصلوں سے نہیں جانا جاتا، ان کی تحریروں سے بھی جانا جاتا ہے۔ ان دونوں کی شہرت کا مقابلہ اس لیے بھی ناجائز ہے کہ جناح کبھی بھی خود کو دنیا بھر کے مسائل کا ذمہ دار نہیں سمجھتے تھے۔ ان کا مطمع نظر ہمیشہ ہر حال میں ہندوستان کے مسلمان رہے۔ انہی کے لیے جناح نے 1911 میں حقوق کا بل جمع کروایا، 1913 میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی، 1916 میں لکھنؤ معاہدہ کیا اور 1919 میں کانگریس چھوڑی۔ کسی ایک بھی موقع پر جناح نے مسلمانوں کے حقوق سے صرفِ نظر نہیں کیا۔ کانگریس چھوڑنے کی وجہ جہاں وولپرٹ یا عائشہ جلال یہ بیان کرتے ہیں کہ جناح کو گاندھی کی موجودگی میں اپنا مستقبل نظر نہیں آ رہا تھا، وہیں میرا ماننا ہے کہ دلوں کے حال جاننے کا دعویٰ کرنے کی بجائے ہمیں ان رہنماؤں کے فیصلوں کو ان کے اپنے نظریات کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا جناح کا stance تحریکِ خلافت کے معاملے میں غلط تھا؟ کیا گاندھی جی کو گوکھلے، تلک اور کانگریس کے تمام سابقہ عظام، کہ جن کی طرف دیکھ کر نوجوان جناح نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا، کے نظریات سے مکمل برات کا اعلان کرتے دیکھتے رہنا چاہیے تھا؟

آگے چل کر ایک جگہ حاشر صاحب لکھتے ہیں کہ تحریک خلافت کا ڈول مسلمانوں نے ڈالا تھا، گاندھی جی نے نہیں۔ وہ ساتھ ہوتے تو بھی مجرم ٹھہرتے اور ساتھ نہ ہوتے تو بھی معتوب۔ دست بستہ عرض ہے کہ یہی مخمصہ باقی سب کے سامنے بھی تھا۔ گاندھی جی نے لیکن تاریخ کی غلط جانب قدم بڑھایا اور ہم اس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں۔ اسی دوراہے پر جناح بھی کھڑے تھے۔ مگر انہوں نے ساتھ نہ دے کر کافر ہونے کا الزام برداشت کر لیا، ساتھ دے کر مہاتما نہیں ٹھہرے۔ اچھے خاصے کٹر مولوی احمد رضا خان بریلوی اگر اس موقع پر جہاد کے خلاف فتویٰ دے سکتے تھے تو گاندھی جی کو بھی اس بات کا مکمل حق حاصل تھا کہ وہ اپنے متعلق فیصلہ کرتے۔ انہوں نے فیصلہ کر لیا۔ ہمیں حق ہے کہ اس پر تنقید کریں۔ بلکہ ہم تو متاثرین میں سے ہیں، ہمارا تو فرض ہے کہ اس پر تنقید کریں۔

جہاں تک یاسر کا کہنا ہے کہ جناح کو پنجابی مسلمانوں کے پریشر میں آ کر پاکستان کا مطالبہ ماننا پڑا تو مجھے اس سے بہرحال اتفاق نہیں۔ یہ دباؤ پنجابی مسلمانوں کی طرف سے نہیں تھا، اس کے محرکات کچھ اور تھے۔ لیکن میرا خیال ہے بات گاندھی تک ہی رہنی چاہیے، بقیہ کانگریس سے گاندھی جی عموماً مشکل مواقع پر لاتعلقی کا اعلان کر دیتے تھے، لہٰذا یہاں بھی ہم ان کی اسی ‘سٹریٹیجک معذوری’ کا لحاظ کر لیتے ہیں۔

‘رہی بات ہندو مسلم فسادات کی تو یہ بات درست ہے کہ ان کی تاریخ طویل ہے تاہم جو لاکھوں جانوں کا نذرانہ بالآخر لے کر ٹلی، وہ شدت راست اقدام کے دن جنمی’۔ میری عرض ہے کہ یہ راست اقدام کیبنٹ مشن کو ماننے کے بعد پھر اس سے انحراف سے جنما تھا۔ اور ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ ان فسادات کا اصل موجب پنجاب اور بنگال کی تقسیم تھی، نہ کہ ہندوستان کی تقسیم؟ اور ان دونوں صوبوں کی تقسیم کی جناح نے آخری وقت تک مخالفت کی۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ تقسیم کی صورت میں ہندوستان اور پاکستان میں رہ جانے والی اقلیتوں کے تحفظ کی کیا گارنٹی ہے تو ان کا جواب تھا کہ ان دونوں ملک میں رہنے والی اقلیتیں۔ پنجاب میں سکھ اور ہندو اقلیت میں تھے تو سینٹرل صوبوں میں مسلمان۔ اس تقسیم کے فارمولے کو صوبوں سے نکال کر تحصیل کی سطح تک لے جانے والے بھی کوئی اور نہیں، گاندھی جی کے دو انمول رتن، نہرو اور پرساد، ہی تھے۔ ہاں مگر گاندھی جی کا کہنا تھا کہ ان کی کوئی نہیں سنتا۔ جناح اسی بات پر سٹپٹا کر کہہ اٹھے تھے کہ گاندھی جی کا کانگریس کے ساتھ معاملہ کچھ یوں ہے کہ ان کی اتھارٹی بہت لیکن ذمہ داری کوئی نہیں ہوتی۔

جناح نے بنگال کی آزادی کے حوالے سے سہروردی کی تجویز کو فوراً تسلیم کر لیا جب کہ ماؤنٹ بیٹن نے جناح کو اس تجویز سے آگاہ ہی صرف ان کے اور سہروردی کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لیے کیا تھا۔ سہروردی اور سرت چندر بوس تو کافی تفصیل میں جا کر اس فیصلے پر معاہدہ کر چکے تھے۔ لیکن یہاں بھی تقسیم کا اصول انمول رتنوں نے ہی زبردستی منوایا۔ بعد ازاں اسی نہرو کی بیٹی کو بنگال کی آزادی بہت ضروری محسوس ہوئی۔ کہا جا سکتا ہے کہ بنگال اس وقت تقسیم نہ ہوتا تو بعد میں بھی قتل و غارت نہ ہوتی اور اس وقت بھی نہ ہوتی۔

آخر میں گذارش کرنا چاہوں گا کہ جناح اور گاندھی دو بہت بڑے انسان تھے۔ گاندھی جی زیادہ مشہور ہیں۔ ان کی کتابیں بھی بہت بکتی ہیں۔ ان کو ساری دنیا میں مانا جاتا ہے۔ ہمیں اس سے کوئی نقصان نہیں۔ لیکن تقابل کیا جائے تو یہ بات بھی یاد رکھنا ہوگی کہ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ جناح لکھتے نہیں تھے۔ جناح بھی ہٹلر کو خط لکھنے جیسے ‘بے فضول’ کام کرتے تو دنیا بھر کے اخباروں میں سرخیاں لگ سکتی تھیں۔ کتابیں لکھتے تو شاید صرف ان کے اقدامات کی بنیاد پر ان کو پرکھا نہ جاتا۔ گاندھی کو یہ فائدہ ہے کہ اقدامات کے ساتھ ساتھ کتابوں سے بھی پرکھا جاتا ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ جناح بھی مسلم لیگ کے تمام غلط فیصلوں سے برات کا اعلان کر دیتے اور صرف درست فیصلوں میں سے اپنا حصّہ وصول کرتے تو آج تک تاریخ دانوں کے نشانے پر نہ ہوتے۔

مصنف کی سیاست اور تاریخ پر گہری نظر ہے۔ زیادہ تر شوق انگریزی میں فرماتے ہیں مگر جب غصہ آجائے تو اردو ہی کا سہارا لیتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.