ڈبے بند دودھ کے دیوانے متوجہ ہوں

1 320

یہ تقریباً 15 سال پہلے کی بات ہوگی تب ہر چیز پیک شدہ اور ہر سامان ایک چھت تلے ملنے کا دعویٰ کرنے والے ڈیپارٹمنٹل اسٹور پاکستان میں عام نہیں ہوئے تھے۔ انہی دنوں ملک بھر میں دودھ میں پانی کی ملاوٹ کا شور اٹھا اور دیکھتے ہی دیکھتے طوفان کی شکل اختیار کر گیا۔ اسی دوران ہمیں بھی پتا چلا کہ دودھ فروشوں کو ایک حد تک دودھ میں پانی ملانے کی اجازت ہوتی ہے کہ اس سے دودھ کو محفوظ کرنا اور خرابی سے بچانا آسان ہوتا ہے تاہم دودھ فروشوں کی جانب سے اسے مہنگا ترین دودھ بیچنے کے باوجود پانی ملا کر دودھ کی مقدار بڑھانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

کھلا دودھ بیچنے والوں کی یہ من مانیاں اور خلاف ورزیاں جاری تھیں جب ملک میں موجود واحد الیکٹرانک میڈیا سرکاری ٹی وی پر ڈبہ بند دودھ کی تعریف پر مشتمل اشتہار چلنا شروع ہوئے۔ اس میں بتایا جاتا تھا کہ گوالے نہ صرف دودھ میں پانی ملاتے ہیں بلکہ دودھ بڑھانے کے لیے کیمیکل کا استعمال کرتے ہیں جب کہ اس کے مقابلے میں ڈبے کا دودھ عالمی معیار کی تسلیم شدہ مشینوں کی مدد سے پیک اور محفوظ کیا جاتا ہے۔ عام دودھ تو فوری ابالا نہ جائے تو بے کار ہوجاتا ہے جب کہ ڈبہ بند دودھ کو فریج میں رکھیں اور جب چاہے جتنا چاہیں استعمال کریں۔ یہ ڈبہ بند دودھ کی شہرت کا دراصل نقطہ آغاز تھا۔ اس کے بعد لوگوں کی اکثریت کا رجحان ڈبہ بند دودھ کی طرف بڑھ گیا یہاں تک کہ ڈاکٹر بچوں کو بھی یہی دودھ تجویز کرنے لگے۔ اسی طرح خشک دودھ کی تعریف میں بھی میڈیا کافی سال رطب اللسان رہا اور آج بھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دودھ کے نام پر نت نئے ٹی وائٹنر نکل آئے جن کا کام غذائیت تھا نہ ذائقہ دینا بلکہ وہ تو صرف کالی چائے کو سفید بناتے تھے یا دوسرے معنوں میں سفید پینٹ کرتے تھے۔

گزشتہ دنوں ڈبہ بند، خشک دودھ اور ٹی وائٹنر بنانے والی نامی گرامی کمپنیاں جس طرح بے نقاب ہوئی ہیں، اور جس طرح اونچی دکان رکھنے والے بڑے بڑے ناموں کا پکوان پھیکا ثابت ہوا ہے، اس نے برانڈڈ چیزوں کے شوقین افراد کو ایک بڑا دھچکا ضرور پہنچایا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دودھ فروشوں کے صرف پانی ملانے پر چیں بجبیں ہونے والی یہ کمپنیاں مردے محفوظ بنانے والا کیمیکل فارمولین، ڈیٹر جنٹ پاوڈر، یوریا کھاد، بال صفا پاﺅڈر، میلامائن، سوڈیم ڈائی آکسائیڈ، ویجیٹیبل آئل استعمال کرتی رہیں اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ طرفہ تماشا یہ کہ ان سب مضر صحت کیمیکلز کے استعمال اور زہر پلانے والے دودھ کو بہترین ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور بھی لگاتے رہے۔

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ انسانی جانوں پر حملہ آور ان کمپنیوں کو چند لاکھ روپوں کے جرمانے کرکے چھوڑ دیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ایسے لوگوں اور ایسی کمپنیوں کو نشان عبرت بنادیا جاتا مگر افسوس ! ہمارے ہاں ایسی کوئی رسم، کوئی روایت، کوئی ریت نہیں۔ ہاں! قانون ہے، ہم مجرموں کو بے نقاب بھی کرلیتے ہیں اور ان کو سخت ترین سزا دینے کے اعلانات پر مشتمل لمبی چوڑی پریس ریلیز بھی جاری کرتے ہیں مگر۔۔۔ پھر کبھی پلی بارگین، کبھی معمولی جرمانوں اور کبھی کسی خفیہ ڈیل کے نتیجے میں دوبارہ ایک ہی سوراخ سے ڈسے جانے کے انتظار میں آزاد بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ ادھر ہم ہیں کہ ہر پیک شدہ چیز، ہر برانڈڈ شے اور ہر بڑے نام پر اندھوں کی طرح یقین کرلیتے ہیں۔ اس سے توقعات وابستہ کرتے ہیں اور قصائیوں کو جراح سمجھ بیٹھتے ہیں۔

مصنف مختلف اخباروں میں کالم لکھتے رہتے ہیں اور آج کل کراچی یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹر کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Asad Ali کہتے ہیں

    aap nay shayed apni tehreer publish kerwanay k liye jis terha doodh bananay wali companies ko tanqeed ka nishana banaya hai us say behter tha aap pehlay ya to Google pay research ker laytay ya phir Pakistan main moojood kisi bhi doodh bananay wali company say rabta ker laytayk wo doodh kis terha banatay hain.

    umeed hai aap apnay perhay lihay honay ka faida uthain gay aur iss per kaam kerain gay zaroor

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.