ہاں، محبت میں وصل محال ہے

2 348

وہ کہتے ہیں نا محبت صرف ایک سے ہوتی ہے۔ ٹھیک کہتے ہیں۔ کم از کم میرے معاملے میں یہ مقولہ اب تک بالکل صحیح ثابت ہوا ہے۔

انسانی زندگی پیدائش سے موت تک ایک سفر نامے کی مانند ہے، جس میں لوگ مختلف اوقات، مختلف مقامات سے اس سفر نامے میں داخل ہوتے ہیں، اس سفر نامے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور حالات، مجبوریوں، اپنی منزل کی سمت بدلنے یا بنا کچھ بتائے، کہے سنے ہی ہمارے سفر نامے سے ان کا سفر اختتام پذیرہو جاتا ہے۔ کبھی آنکھیں، دل، دماغ، اعصاب ماننے پر رضا مند نہ بھی ہوں لیکن وہ بے فکر متبادل سفرپر جا چکے ہوتے ہیں۔ ہر سفر جس طرح کسی منزل پر ختم ہوتا، اسی طرح اس زندگی کا سفر نامہ بھی اس پرسکون نیند پر ختم ہوتا ہے جسے عرف عام میں ‘موت’ کہتے ہیں۔

عام طور پر جسم سے روح کے نکل جانے کا عمل موت کہلاتا ہے۔ لیکن موت فقط روح کے جسم سے نکل جانے، سانسوں کے ٹوٹ جانے، اعصاب کے تھم جانے کا نام نہیں ہے۔ محبت کا چھن جانا، عشق کا نہ ملنا، مقدر کا بے وفا ہو جانا، نصیب کا سیاہ ہو جانا بھی تو روح کی اموات ہیں۔ جذبات، احساسات، کیفیات، خیالات کا فنا ہو جانا بھی تو موت کی ان اقسام میں سے ہیں۔

ہم زندگی میں اکثر ایسی اموات کا شکار ہوتے ہیں جن میں زندگی کی ڈور تو نہیں ٹوٹتی لیکن ہم خزاں کے پتوں کی طرح بکھر جاتے ہیں۔ ہم ٹوٹ جاتے ہیں، شیشے کی طرح کرچی کرچی ہو جاتے ہیں۔ لیکن ہم کو جینا ہوتا ہے۔ ہمیں ان سانسوں کو تب تک لینا ہوتا ہے جب تک اس وحدہ لا شریک نے اسے ہمارے مقدر میں لکھا ہے۔

ادھوری محبت دکھ، تکلیف، رنج، درد، غم، الم سے اک عجیب رشتہ جوڑدیتی ہے جو وجود کو کسی صورت کسی لمحے ان احساسات سے آزاد نہیں ہونے دیتا۔ اگر وجود آزاد ہو بھی جائے توزندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر یہ غم پھرسے اجاگر ہو جاتے ہیں۔ ادھوری محبت ایک کرب کی مانند ہے جو خاردار جھاڑیوں کو رفتہ رفتہ کسی شخص کے وجود میں پیوست کر کے نکالا جانے کا احساس ہو، اس دکھ کی طرح ہے جو جوان موت پہ ایک ماں کے دل کی کیفیات ہوتی ہوں، اس اذیت کے جیسے ہے جو بستر مرگ پر پڑے اس شخص کی ہو جو جان چکا ہو کہ اس کی زندگی کا سفر ختم ہونے میں صرف چند لمحے باقی ہیں، اس مجبوری کی مانند ہے جو زندان میں بند اس قیدی کی ہو جس کے ہاتھ پاؤں تمام عمر کے لیے زنجیروں میں جکڑ دیے گئے ہوں۔ بالکل بے امید! موت اور لاحاصل محبت دونوں دو عزیزوں کی طرح ہیں۔ موت بھی تکلیف دیتی ہے اور محبت بھی واقعتاً انہی ملے جلے احساسات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتی ہے۔

کسی کو ٹوٹ کر چاہنا اور اسے حاصل نہ کر پانا انسان کی روح کو مردہ کر دیتا ہے۔ اور اس دنیا میں مری ہوی محبت سے زیادہ مردہ کوئی چیز نہیں ہوتی۔

آج میں بھی خاموش اور سکوت کی اسی حالت میں ہوں۔ میرے دل سے خواہشات ختم ہو چکیں، میرے خیالات برف کے منجمد تودے کی مانند جم چکے ہیں، میرے ذہن میں آگے بڑھنے کے لiے کچھ بھی نہیں. جنسی، روحانی تسکین بخشنے والی تمام حسرتیں وجود کے کسی کونے میں دفن ہو چکیں۔ شاید میں زندگی کے اس مقام پر آج کھڑا ہوں جسے نروان کہتے ہیں۔ خدا پہ یقین کامل ہونے کے باوجود یہ جانتے ہوئے کہ میں غلطی پر ہوں میں نے خدا سے اپنے حق میں کچھ بھی مانگنا چھوڑ دیا۔ میں نہیں جانتا، کیوں۔

مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب آپ کے لیے پہلی بار محبت کے سورج نے میرے سینے کو منور کیا تھا۔ جبکہ اس سے پہلے میں محبت کے م سے بھی واقف نہ تھا۔ وہ محبت کی سنہری کرنیں ہی تھیں جنہوں نے وقت کے اس پل میری زندگی کا دھارا مکمل بدل دیا تھا۔ وہ ایک ایک پل جسے محبت کے احساس میں میں نے محسوس کیا، وہ ایک ایک لمحہ جو خوشیوں اور مسرت سے بھر پورآپ کے ساتھ گزارا مجھے آج بھی جب یاد آتا ہے، آنکھوں میں آنسو نہ سہی لیکن آنکھوں کومترنم ضرور کر دیتا ہے۔

محبت کے جو پل آپ کے ساتھ گزرے، اس وقت کی یادیں، وہ جذبات، احساسات زندگی کو اک نئی دنیا میں لے جاتے ہیں۔ جو دنیا آپ کوان احساسات، جذبات کے نئے معنی پیش کرتی ہے۔ محبت میں چاہنا اور چاہا جانا دلکش اور محسور لگنے لگتا ہے۔ محبت وہ جذبہ محسوس ہونے لگتی ہے جو شفاف تالاب پر پڑنے والے کسی عکس کی مانند انسان کو اپنا اندر، اپنا ظاہر اور اپنے حقیقی وجود واضح اور صاف دکھانا شروع کر دیتی ہے۔ ان احساسات کی طرح لگنے لگتی ہے جو روح کے ریشے ریشے کو اپنے وجود کی نظر میں دوام بخش کر طمانیت کا ایک پر سکون ہالہ اس کے ارد گرد ایک گھنے درخت کی چھاؤں کی طرح بنا دیتے ہیں۔ اس سکون کی مانند لگنے لگتی ہے جیسے سرد، کہرے دار صبح میں سورج کی پہلی کرن کا لمس وجود کو حرارت بخشتا ہے۔ محبت ان خیالات کی طرح لگنے لگتی ہے جیسے چاندنی رات میں مخمل کے بسترپر پڑے اس تھکے ہارے انسان کی ہوتی ہے، جو سارا دن حلال کمانے میں مصروف رہا ہو، اس جنوں کی طرح محسو س ہونے لگتی ہے جو پہاڑ سے مظبوط وجود کو پھول کی پتیوں کے ریشوں سے بھی نرم و نازک کر دیتا ہے۔

پھر دل میں خلش رہ جانے کے باوجو محبت کا ادھورا رہنا ہی زندگی کوصحیح معنوں میں لطف دینے لگتا ہے۔ یہ آپ کو پہلے سے زیادہ مضبوط، جذبات پر قابو پانے والا بنانے لگتی ہے، دکھ، درد، رنج کو پہلے سے بہتر طریقے سے برداشت کرنا سکھانے لگتی ہے۔ وہ منٹو کا مشہور فقرہ ہے نا کہ “جو محبت کو ہی نہیں پہچان سکتا تو میں سمجھتا ہوں وہ حیوان ہے۔۔۔ کوئی بے حس چیز ہے۔۔ گلی میں پڑا ہوا کوئی روڑا ہے۔۔۔” خوش نصیبی یہ ہے کہ شاید میں ان جذبات کو محسوس کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

میں جان چکا کہ محبت روگ ہے۔ اس کو بار بار پالنا زیب نہیں دیتا۔ جو ایک بار موقع دے چکے اس کے سہارے زندگی گزار دینے میں ہی بہتری ہے۔ میں تسلیم کر چکا محبت کے جذبے لافانی ضرور ہیں لیکن محبت میں وصل محال ہے۔ ہاں، محبت میں وصل محال ہے۔

مصنف جامعہ پنجاب میں ابلاغیات کے طالبِ علم ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. لالہ رخ کہتے ہیں

    Well written

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.