پروپیگنڈازدہ زمانے میں سچائی کا علَم

0 156

قرآن مجید اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک واضح حکم دیا ہے کہ “کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ عدل کرو ۔“
دیکھا جائے تو اس وقت ہماری پوری قوم اس حکم کے خلاف جا رہی ہے۔ ہم سب اپنے اپنے سینوں میں کسی گروہ، کسی فریق، کسی پارٹی سے عقیدت رکھتے ہیں، محبت کرتے ہیں، اس کو ہر میدان میں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم سب چاہتے ہیں ہم جس کے ساتھ ہیں، اسی کا بول بالا ہو، اسی کے گن گائے جائیں اور اسی کی ہر جانب واہ واہ ہو۔ اگر وہ فریق حق پر ہے، سچ پر ہے، اگر وہ بھلائی کا ساتھ دیتا ہے، اگر اس کے کسی عمل سے دین اور وطن کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا تو یہ سوچ کچھ غلط نہیں ہوگی۔ مسئلہ اور اشکال تب پیدا ہوجاتا ہے جب اس کی آڑ میں مخالف فریق کو نیچا دکھاتے ہوئے تمام حدود و قیود پامال کردی جاتی ہیں، تہذیبی جھجک کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے اور لحاظ اور احترام کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اختلاف کسی بھی معاشرے کا اس وقت تک حسن ہوتا ہے جب تک یہ معاشرے میں مثبت تبدیلیوں کو جنم دیتا ہے، جب یہ بگڑ کر تصادم اور ٹکراﺅ کی کیفیت اختیار کرلے تب یہ حسن بری طرح گہنا جاتا ہے۔
اپنے فریق، اپنے گروہ اور اپنی جماعت کی خوبیوں کا چرچا عام کرنے میں اس کی برائیاں ہضم کرجانا ہی حق سے پہلو تہی کی وہ قسم ہے جس کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے اور ہمیں اس سے روکتا ہے۔ ہمیں تو سچائی، راست بازی اور صدق وصفا کا حکم دیا گیا ہے۔ صداقت کی تلوار اگر آپ کے محبوب، آپ کے رشتہ داروں کے مفادات کا سر بھی قلم کردے تب بھی حوصلے، صبر اور جرات کے ساتھ اسے گوارا کرنا چاہیے۔
بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ ذہنی پسماندگی کی اس انتہا کو چھو رہا ہے جس میں صرف اپنے گروہ کا شملہ اونچا کرنا ہی اولین مقصد بن کررہ گیا۔ اب اس سے آپ کے ملک کو نقصان ہو یا نعوذ باللہ اللہ رسولﷺ کے احکامات سے روگردانی کی جائے، اس کی کچھ پروا نہیں کی جاتی۔
شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتاب ”میرے والد میرے شیخ“ میں ایک واقعہ اپنے والد مفتی شفیع کی زبانی رقم کیا ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے ایک صحابی (غالبا ًحضرت عبداللہ بن عمرؓ) کے سامنے حجاج بن یوسف پر کوئی الزام لگایا۔ اس پر انھوں نے فرمایا کہ یہ مت سمجھو کہ اگر حجاج بن یوسف ظالم ہے تو اس کی آبرو تمہارے لیے حلال ہو گئی ہے۔ یاد رکھو! اگر اللہ تعالی حشر کے دن حجاج بن یوسف سے اس کے مظالم کا حساب لے گا، تو تم سے اس ناجائز بہتان کا بھی حساب لے گا جو تم نے اس کے خلاف لگایا۔
اس لیے آج کے پروپیگنڈا زدہ زمانے میں سچائی کا چلن عام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ کسی سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے پہنچایا جائے نہ کسی فریق کی دشمنی میں اس حد تک جانا چاہیے کہ آپ حق اور کی پٹری سے اتر جائیں۔ دوسرے لفظوں میں قرآن کی پکار یہ ہے کہ جانبدار بنو مگر کسی فریق کے نہیں، سچ کے۔ علم اٹھاﺅ مگر کسی گروہ کا نہیں، انصاف کا۔ عقیدت رکھو مگر کسی پارٹی سے نہیں، حق سے۔

مصنف مختلف اخباروں میں کالم لکھتے رہتے ہیں اور آج کل کراچی یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹر کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.