صدر اردگان کا دورہ پاکستان باہمی رشتوں کو فروغ دے گا

1,248

ملکوں کے باہمی تعلقات میں سربراہان مملکت و حکومت کے دورے بہت اہمیت رکھتے ہیں، لیکن بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی کے آنے پر میزبان دیس کے عوام دیدہ و دل فرشِ راہ کیے ہوں، ہر نظر مہمان کی راہ تک رہی ہو، ہر دل اس کی آمد کے انتظار میں ہو، جیسے کچھ دنوں سے پاکستانی عوام کے جذبات ہیں کہ ترکی کے صدر جناب طیب اردگان ہماری سرزمین پر قدم رکھنے کو ہیں۔

طیب اردگان کی ولولہ انگیز قیادت کا کمال اپنی جگہ، پاک ترک تعلقات یوں بھی محبت کی خوشبو اور اعتماد کے لمس سے بندھے ہیں۔ یہ رشتہ زمیں و زماں سے زباں تک ہم دونوں اقوام کی پوری زندگی کو محیط ہے۔ اسلام کے مقدس رشتے کے ساتھ تہذیب و ثقافت اور تاریخ کے رشتوں نے ہمیں پیار کے دھاگے میں پرو رکھا ہے۔
اس گہرے، لازوال اور بے مثال تعلق کے سفر کا آغاز ہندوستان کی سرزمین پر ”پاکستان“ کی شروعات سے جا ملتا ہے۔ یہ تاریخ شاہجہاں سے برصغیر کو تاج محل جیسی شاہکار عمارت اور اردو جیسی خوب صورت زبان دینے والے مغلوں تک پھیلی ہے۔ ترک فاتحین اپنی زبان اور ثفافتی اقدار کے ساتھ برصغیر آتے اور یہاں بستے رہے۔ فاتحین کی آمد کے اس سلسلے نے برصغیر کی مسلم ثقافت کی بنیاد ڈالنے میں اہم ترین کردار ادا کیا، جس کی سب سے بڑی علامت اردو زبان ہے، اور کون نہیں جانتا کہ لفظ اردو ترکی زبان کا ہے۔ ان ثقافتی رشتوں کے ساتھ ترکی کی سرزمین برصغیر کے مسلمانوں کے لیے اس لیے اہمیت کی حامل رہی کہ وہاں مسلم امہ کا مرکز یعنی خلافت عثمانیہ قائم تھی۔ اس خلافت پر جب بُرا وقت آیا تو شاید پوری مسلم امہ میں یہ برصغیر ہی کے مسلمان تھے جنھوں نے انگریز حکومت کے زیرنگیں ہونے کے باوجود خلافت عثمانیہ کی حمایت میں تحریک چلائی۔ اس تحریک کی بنا پر ترک باشندوں کو اس حقیقت کا پوری طرح احساس ہے کہ پاکستان اور پاکستانی ان کے سچے اور کھرے دوست ہیں۔ وہ اس حقیقت کے آشنا ہیں اور تاریخ کا یہ سچ ان کے لیے ناقابل فراموش ہے کہ اس مشکل وقت میں جب پوری دنیا ان پر حملہ آور تھی اور سلطنت عثمانیہ کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی تھی تو برصغیر کے مسلمان جو ایک طرف ترکوں کے اولین دشمن انگریزوں کی غلامی جھیل رہے تھے تو دوسری طرف ہندو اکثریت کے ساتھ بہ طور اقلیت زندگی گزار رہے تھے میدان میں نکلے اور انہوں نے ترکی کی جنگ نجات کے موقع پر ان کی ہر ممکن مدد کی تھی۔ جس طرح غیر منقسم ہندوستان کی مسلمان خواتین نے اپنے زیورات فروخت کرتے ہوئے ترکوں کی مدد کی تھی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس بے لوث دوستی کا نتیجہ ہے مسئلہ کشمیر اور مسئلہ قبرص کے بارے میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے موقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
جہاں تک مسئلہ کشمیر کا تعلق ہے تو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے کے لحاظ سے شاید ہی کسی دوسرے ملک نے پاکستان کی اس قدر کھل کر حمایت کی ہو جس قدر ترکی نے کی ہے۔ ترکی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے لے کر دنیا کے مختلف بین الاقوامی اداروں میں تنظیم اسلامی کانفرنس کے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہونے کے ناتے جو کردار ادا کیا اور بھارت کی ناراضی کی ذرّہ بھر بھی پروا نہ کرتے ہوئے پاکستان کے موقف کی جس طریقے سے ترجمانی کی ہے وہ پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے ترکی کی حکومت اور عوام کے خلوص اور محبت کے جذبے کی عکاس ہے۔ دنیا کے کم ہی ممالک ہیں جنہوں نے اس ثابت قدمی سے اور بھرپور انداز میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا ساتھ دیا ہو۔ دوسری طرف پاکستان بھی اپنے ترک بھائیوں سے دوستی نوازی میں کبھی پیچھے نہیں رہا۔ قبرصی ترک جب 1974 کی جنگِ قبرص میں تنہا رہ گئے تھے کی تو ان کی مدد کے لیے صرف پاکستان ہی نے ہاتھ بڑھایا تھا۔ پاکستان نے جنگِ قبرص کے موقع پر اپنے جنگی طیاروں کو ترکی کی نگرانی میں دینے کی پیش کش کی تھی اور بعد میں پاکستان نے شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کا بیورو، جو سفارت خانے کی سطح کا دفتر ہوتا ہے، کھول کر ثابت کر دیا تھا کہ پاکستان کا ترکی سے تعلق محبت اور خلوص کا سچا رشتہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی میں پاکستان اور پاکستانی باشندوں کو بے حد عزت اور احترام حاصل ہے۔

باہمی اخوت ویگانگت کا ایک نظارہ 2005 میں پاکستان میں آنے والے قیامت خیز زلزلے کے غم اور مصائب سے بھرے لمحات کے دوران دیکھا گیا جب ترک باشندوں نے اپنا سب کچھ زلزلے کے متاثرین کے لیے وقف کردیا تھا اور بہت سے ترکوں نے پاکستان پہنچ کر اپنے پاکستانی بھائیوں کے زخموں پر مرہم رکھا تھا۔ طیب اردگان اس زمانے میں ترکی کے وزیراعظم کے منصب پر فائز تھے، ان کی اہلیہ امینے خانم نے اپنا قیمتی ہار فنڈریزنگ مہم میں فروخت کر کے اس رقم کو خود زلزلہ متاثرین تک پہنچایا تھا۔ ایک ماہ بعد وزیراعظم اردگان نے پاکستان اور کشمیر کا دورہ کرکے زلزلہ متاثرین کو خود امداد بہم پہنچا کر ان کے دکھوں کا مداوا کیا تھا۔ ترک ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے اور امدادی تنظیموں نے جس بے لوث انداز میں زلزلے سے متاثرہ افراد کی دیکھ بھال اور مدد کی تھی وہ پاکستانیوں کو ہمیشہ یاد رہے گا۔ اسی طرح ترک بچوں اور بچیوں نے ایک ایک پیسہ جمع کرکے پاکستانی بھائیوں کے لیے خطیر رقم جمع کی تھی۔

دونوں ممالک عسکری شعبے میں بھی ایک دوسرے کے مددگار ومعان رہے ہیں۔
ترکی اسّی کے عشرے سے دہشت گردی کا شکار ملک رہا ہے۔ بعض ممالک کی مالی اعانت کی وجہ سے دہشت گرد تنظیم PKK نے پورے ترکی میں دہشت گردی کا سلسلہ کئی دہائیوں تک جاری رکھا، جس کے نتیجے میں چالیس ہزار کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے۔ ترک مسلح افواج کو علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے جس اسلحے اور فوجی سازو سامان کی ضرورت تھی مغربی ممالک نے اسے ترکی کو فراہم کرنے سے انکار کر دیا، یہی نہیں بلکہ ترکی میں موجود مغربی ممالک کے اسلحے کو باغی کردوں کے خلاف استعمال کرنے پر بھی پابندی عائد کردی۔ ایسے میں پاکستان نے آگے بڑھ کر ترکی کا ساتھ دیا اور فوجی سازو سامان ترکی پہنچایا۔
یوں تو ترکی اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ سے خوش گوار اور محبت اور اخوت کی بنیادوں پر استوار رہے ہیں لیکن موجودہ برسراقتدار جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی، جس کا ترکی میں مخفف آق پارٹی ہے، کے دور میں ترکی اور پاکستان کے درمیان تعلقات نے مزید فروغ پایا ہے۔ پاکستان میں مسلم لیگ (ن) کے برسر اقتدار آنے کے بعد ان تعلقات میں نہ صرف اضافہ ہونے کی توقع کی جا رہی ہے بلکہ یہ تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کیوںکہ ترکی کے صدر رجب طیّب اردگان اور پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے ترقی کے حوالے سے ویژن، خیالات اور سوچ میں بڑی مماثلت پائی جاتی ہے۔

عصر حاضر میں دو اقوام کے تعلقات کا پیمانہ ان کے باہمی اقتصادی تعلقات کو سمجھا جاتا ہے۔ اس حوالے سے جب ہم پاک ترک تعلقات پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دونوں ملک تجارتی تعلقات کے معاملے میں بھی ایک دوسرے کے معاون ومددگار ہیں۔ ترکی اور پاکستان اکنامک کارپوریشن آرگنائزیشن کے اساسی ارکان ہیں اور ترقی پذیر ممالک کی تنظیم ڈی ایٹ کے بھی رکن ہیں۔ دونوں ممالک باہمی تجارت اور معاشی معاونت کو فروغ دینے کی خواہش مند اور اس کے لیے کوشاں ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان فری ٹریڈ کا سمجھوتا بھی ہوچکا ہے، جس کے ثمرات دونوں اقوام کو ملیں گے۔
امید ہے کہ ترک صدر طیب اردگان کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے باہمی رشتے اور تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.