بابا کھیم سنگھ بیدی کا محل جو اب زرفشاں نہیں رہا

0 149

جی ٹی روڈ سے کلرسیداں کا رخ کریں تو سڑک کی کشادگی اور نظارے کی وسعت طبیعت بحال کر دیتی ہے۔ شب بھر میں مسجد بنانے کا واقعہ تو آپ نے ضرور سنا ہو گا لیکن شاید یہ کم کم لوگوں کو پتا ہو کہ لیفٹننٹ گورنر پنجاب کی بگھی کے لیے روات اور کلر کے درمیان 12 میل کچا اور بے ترتیب راستہ نہ صرف شب بھر میں ہموار کر دیا گیا بلکہ اس پر ”پرالی” تک ڈال دی گئی۔ یہ ناممکن کام بابا کھیم سنگھ بیدی کی کرشماتی شخصیت کے باعث ہوا۔ ان کا نام سن کر روات سے کلر کے درمیانی بستیوں کے باسی کام میں جت گئے۔

kalar syedanاگر کلر کی تاریخ کو بابا کھیم سنگھ بیدی سی منسوب کیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ آپ ہندوستان کے مقتدر ترین لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کی شہرت انگلستان تک پھیلی ہوئی تھی۔ مانچسٹر کے کپڑے کے کارخانے اپنے تھانوں پر آپ کی تصویر پرنٹ کرتے تھے۔ آپ کی عوامی مقبولیت کا اس سے بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔

کلر تاریخی اور تہذیبی رنگا رنگی لیے ہوئے ہے۔ جدت اور قدامت کے امتزاج نے اسے جاذبیت بخشی ہے۔ بیدی محل، کرشنا مندر اور کلر تھانہ کی تاریخی عمارات کے اطراف میں کشادہ سڑکوں اور بلند وبالا عمارتوں نے منظر کو دلفریب بنا دیا ہے۔ ”کانسی” کے مدھر خرام نے اس کی زمینوں کو ہریالی اور پاکیزگی بخشی ہے۔

کلر تاریخ کے بے شمار ادوار کا امین ہے۔ قلعہ روات، دان گلی اور سنگنی میں گھرے کلر کے درمیان بابا کھیم سنگھ کی قلعہ نما حویلی ہے۔ جو سن 47 کے فسادات میں گردوارہ کہوٹہ کے طرح خالصہ اور ہندوؤں کے لیے دفاعی حصار ثابت ہوئی۔ ویسے تو دولتالہ، کنتریالہ، ساگری، نڑالی وغیرہ میں بھی سی تاریخی حویلیاں موجود ہیں لیکن اہم ترین کھیم سنگھ بیدی کی یہ حویلی ہے جسے بجا طور پر محل کہا جاتا ہے۔

کلر بازار سے بائیں ہوں تو اندر گلیوں میں سرخ اینٹ کی بلند فصیل کے اندر حویلی اور اسکول ہے۔ 40 سالہ سکھ دور پیکار کا دور تھا۔ اس لیے زیادہ تر حویلیوں کی فصیلیں قلعہ نما تھیں لیکن اس محل نما حویلی کی چاردیواری 4 فٹ کے قریب تھی۔ موجود فصیل، اصطبل اورمحل کے باہر بنے دوسرے کمروں کو گرا کر بنائی گئی ہے جو کافی اونچی ہے۔

گیٹ سے داخل ہوں تو دائیں اور بائیں عملے کے لئے کوارٹر بنے ہیں۔ سامنے وسیع میدان کے کونے پر بیدی محل اور بائیں طرف گورنمنٹ ہائی سکول کلرسیداں کی عمارت ہے۔ محل اور سکول کے درمیان 40 فٹ اونچا پول ہے۔ جس کے سرے پر ”پیتل” کا بنا کرپان/ تلوارکا علامتی نشان ہے۔ 67 سال گزرنے کے باوجود اس کی موجودگی حیرت اور خوشی کا باعث ہے۔ سکھ مذہب بنیادی طور پر ایک صوفیانہ تحریک تھی جسے انتقامی جذبے نے عسکری جتھے میں بدل دیا۔ گرو ارجن دیو کو جہانگیر نے مروا دیا۔ اورنگزیب نے گرور تیغ بہادر کو قتل کروا دیا۔ گرو گوبند سنگھ کے دو معصوم بیٹوں کو دھوکے سےسرہند بلوا کر دیوار میں زندہ چنوادیا گیا۔ سکھ (طالب) سنگھ (شیر) ہو گئے۔ پانچ ککھ پہچان اور کرپان نشان بنا۔ انہوں نے ”راج کرے گا خالصہ باقی رہے نہ کوئی” کا نعرہ لگایا اور پھر کئی دہائیاں خالصہ جھنڈا پنجاب کی فضاوں میں لہراتا رہا۔ نشان کے ساتھ جھنڈے کے لیے لگا “لیور”67 سال سے عدم استعمال کے باعث زنگ آلود ہو چکا ہے۔

سترہ کنال پر پھیلے محل کے تین تخت ہیں۔ درمیانی تخت پر یہ نشان نصب ہے۔ اس نشان کے نیچے سنگ مرمر کا ایک یادگاری پلنگ ہے۔ یہاں کھیم سنگھ بیدی بیٹھا کرتے تھے۔ اس کی ایک سائیڈ پر گورمکھی میں یہ عبارت کندھ ہے :

ਬਰੀ ਬਾਬਾ ਕੀ ਯਾਦ ਮੈਂ ਇਸ ਪਲੰਗ ਕੀ ਥੇਲ ਭਾਈ ਰਾਮ ਸਿੰਗ ਭਾਟਿਯਾ ਨੇ ਕਰਾਈ

“بڑے بابا کی یاد میں اس پلنگ کی ٹہل رام سنگھ بھاٹئیہ نے کرائی”

اس محل کے بارے کچھ زیادہ تفصیل کہیں درج نہیں۔ البتہ کچھ تذکروں سے اتنا پتا چلتا ہے کہ 1836 میں بنا۔ کاریگر ضلع اٹک کے تھے۔ ان میں سے ایک فتح جنگ کے سردار فتح خان تھے۔ مرمت کا کچھ کام 1930 میں ان کے بیٹے سردار محمد نواز خان نے کیا۔

مارچ سنتالیں کے اچانک اور خونی فسادات، ہنگامی ہجرت اور اندھی لوٹ مار نے تمام ریکارڈ تلف کر دیا۔ بعد میں نہ تو اس کے مکینوں نے اس پر کچھ لکھا، نہ کوئی تحقیقی کام ہوا۔ اب تک اس پر جو کچھ لکھا گیا ہے وہ سرسری اور تاثراتی ہے یا پھر تخیلاتی ہے۔ ایک مثال معروف ادیب عزیز ملک کی ہے۔ اس محل کے بارے میں ان کی اکثر باتیں محل نظر ہیں۔ تلخیص ملاحظہ ہو:
“محل میں اب اسلامیہ سکول قائم ہے۔ صحن میں سنگِ مرمر کی ایک قبر ہے۔ اسے شمالاً جنوباً کرنے کی کئی بار کوشش کی گئی مگر اگلی صبح پھر شرقاً غرباً ہو جاتی ہے۔ گور بخش سنگھ بیدی کے گھر کی خواتین برقع پہن کر باہر نکلا کرتیں۔ فجر کے وقت قرآن کی تلاوت کیا کرتا۔ اس نے وصیت کی کہ اس کی لاش کو جلایا نہ جائے مگر خود سر سکھوں نے جلا دی۔ اس کے انتقال پر سات روز تک سوگ رہا اور کلر سیداں میں دور دور خیمے نصب رہے۔ ”
(پوٹھوہار، عزیز ملک، ص 169، لوک ورثہ اسلام آباد،1978)

گوربخش سنگھ بابا کھیم سنگھ کے بیٹے تھے۔ چیفس آف پنجاب میں پنڈی ڈسٹرکٹ کے چیفس میں سب سے پہلے گربخش سنگھ بیدی کا ذکر ہے۔ 1946 میں وفات ہوئی۔ بابا کھیم سنگھ بیدی کی طلسماتی شخصیت کا اعجاز کہیے یا ان کی فرنگ نوازی کہ گوربخش سنگھ کے ذیل میں تمام ذکر ان کے والد کا کیا گیا ہے۔

بابا کھیم سنگھ بیدی کا پوتا دیا سنگھ اور میر صادق کا پڑپوتا اسکندر مرزا پہلے ہندوستانی تھے جنہیں رائل آرمی میں کمیشن ملا۔ ہجرت کے بعد بھی اس خاندان کے افراد نے بہت شہرت حاصل کی۔ بابا کھیم سنگھ بیدی کے پوتے سریندر سنگھ بیدی وہ واحد انڈین بیوروکریٹ ہیں جنہیں 65 اور 71 کی جنگوں میں بطور کمشنر شاندار خدمات سرانجام دینے پر پدم شری اور پدم بھوشن ایورڈ ملے۔ ان کے بڑے بھائی مہندر سنگھ بیدی سحر اردو کے معروف نعت گو شاعر ہیں۔ بولی وڈ کے مشہور ایکٹر امیتابھ بچن بابا کھیم سنگھ بیدی کے بڑے پوتے ہیں۔

محل میں داخل ہوں تو سامنے شاندار جھروکہ ہے۔ غالباً بابا کھیم سنگھ یہاں درشن دیتے ہوں گے۔ دائیں ہاتھ محل کا دروازہ ہے۔ ڈیڑھ سو سال پرانا یہ دروازہ اپنی مضبوطی، بناوٹ اور نفاست میں لاثانی ہے۔ بائیں ہاتھ ایک بڑا ہال ہے۔ گلی کی سائیڈ پر جو دکانیں تھیں ان کے چھت تک لوگ لے جا چکے ہیں اب یہ کھنڈر بنی ہوئی ہیں۔

محل کی دیواریں فنِ مصوری کا شاہکار تھیں۔ گل کاری، مصوری اور نقاشی کی جھلک اب بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ لیکن اب نقش و نگار بے مروتی کا گلہ کر رہے ہیں۔ محل میں داخلے کا ایک ہی راستہ ہے۔ اوپر جانے کے لیے چاروں کونوں میں ایک ایک تنگ زینہ ہے۔ محل کا وسطی حصہ روشنی اور ہوا کے لیے کھلا ہے۔ محل بابے کی وجہیہ شخصیت کا منہ بولتا ثبوت ہے اور ان کی خوشحالی اورعظمت کی یاد تازہ کرتا ہے۔

بابا کھیم سنگھ کا طرز زندگی شاہانہ تھا۔ بابا طلائی چغہ اوڑھتے اور بنارسی چپل پہنتے تھے۔ محل کی آب و تاب اس کی شاہد ہے۔ جھروکے، دریچے، تراشے ہوئے لکڑی کے دروازے، اور دیواری پینٹنگز جو کھیم سنگھ کے جمالیاتی ذوق کی عکاس ہیں۔ لیکن اب محل کی زر افشانیاں اڑ چکی ہیں۔ نہ اب وہ منقش دیواریں ہیں۔ نہ طاقچوں میں رونق، نہ دروازوں میں ہزار حسنِ مہارت سے گھڑے تانبے کی چمک ہے۔

سکھ گردواروں اور حویلیوں میں خالصہ شخصیات کی تصاویر ایک معمول کی بات ہے لیکن ان کا جو اہتمام اس حویلی میں کیا گیا ہے کہیں اور نہیں ہے۔ اب اکثر و بیشتر پر چونا پھیر دیا گیا ہے۔ یہ چونا مصوری کے شاہکاروں پہ نہیں بلکہ ایک عہد کی ثقافتی تاریخ پر پھیرا گیا ہے۔

سکھ گرووں کے ساتھ ہندو دیویوں اور دیوتاوں کی تصاویر ایک سرکشید بیدی کی معتدل شخصیت کی مظہر ہیں۔ آپ بابا گرونانک کی چودھویں پشت سے تھے۔ اس رعایت سے بابا کا سابقہ آپ کے نام کا حصہ ہے۔ سکھوں میں بیدیوں کی وہی توقیر ہے جو مسلمانوں میں سیدوں کی ہے۔

ہندو دیو مالا کے مطابق کوروں اور پانڈووں کی جنگ میں پانڈو ہار گئےـ ان میں سے کچھ نے ” کاشی ” میں ویدوں کی تعلیم حاصل کی اور ویدی کہلائے۔ کاشی سے لفظ ”ویدی” جب پنجاب پہنچا تو ”بیدی ” ہو گیا۔ مشرقی پنجاب میں اونا، ہوشیارپور اور مغربی پنجاب میں کلر بیدیوں کے مراکز تھے۔ انگریزوں نے ساہیوال میں بے شمار زمین بابا کھیم سنگھ بیدی کو دے دی اس طرح یہ بھی ان کا مرکز بن گیا۔

یہ بات دلچسپ ہے کہ تھوہا خالصہ، ڈیرہ خالصہ اور چوہا خالصہ کے درمیان کلر خالصہ کیوں نہیں ہے۔ جب کہ سکھوں کے بہت بڑے روحانی پیشوا سر بابا کھیم سنگھ کا تعلق یہیں سے تھا۔ جنہیں تمام گردواروں کا نذرانہ تک پیش کیا جاتا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کلر پر سیدوں کا استحاق سلطان مقرب خان گکھڑ کے دور سے ہے جب کہ سکھوں کا اٹھارویں صدی سے۔ کلر کی سادات فیملی کے سید عباس علی شاہ کے بقول کلر کے نام کے قضیے پر ایک مقدمہ بھی کہوٹہ میں زیرِ سماعت رہا جس کا فیصلہ سادات کے حق میں ہوا۔

بابا کھیم سنگھ بیدی کی روحانی اور مذہبی حوالے سے انتہائی عروج پر پہنچ کر زوال آشنا ہو گئے۔ لیکن دیگر حوالوں سے ان کا شخصی طلسم ٹوٹ نہیں سکا۔

خالصہ اقتدار کا سورج 1848 میں غروب ہو گیا۔ 1873 میں سکھ اس وقت لرز گئے جب امرتسر مشن سکول کے چار سکھ سٹوڈنٹس نے پانچ ککھ اتار پھینکنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ سکھ قیادت نے کھیم سنگھ بیدی کی قیادت میں سنگھ سبھا کے نام سے ایک تنظیم بنائی جس کا مقصد سکھوں کی سوچ میں وسعت اور اٹھان پیدا کرنا تھا۔ انہوں نے اپنی گدی گولڈن ٹمپل امرتسر میں گوروگرنتھ صاحب کے برابر جا لگائی اور ساتھ وید بھی رکھ دیے۔ گرنتھیوں نے ان کی گدی اٹھا کر سڑک پر پھینک دی۔ آپ نے اپنا مرکز لاہور بنا لیا اور آخر میں آپ پوٹھوہار تک محدود ہوگئے۔

سکھ انسائیکلوپیڈیا کے مطابق صرف پنڈی ڈسٹرکٹ میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے بابا صاحب نے پچاس سکول کھولے۔ 1893 میں بیٹی کی شادی کے موقعے پر 3 لاکھ روپے فلاحی کاموں کے لئے دیے۔ اس میں سے نصف رقم سے پنڈی میں ایک کالج کے قیام کے لیے تھی۔ 1894 میں اس کی ابتدا ایک ووکیشنل سکول سے ہوئی جہاں فوٹوگرافی اور دیگر فنی کورسز کرائے جاتے تھے۔ حکومت کی سنگل ٹیچر اسکول سسٹم کا پہلا اسکول کلر میں 1896 میں کھولا جو اب گورنمنٹ کالج کلر سیداں ہے۔ راجہ بازار راولپنڈی میں پنجابی سرائے، گردوارہ سری دمدمہ صاحب اور بازار دالگراں مارکیٹ تعمیر کرائی۔ پنجابی سرائے میں اپنے لیے خصوصی کمرہ تیار کروایا جہاں سے گردوارہ پنجہ صاحب کا نظارہ کیا جا سکتا تھا۔

دیوان سنگھ مفتون اپنے شہرہ آفاق خود نوشت ‘ناقابل فراموش’ کے صفحہ نمبر 546 میں لکھتے ہیں کہ ہندوستان میں سکھوں اور ہندوؤں میں آپ سا مقتدر مذہبی لیڈر پیدا نہیں ہوا۔ آپ کے اس عوامی اقتدار سے انگریز حکومت بھی ڈرتی تھی اور آپ کی نقل و حرکت پر نظر رکھتی تھی۔

بابا عبادت گزار شخصیت تھے۔ زہد اور عبادت کا اثر ان کے چہرے پر بھی نمایاں تھا۔ بابا صاحب کی تصویریں ان کے جمال کی عکاس ہیں۔ باطنی اور ظاہری جلال و جمال کے علاوہ آپ کی خوش لباسی بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ بابا طلائی چغہ اوڑھتے اور بنارسی چپل پہنتے تھے، آواز بھی سریلی تھی اور بلا کے شکاری تھے۔ شکاری کتے، گھوڑے، ہاتھی تک رکھے ہوئے تھے۔

بابا کھیم سنگھ تعلیم کے فروغ کے لیے سکولوں کے اجرا میں بہت دلچسپی رکھتے تھے۔ سن 47 کے فسادات سے ان کی گھائل آتما کو اس وقت شانتی ملی ہو گی جب یہ محل اسکول بنایا گیا۔ تیس سال بعد جب محل کی عمارت خطرناک ہو گئی تو سکول بابا کے سنگ سفید کے یادگاری پلنگ کے اس طرف نئی عمارت میں منتقل کر دیا گیا۔

1857  میں فلسفی انگریز اسسٹنٹ کمشنر برکلے کی ہمراہی میں ”بلوائیوں”  کے ساتھ گفت و شنید کی غرض سے جا رہتے تھے کہ ایک حملے میں برکلے جاں بحق ہو گیا اور بابا بمشکل بچے۔ انعام کے طور بابا کو خلعتِ فاخرہ، ڈبل بیرل رائفل اور 7,800 ایکڑ زمین ساہیوال میں الاٹ کی گئی۔ 1877 کو مجسٹریٹ اور آنریری منصف مقرر ہوئے۔ سال بہ سال ترقی کرتے کرتے 1898 میں آپ کو ”سر” کا خطاب دیا گیا۔ ان پر مجموعی نوازشات کے حجم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ترکے میں صرف ساہیوال میں 28 ہزار ایکڑ سے زائد زمین چھوڑی۔

اگر بابا کھیم سنگھ بیدی کو پوٹھوہار کا سرسید کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ بعض باتوں میں آپ سرسید سے بھی آگے تھے۔ آپ واحد مذہبی لیڈر تھے جو اٹھارویں صدی میں بھی عورتوں کی تعلیم کے حامی تھے۔ چیچک کے خاتمے کے لیے آپ نے قابلِ قدر کام کیا۔

محل کی چھت سے پوری تحصیل کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ محل کا رخ مشرق کی طرف ہے۔ بالکل سامنے کچھ فاصلے پرتھانہ کلر کی تاریخی عمارت ہے۔ تراشیدہ پتھروں سے بنا یہ تھانہ تحصیل آفس کہوٹہ کی عمارت سے کافی مشابہت رکھتا ہے۔ اوول کے ہیرو مشہور کرکٹر فضل محمود اس تھانے میں ایس ایچ او رہے ہیں۔

جب میرا رخ اسلام آباد کی طرف ہوا تو میں سن اسی کی دہائی میں پہنچ گیا۔ اگر خالصتان تحریک کے دوران جنرل ضیاء کے کان میں اس محل کی بھنک بھی پڑ جاتی تو آج اس کی خستہ حالی کا ماتم نہ ہو رہا ہوتا۔

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ یہ محل سکھ عہد سے پارٹیشن تک کلر کی تاریخ ہے۔ یہ علم و عبرت کا نشان ہے۔ یہ مشترک ثقافت کے انہدام کی داستان ہے۔ کلر کے ساتھ خالصہ سیداں کی سنگت کی کہانی کی کچھ کڑیاں اس سے بھی وابستہ ہے۔

بیدی محل میں پڑھنے والوں میں جنرل ٹکا خان جیسے لوگ موجود ہیں۔ پچھلی صدی کی اسی کی دہائی میں پنڈی کے ایک باذوق ڈپٹی کمشنر نے پی ڈبلیو ڈی سے اس کی بحالی کا تخمینہ لگوایا تو 22 لاکھ بنا۔ اتنی بڑی رقم کی فراہمی ممکن نہیں تھی۔ اس لئے انہوں نے اسے کو گرا کر نیا سکول بنانے کا کہا تو جنرل ٹکا خان نے مخالفت کی اور سامنے محل کے باغیچے میں نیا سکول بنانے کی تجویز دی۔ جس کا افتتاح 1997 میں ہوا۔

کلر زدہ زمین میں بابا کھیم سنگھ بیدی، بابا گور بخش سنگھ اور خالصہ سکول کلر کے ہیڈ ماسٹر تارا سنگھ کا مذہبی، سماجی اور سیاسی میدانوں میں اس طرح حکومت کرنا کلر سیداں کے لیے یقیناً باعثِ فخر ہونا چاہیئے۔ لیکن جغرافیے نے تاریخ کو بھی بدل دیا۔ سن 47 کے بھیانک فسادات اور خونی ہجرت نے نفرت کی وہ فصیلیں کھڑی کیں کہ اب تک انہیں گرایا نہیں جا سکتا۔ اس محل کو ثقافتی ورثہ میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔ کسی وزٹرز بک کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ یوں لگتا ہے کہ متعلقہ ادارے بے بس محل کی موت کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔

امن و آشتی کے محل گر جائیں تو سنگ و خشت کے محلات مخدوش ہو جایا کرتے ہیں۔ لاہور کی اکثر عمارات اس محل سے کہیں قدیم ہونے کے باوجود ٹھیک حالت میں ہیں۔ اگر ہنزہ کا محل نما قلعہ التت نو سو سال بعد بحال کیا جا سکتا ہے تو ڈیڑھ سو سالہ پرانی عمارت کی بحالی مشکل نہیں۔ بیدی محل اور اس قسم کی دیگر عمارتوں اور یادگاروں کی بحالی سے وطن کے چاند چہرے پر پڑا تشدد کا سیاہ نقاب اتارا جا سکتا ہے۔ قبل اس کے کہ یہ دم توڑتا محل ہماری تہذیبی موت پر تصدیقی مہر ثبت کر دے، اس کے فوری بحالی کو ممکن بنانا چاہیے۔

مصنف اردو گورنمنٹ ڈگری کالج کہوٹہ میں لیکچرار ہیں۔ اس کے علاوہ صدر کہوٹہ لٹریری سوسائٹی بھی ہیں۔ سابق مدیر کالج میگزین امکان۔ ادب، سیاحت اور تاریخ سے خصوصی لگاؤ ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.