سہالہ ریلوے اسٹیشن کی سیر اور کچھ تجاویز

0 404

فرنگیوں نے سکھوں کو لگام دینے کے بعد پوٹھوہاری شیروں کو بیلٹ باندھنے کا پروگرام بنایا۔ راولپنڈی برٹش آرمی کی ناردرن کمانڈ کا ہیڈ کوارٹر مقرر ہوا۔ لاہور اور پشاور کے درمیان ہنگامی بنیادوں پر ریلوے ٹریک بچھایا گیا۔ جگہ جگہ ریلوے اسٹیشن بنا دیے گئے۔ انہی میں سے ایک سہالہ ریلوے اسٹیشن تھا۔

سہال خان کے نام پر زمانہ قدیم سے آباد سہالہ کا دنیا سے یہ پہلا تعارف تھا۔ سواں اور لنگ کے پانیوں میں گھرا یہ علاقہ گرنڈے کی جھاڑیوں اور کیکر کے درختوں سے اٹا ہوا تھا۔ تا حدِ نظر ویرانہ تھا۔ اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر ظہیر عباس نے مقامی بزرگوں کی اس بات کی تائید کی کہ رات کو اسٹیشن پر شیر چہل قدمی کرتے تھے۔ اس دور میں سہالہ شیروں والا ریلوے اسٹیشن کے نام سے مشہور تھا۔

اب سہالہ اور اس کے اطراف میں ایک دنیا آباد ہے۔ ایک طرف نیول اینکرج دوسری طرف بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے، پولیس ٹرینگ سنٹر، دو یونیورسٹیوں کے کیمپس، ایک ڈگری کالج، دو کیڈٹ کالج، پی ایس او ڈپو، ایم ای ایس سپلائی سنٹر، باغات، فارم ہاؤسز، نرسریاں اور ایک حساس ادارے کی تنصیبات۔

sahala3 سہالہ کو شہرت یورینیم انرچمنٹ پلانٹ اور بلیک واٹر کے علاوہ اس کچھار سے ملی جہاں دھاڑتے شیر رکھے جاتے ہیں۔ عرفِ عام میں اسے سہالہ ریسٹ ہاؤس کہا جاتا ہے۔ یہاں رکھے جانے والے سیاسی اسیروں میں شیخ مجیب الرحمن، ذوالفقارعلی بھٹو، نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو سمیت درجنوں اہم شخصیات شامل ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی کی آمد و رفت کی سعادت سہالہ ریلوے اسٹیشن کو نہیں ملی۔

یہ اسٹیشن ایک ایک کمرے کی دو مختصر عمارتوں پر مشتمل ہے۔ ایک میں اسٹیشن ماسٹر کا دفتر ہے۔ جس کی اٹھان اور دبیز دیواروں سے فرنگی دبدبہ جھلکتا ہے۔ دفتر میں ٹیلی فون سیٹوں کی کثرت ہے۔ روایت کے ساتھ جدید موبائل فون بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ عملے کی تعداد اٹھارہ ہے۔ جو چوبیس گھنٹے میں بائیس ٹرینوں کو سبز اور سرخ جھنڈیاں دکھاتا ہے۔

سہالہ اسٹیشن کا فرنیچر، کانٹا، آئینہ، گھنٹی، زینہ اور دیگر سامان نوادرات کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ کچھ اشیاء پر 1881 کندہ ہے۔ قابلوں سے جڑا آہنی واٹر ٹینک اب بھی زیرِ استعمال ہے۔ یہ سب دیکھ کر دھڑکنیں سامراج کے معیار اور ایمان راج کی مینٹینس کے گیت گانے لگتی ہیں۔

اختصار اور ویرانی نے سہالہ ریلوے اسٹیشن کو مسائل کی بھیڑ سے بچایا ہوا ہے۔ یہ کچرے، گندگی اور بدبو سے یکسر پاک ہے۔ یہاں ملنگوں کے نعرے ہیں نہ بھکاریوں اور ہاکروں کے آوازے؛ جیب کتروں کا خوف ہے نہ چوروں کا دھڑکا؛ چرسیوں اور پوڈریوں کا جھرمٹ ہے نہ رسالوں کا کوئی اسٹال۔ سناٹا چھایا ہوا ہے۔ کلیکٹر، چیکر، سارجنٹ اور قلی سے بے نیاز؛ کتوں، بلیوں اور چوہوں سے ناآشنا۔۔۔ نہ ویٹنگ روم ، نہ بنچ۔۔۔! البتہ عملے نے اپنے لیے ایک بنچ ضرور رکھا ہوا ہے۔

sahala8 قریبی پولیس ٹرینگ کالج کے اکا دکا جوان چہل قدمی کرتے کبھی کبھار ادھر بھی آ نکلتے ہیں۔ ان کے لیے سبزه زار‎ موجود ہے۔ کچنار، امرود، دھریک، مورپنکھ کے علاوہ گیندے کی بہار نے ماحول کو جذباتی بنا دیا ہے۔ اسٹیشن دیکھ کر لگتا ہے کہ ریلوے کا شعار رفتار، خدمت اور حفاظت کے ساتھ ساتھ طہارت بھی ہے۔ یہاں قدامت اور مسافرت کی نشانی برگد تو نہیں ہے لیکن شیشم کے دو قدیم اور خشک درخت موجود ہیں۔

میں پلیٹ فارم پر کھڑا پاکستان ریلوے کی قدامت اور وسعت پر غور کر رہا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ جیسے میں پٹری پر نہیں لنڈی کوتل سے کیماڑی تک پھیلے پاکستان کی شہ رگ پر کھڑا ہوں۔ ریلوے ایک ادارہ ہی نہیں بلکہ ملکی یک جہتی کی علامت بھی ہے۔

سہالہ ریلوے اسٹیشن پر قلی کی کمی کا رہ رہ کر احساس ہوتا ہے۔ قلی کے سرخ چولے سے پلیٹ فارم کی ساری رونق ہوتی ہے۔ صدیوں کے بعد اس سال پاکستان میں ان کی وردی کا رنگ اور بھارت میں ان کا نام بدلا گیا ہے۔ لیکن ان کی حالت بدستور بدتر ہے۔ البتہ کچھ مقدر کے سکندر نکلے۔ ان کا ستارہ اتنا چمکا کہ انہیں فلم اور کرکٹ سٹارز سے زیادہ عزت ملی۔ ماریشس کے وزیرِ اعظم نوین گولم اس کی ایک مثال ہیں۔

سہالہ اسٹیشن پر ایک ریلوے ملازم محمد یوسف گزشتہ 30 سال سے کام کر رہے ہیں۔ ان کے بقول سن اٹھاسی تک صرف گڈز کی مد میں اوسطاً ساڑھے تین لاکھ روپے تک آمدن تھی۔ لیکن اب اسٹیشن کے سامنے پی ایس او سائیڈنگ ویران پڑی ہے۔ جب کہ سامنے روڈ پر ہر وقت ٹریفک کا سیلاب رواں رہتا ہے۔ کبھی قریبی آئل ڈپو کا سارا تیل ریل کے ذریعے جاتا تھا۔ تب کچھ سکس ویلر ٹینکر پی ایس او آئل ڈپو کے باہر ہوتے تھے۔ اب سینکڑوں بیس اور بائیس ویلر بلوری آئل ٹینکروں کا میلہ لگا ہوتا ہے۔ سہالہ اور دیگر ریلوے اسٹیشنز کو ویران کرنے والوں اور ریلوے کو جنازہ گاہ تک پہنچانے والوں کے چہروں پر تاریخ ”تیل” ملتی رہے گی۔

اسٹیشن اور پھاٹک کے درمیان کانٹا بدلنے کا کیبن ہے۔ کیبن ٹرین کو لالٹین کی روشنی سے سگنل فراہم کرتا ہے۔ کراس کی صورت میں یہاں ٹرینیں کھڑی ہوتی ہیں۔ کچھ دن پہلے سی پیک کے تحت چینی انجینئر ٹریک کی ڈبلنگ کا سروے کر چکے ہیں۔ چین ہمیشہ مہربان رہا ہے۔ مشرف دور میں ڈبل رفتار سے چلنے والے انجن فراہم کئے گئے اب ٹریک ڈبل کیا جا رہا ہے۔

sahala4 تھوڑا آگے پنڈی کہوٹہ روڈ پر بدنامِ زمانہ سہالہ پھاٹک ہے جو اکثر بند رہتا ہے۔ ایک زمانے سے مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ اس پر اوورہیڈ بریج بنایا جائے جس کے لیے کچھ دن پہلے وزیرِ اعظم نے 35 کروڑ روپے کی منظوری دے دی ہے۔ ڈبل ٹریک اور اوورہیڈ برج کے بعد نہ اس پھاٹک کی ضرورت رہے گی نہ کیبن اور اسٹیشن کی۔ اگر کوئی ایسی نوبت آتی ہے تواس ویران ریلوے اسٹیشن کو بیابان بننے سے پہلے کسی میوزیم میں بدل کر اسلام آباد کے جنوبی کونے میں بھی رونق میلے کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے پر شوق جائنٹ سیکرٹری منسٹری آف ریلویز اور ریلوے ہیرٹیج کلب کے ممبر شیراز حیدر کی خدمات لی جا سکتی ہیں۔ جنہوں نے نہ صرف کہوٹہ میں اپنے گھر کو میوزیم کا درجہ دیا ہوا ہے بلکہ گولڑہ ریلوے اسٹیشن کو میوزیم بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

پھاٹک کے ساتھ ایک مسجد ہے۔ بیس سال پہلے “تیز رو” اس مسجد پر چڑھ دوڑی۔ اس حادثے میں ڈرائیور سمیت چھ افراد جان بحق ہو گئے تھے۔ میں اس حادثے کی یادگاری تختی کی تلاش میں تھا۔ بعد میں خیال آیا کہ ریلوے کوئی قبرستان تو ہے نہیں جس میں جگہ جگہ تختیاں لگی ہوں گی۔

مصنف اردو گورنمنٹ ڈگری کالج کہوٹہ میں لیکچرار ہیں۔ اس کے علاوہ صدر کہوٹہ لٹریری سوسائٹی بھی ہیں۔ سابق مدیر کالج میگزین امکان۔ ادب، سیاحت اور تاریخ سے خصوصی لگاؤ ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.