کبیرا کھڑا بازار میں لیے لوکاٹھی ہات

3,640

کبیرا کھڑا بازار میں لیے لوکاٹھی ہات
جو گھر پھونکے اپنا چلے ہمارے ساتھ

گزشتہ ہفتے اجوکا تھیٹر اسلام آباد میں تین مختلف کھیل لے کر آیا۔ پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے تعاون سے پیش کیے جانا والا دوسرا کھیل “کبیرا کھڑا بازار میں” دراصل رواں برس اگست میں اسی ادارے  کی پرانی انتظامیہ نے پیش کرنے سے انکار کردیا تھا۔ بھلا ہو نئے ڈائریکٹر جنرل جمال شاہ صاحب کا جنہوں نے ایسی عمدہ کاوش کو اسلام آباد کے شہریوں کے لیے پیش کرنے میں اجوکا کے ساتھ تعاون کیا۔

Kabira2بھگتی تحریک سے متاثر پندرھویں صدی عیسوی کے سَنت اور صوفی شاعر جنہیں کبیر شاہ، کبیر داس، بابا جی کبیر اور بھگت کبیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان  کی پرورش کہا جاتا ہے کہ ایک مسلمان جولاہے کے گھر میں ہوئی۔ کھیل میں بھی کچھ مکالموں میں اس کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ وہ گنگا کنارے کسی ٹوکرے میں پڑے مِلے تھے۔ یہ کھیل ایک بھارتی لکھاری بھیشم ساہنی کا لکھا ہوا ہے جِن کا تعلق راولپنڈی سے تھا۔ اور جنہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ایم۔اے کیا۔ اگست میں ان کی صد سالہ سالگرہ ادبی حلقوں میں منائی جارہی تھی۔ بھیشم نے  “کبیرا کھڑا بازار میں” 1981ء میں لکھا تھا اور مختلف ادوار میں یہ تمام بھارت میں پرفارم کیا جا چکا ہے۔ امرتسر کے نامور تھیٹر  ہدایتکار کیول دھلیوال اس کھیل کے علاوہ  اجوکا پروڈکشن کے “پیرو پریمن” کی ہدایتکاری بھی کرچکے ہیں۔

شمالی بھارت کی ریاست اترپردیش کا شہر بنارس (کاشی) اس کھیل میں دکھایا گیا ہے۔ کبیر اپنے استاد، بھگتی تحریک کے رہنما رامانند، سے کافی متاثر تھے۔ بابا کبیر کے دوہے اور اشعار سِکھ مذہب کی کتاب گرنتھ صاحب میں بھی مِلتے ہیں۔ “کبیرا کھڑا بازار میں” مختلف واقعات اور مناظر کے ذریعے پندرھویں صدی یعنی سلطان سکندر لودھی کے دور حکومت میں ہندوستان میں ذات پات، رنگ نسل کی تقسیم اور مذہب فروشوں کی چُتر چالاکیاں بیان کرتا ہے۔

Kabira3کہاں سے آیا کہاں جائے گا خبر کرو اپنے تَن کی
جب گُرو مِلے تو بھید بتاوے، کُھل جاوے اندر کھڑکی

صوفی تعلیمات، مذہبی برداشت و رواداری اور ذات پات سے آزاد معاشرے، انسانیت، امن، محبت و مساوات کی تعلیمات کو اجاگر کرتے اس کھیل کا آغاز بھگت کبیر کے حوالے سے ایک روایتی نغمے اور رقص سے ہوتا ہے۔ تمام کھیل کے دوران موسیقار سٹیج پر موجود رہے جو مختلف مواقع پر خوبصورت دھُنوں اور کبیر کے دوہے اکثر مناظر و مکالموں میں اس خوبصورتی سے جوڑتے ہیں کہ دیکھنے والا داد دیے بِنا نہیں رہ سکتا۔ کرداروں کے لباس اور بول چال، لہجے و اسلوب میں کوئی جھول نہیں مِلتا۔

پہلا منظر بتاتا ہے کہ کیسے اونچی ذات کے ہندو (اکھاڑے کے مہانت) کے لیے آؤ بھگت کا معاملہ اپنایا جاتا ہے۔ اور مندر کا پجاری بھی ہاتھوں ہاتھ لیتا ہے۔ کبیر کے دو بھگت ابراہیم اور دھرم داس آپسی گفتگو کے ذریعے سامعین کے لیے بہت سے مناظر کی تشریح واسطے موجود رہتے ہیں۔ یوں کبیر کی انٹری ہوتی ہے جو خود کو سادھو کہتے ایک پہلوان کو آئینہ دکھاتا ہے۔ کہانی آگے بڑھتی ہے اور کوتوالِ شہر کے پاس پروہت اپنے مَٹھ کی تعمیر کے لیے شودروں کی ایسی بستی کو ہٹانے کا مطالبہ لے کر پہنچتا ہے جو اب مسلمان ہوچکے ہیں۔ اور بطور “نذرانہ” تھال بھی پیش کرتا ہے۔ اب ایک مولوی صاحب “کبیر جولاہا” کی شکایت لیے آتا ہے۔ جو ہندو مذہب اور مُلا پر تنقید کرتا ہے اور جس کی باغی شاعری “نیچ ذات” کے عوام میں مقبول ہوتی جارہی ہے۔ یہاں جِس قسم کے حربے یہ کردار استعمال کرتا ہے، ایک لمحے کو یوں محسوس ہوا کہ پندرھویں صدی نہیں آج کے دور کا معاملہ چل رہا ہے۔ مذہب کی توہین، دین کی خدمت، لوگوں کو گمراہ کرنے جیسی اصطلاحات استعمال کرکے آج بھی ریاست اور اس کی مشینری  کو بلیک میل کرنے کی روش جاری ہے۔ کوتوال کا ڈائلاگ “پنڈت پجاریوں کو گالیاں دیتا ہے تو دے لیکن ہمارے مذہب کو کوئی گالی نہ دے۔ جو آدمی لوگوں کو دین کے خلاف بھڑکاتا ہے اصل میں وہ نظام کے خالف بھڑکاتا ہے۔ لوگوں کو سرکش بنا رہا ہے۔” قابلِ غور لفاظی ہے۔

Kabira4مالا پھیرتے جگ بَھیا، پھرا نہ من کا پھیر
مالا کا منکا چھوڑ دے، مَن کا منکا پھیر

مالا کہے ہے کاٹھ کی تُو کیوں پھیرے مُوئے
مَن کا منکا پھیر دے تُرت مِلا دوں توئے

اندھے فقیر سے کبیر داس کے اشعار سُن کر کوڑے مارنے کا حکم دیا جاتا ہے تاکہ شہر میں دہشت پھیلا کر سب کو تنبیہہ ہو جائے۔ یہاں شودروں کی جلتی ہوئی بستی کو جِس خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے اس نے تمام دیکھنے والوں کو تالیاں بجا کر داد دینے پر مجبور کردیا۔

مفلسی اور جلی ہوئی جُھگی کے درمیان کبیر داس کی بیوی “لوئی” کا ہنس مُکھ معصوم کردار مسکرانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ کبیر پر اعتراض کرنے والا مُلا فخرالدین اس عورت کے والدین اور مذہب بارے بھی سوال اٹھاتا ہے لیکن کبیر کھڈی پر “لوئی” کے لیے چُنی بُنتا شعر کہتا رہتا ہے۔۔۔

پریتم کو پتیاں لکھوں جو کیہوں ہووے وَدیس
تن میں، مَن میں، نین میں تاکو کیہا سندیس

کبیر کی شاعری کی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے عوام میں مستعمل عام ہندوستانی زبان میں لکھا جو کہ ایک لحاظ سے اشرافیہ کی زبان یعنی فارسی اور سنسکرت سے بغاوت مانی جاتی ہے۔

کانکر پاتھر جوڑ کے مسجد لئی بنائے
تا چڑھ مُلا بانگ دے کیا بہرہ ہوا خودَہی

کھیل میں پنڈت پروہت اور مُلا کی جانب سے مختلف فتووں پر گاہے بگاہے کبیر کے کلام کو جواباً استعمال کیا گیا ہے۔

Kabira5مالا تلک لگائی کے بھگتی نہ آوے ہاتھ
داڑھی مُوچھ منڈائی کے چلے دنیا کے ساتھ

یا

صاحب میرا ایک تو اور نہ دوجا کوئے
جو صاحب دوجا کہوں  دوجا کُل کے ہوئے

اور

نہائے دھوئے کیا بھئیا جو مَن میل نہ جائے
ماہی صدا جل میں رَہے دھوئے باس نہ جائے

اور

پنڈت جن ماتے پڑھے پران
جوگی ماتے جوگ دھیان

بھگت کبیر کا کردار اشارے کنایوں میں مذہب فروشوں کی جانب سے کٹھن الفاظ اور اصطلاحات کے استعمال کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے اور اس کے مطابق چونکہ وہ عام زبان میں پیار، بھگتی اور امن کی بات کرتا ہے اس لیے لوگ اس کو سنتے ہیں

دُکھ میں سِمرن سَب کریں سُکھ میں کرے نہ کوئے
جو سُکھ میں سِمرن کرے تو دُکھ کہاں سے ہوئے

کٹر نظریات کے پیروکار اور سخت گیر مذہبی عناصر کے استعارے ہندو پنڈت اور ملا فخرالدین اپنے مفاد کی خاطر ایک زبان ہوکر “گستاخ و باغی” جیسے فتوے لگا کر اور ایک کی دس بنا کر معاملہ سلطان سکندر لودھی تک لے جاتے ہیں جو بیہار کی فتح کے بعد دہلی جاتے ہوئے راستے میں بنارس پڑاؤ کرتا ہے۔ سلطان لودھی اپنے قاضی اور شیخ تقی کے ساتھ شاہی دربار لگواتا ہے جہاں ملا فخرالدین اور پنڈت کے الزامات بارے سوالات  کیے جاتے ہیں جبکہ کبیر سب کی ایسی تسلی و تشفی کرواتا ہے کہ لکھاری سلطان لودھی کو کبیر داس کی تعلیمات سے متاثر بیان کرتا ہے۔ جبکہ الزامات کے مناسب ثبوت اور گواہان پیش نہ کرنے کے علاوہ شاہی دربار کا قیمتی وقت برباد کرنے پر پنڈت و ملا کو سزا سنائی جاتی ہے۔ لیکن کبیر ان دونوں کو معاف کرنے کی درخواست کرتا ہے۔

Kabira7بُرا جو دیکھن میں چلا، بُرا نہ مِلیا کوئے
جو مَن کھوجا اپنا، تو مُجھ سے بُرا نہ کوئے

کھیل میں بھگت کبیر کے مشہور کلام کو خوبصورت دھنوں کے ساتھ ترتیب دے کر پیش کیا گیا ہے۔ اختتامی منظر میں کبیر داس کی موت سے جُڑی روایت کو دکھایا گیا ہے جہاں ان کی میت کی جگہ پھولوں کی پتیاں پڑی تھیں اور ہندو مسلم دونوں نے چُن کر اپنے عقائد کے مطابق بنارس میں ان کی دو آخری آرام گاہیں بنا لیں۔

ایسے وقت میں جب پاکستانی معاشرے میں مذہبی و سماجی عدم رواداری کے مختلف واقعات اور  توہم پرستی کے ساتھ متشدد سوچ کی آبیاری روزانہ کی بنیاد پر دیکھنے کو ملتی ہے “کبیرا کھڑا بازار میں” جیسی کاوشوں کی اشد ضرورت ہے۔

کبیرا کھڑا بزار میں مانگے سب کی خیر
نہ کَہو سے دوستی، نہ کَہو سے بَیر

کبیر میری جات کو سبھ کو ہَسنے ہار
بَلہاری اِس جات کو جِس جَپیؤ سِرجَنہ

Kabira8

افشاں مصعب زندگی پر لکھنا پسندکرتی ہیں – سیاست ، سماجیات اور نفسیات ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں – متعدد بلاگ پیجز پر ان کی تحاریر شائع ہو چکی ہیں – افشاں اسلام آباد میں مقیم ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.