ٹریسا مے کا برطانیہ کیا عالمی تنہائی کی طرف بڑھ رہا ہے؟

14 1,934

برطانوی حکومت کو ملک میں ہونے والے یورپی یونین ریفرنڈم کے بعد سے اب تک مسلسل مشکلات کا سامنا کرنا رہا ہے۔ اس کی دو تین خاص وجوہات ہیں جس میں پہلی اور سب سے بڑی وجہ ڈیوڈ کیمرون کے بعد نئی برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مے ہے کیونکہ ڈیوڈ کیمرون کی ذاتی شخصیت، ترجیحات، سیاسی قابلیت اور بحث و مباحثے میں حاضر دماغی کہیں زیادہ تھی۔ جب ڈیوڈ کیمرون بات چیت کرتا تھا تو اس کے الفاظ بولتے تھے کہ وہ دنیا پر ایک لمبے عرصے تک راج کرنے والے ملک کا وزیر اعظم ہے جسے وہ عظیم برطانیہ کے نام سے پکارتے ہیں۔ برطانیہ دنیا کا ایک بڑا ملک ہے اور ڈیوڈ کیمرون کی شخصیت بھی اس کے ملک ہی کی طرح بین الاقوامی سطح کے لیڈر کی تھی۔ لیکن اس کے بر عکس ٹریسا مے کی شخصیت اور سیاسی پالیسیوں کو دیکھا جائے تو وہ کسی نسل پرست خطے کی وزیر اعظم محسوس ہوتی ہیں، نہ کہ برطانیہ کی۔

اس پر آپ کو زیادہ غور فکر یا تحقیقات کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ ٹریسا مے کے پچھلے چند ہفتوں کے بیانات اٹھا کر دیکھ لیں تو آپ کو یہ بات واضح نظر آئی گی کہ ٹریسا مے کا وزیر اعظم منتخب ہونے پر جرمن چانسلر کے ساتھ موازنہ کیا جا رہا تھا کہ کون بااثر اور طاقت ور کہلائے گی لیکن جرمن چانسلر انجیلا مارکل بین الاقوامی ساکھ کی حامل ہیں اور ٹریسا مے نہ صرف اپنی ذات کو بلکہ کنزویٹیو پارٹی اور ملک کو نسل پرستی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ اب بر طانیہ چاہتا ہے کہ یورپی یونین میں موجود سنگل مارکیٹ کا درجہ بر قرار رکھا جائے تاکہ بر طانیہ کو دنیا سے تجارت کرنے میں آسانی رہے اور مہنگائی سے بھی بچا جا سکے جبکہ یو رپین کونسل کے صدر ڈانلڈ ٹسک نے بڑے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگر بر طانیہ سنگل مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے یورپی یونین ممالک سے لوگوں کی آمد و رفت کو پہلے کی طرح جاری رکھنا پڑے گا، اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے کیونکہ یورپی یونین کو پتہ ہے کہ سنگل مارکیٹ تک رسائی ہی برطانیہ کی واحد کمزوری ہے اور وہ اس پر کسی صورت سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور نہ ہی ہوں گے کیونکہ مذاکرات کی میز پر برطانیہ کافی کمزور ہے۔ دوسری طرف برطانوی پارلیمنٹ کے بہت سے ممبران بضد ہیں کہ ہمیں یورپی یونین سے باہر نہیں آنا چاہیے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر افراد کی آمد و رفت کو روکا نہیں جاتا یا حکومت یورپی یونین سے باہر نہ جانے کا فیصلہ کرے تو عوام نے پہلے ہی اس کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے اور حکومت جانتی ہے کہ یہ اس کی سیاسی موت کے مترادف ہو گا۔

ٹریسا مے کی مشکلات میں لیبر پارٹی کے نئے لیڈر جیرمی کوربن بھی ہیں۔ لیبر پارٹی کا نیا لیڈر منتخب ہونے کے بعد نہ صرف ان کی ذاتی شخصیت کا گراف اوپر گیا ہے بلکہ لیبر پارٹی کا گراف بھی بڑی تیزی سے اوپر جا رہا ہے۔ ماضی میں صورت حال اس کے بر عکس تھی۔ ڈیوڈ کیمرون کے مقابلے میں لیبر کے سابق لیڈر ایڈ ملی بینڈ کافی کمزور تھے اور اب جیرمی کوربن کو مستقبل کا وزیر اعظم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اگر ٹریسا مے یورپی ممالک سے لوگوں کی آمد و رفت کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوتی ہیں جو کہ بظاہر ایسا ہی نظر آرہا ہے تو لیبر پارٹی کو آ ئندہ انتخابات میں بہت بڑا خلا مل جائے گا، جسے وہ لوگوں کے سامنے حکومت کی ناکامی کے طور پر پیش کریں گے اور یہ ایک ایسا نقطہ ہے جس کی کامیابی کے آثار آپ کو ابھی سے واضح نطر آ رہے ہیں۔

لندن ایک عالمی تجارتی منڈی کی حثیت رکھتا ہے۔ کسی بھی تجارتی منڈی میں کوئی بھی کمپنی پیسہ لگائے گی تو ظاہر ہے کہ وہ اپنے تجربہ کار اور اس پیشے میں مہارت رکھنے والے لوگ وہاں لے جائے گی جو نئے لوگوں کو بھی ٹرین کر سکیں اور کاروبار بھی چلائیں۔ ٹریسا مے برطانیہ کو 1980 کی دہائی میں واپس لے جارہی ہے جس وقت قوم پرست جماعت نیشنل فرنٹ یو کے کا نعرہ تھا ‘برطانوی ملازمت برطانوی شہری کے لیے’ اور اب یہ نعرہ ایک بار پھر سننے کو مل رہا ہے۔

مے کو لگتا ہے کہ غیر ملکی افراد کے آنے سے برطانوی شہری بے روزگار اور تنخواہوں میں کمی ہو رہی ہے اور مختلف کمپنیوں کو کہا جا رہا ہے کہ آپ حب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے صرف برطانوی شہریوں کو ملازمت دیں۔ یہاں تک کہ غیر ملکی ڈاکٹرز جو لوگوں کی زندگیاں بچاتے ہیں، ان کا رستہ بھی بند کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہوم سیکریٹری ایمبر روڈ نے کمپنیوں سے ان کے غیر ملکی ملازموں کی لسٹ طلب کی ہے تاکہ ان کو لوگوں کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ یہ کمپنیاں برطانیہ میں غیر ملکیوں کو زیادہ ملازمتیں دے رہی ہیں۔ ٹریسا مے کی یہ قوم پرستی کی پالیسی ان کی اپنی جماعت کنزرویٹو کی ماضی کی پالیسیوں سے بالکل مختلف ہے جو کہ زیادہ دیر تک برطانیہ کے لیے قابل برداشت نہیں ہو سکتی۔ اس کے نقصانات بہت سنگین ہو سکتے ہیں۔ گلوبل ویلج میں بر طانیہ تنہائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

 

رانا ساجد سہیل بر طانیہ میں مقیم ہے اور بین الاقوامی سیاست اور تاریخ پر گہری نظر رکھتے ہیں لکھاری بھی ہیں اور دنیا نیوز کے ساتھ بطور رپورٹر صحافتی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

14 تبصرے

  1. Rana Sajjad Shakir کہتے ہیں

    Excellent write up its good to have some information about international issues

  2. Haider Khan کہتے ہیں

    Excellent article. The writer has a deep insight into the political system of the UK.

  3. عام ادمی کہتے ہیں

    برطانیہ کی وقتی تنہای کومتقل منزل سمجنا قبل از وقت ہے۔ اکانومی جن سے خود دنیا سیکھتی ہے۔ وہ برج اتنی جلدی نہیں گرتے۔ وقت ثابت کرے گا کے فیصلہ درست تھا۔

    1. Rana Sajjad Shakir کہتے ہیں

      I think it’s not about decidon what I understood he written about the
      implementation of brexit and the way she heading to UK and its reality

  4. umar rana کہتے ہیں

    very well written and intersting facts about european issues

  5. Rana Kashif کہتے ہیں

    welldone rana sb but i shall disagree because there would be some difficuties its historical step so not gonna be so easy

  6. Usman ch کہتے ہیں

    Informative & facts..agree with mostly part of ur opinion..Sohail Saab..

  7. Khalid کہتے ہیں

    Good work Rana saab

  8. Farzana Mukhtar کہتے ہیں

    Very well written
    Well done
    Keep up the great work

  9. rashid rana کہتے ہیں

    great piece rana sb …. …. totally agree Brtin should be broadminded and May going against her own party policy if we compare to past

  10. Zahid mehmood کہتے ہیں

    Nicely written , well worked on !!!

  11. ahmad ali کہتے ہیں

    british will face more and more difficulties in future now we have to face more diverse impact in future

  12. muhammad jabar کہتے ہیں

    i dont agree British is great country nothing gonna happen its just shaking for short term

  13. Hafiz Arslan کہتے ہیں

    Buhut hi zaberdast

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.