گلوبل وارمنگ اور ہماری لاپرواہی

0 531

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ 100 سالوں میں دنیا کا اوسطاً درجہ حرارت 0.6 ڈگری بڑھا ہے اور خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ سمیت گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں اضافہ جاری رہا تو رواں صدی کے اختتام تک عالمی درجہ حرارت میں 5.8 ڈگری تک اضافہ ہوجائے گا جس کے نتائج انتہائی خوفناک ہوں گے۔

ترقی یافتہ اقوام سپیس سائنس کے شعبہ میں حیرت انگیز ترقی کرتے ہوئے اب سیٹلائٹ مینوفیکچرنگ اور اس کے بعد لانچنگ بھی انجام دے رہی ہیں۔ جامعات کے طلبہ کا بنیادی سائنسی معلومات اور انگریزی سے ہم آہنگ ہونا ناگزیر ہے۔ سپیس سائنس کی فیلڈ میں ابھی بہت سارا کام کیا جاسکتا ہے اور اس ضمن میں طلبہ کا کردار کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔ انسانی سرگرمیوں سے وقوع پذیر ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کی نگرانی کے لیے سیٹلائٹ ریمورٹ سنسنگ ایک اہم تکنیک ہے جس کے استعمال سے خطرناک قدرتی آفات سے بچا جا سکتا ہے۔

عصر حاضر میں دنیا کی تمام ترقی یافتہ اقوم عوام الناس کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بنیادی سہولیات فراہم کررہی ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں حکومت عوام الناس کو ٹیکنالوجی تودرکنار بلاتعطل بجلی فراہم کرنے سے بھی قاصر ہے۔ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ معیشتوں کے لیے بلاتعطل بجلی ناگزیر ہے مگر پاکستان جہاں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹوں تک جاپہنچتا ہے وہاں ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان بہت پیچھے رہ گیا ہے۔

پاکستان میں بجلی کی طلب میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے جس کی ایک بڑی وجہ بڑھتی ہوئی آبادی ہے اورطلب ورسد میں فرق ہے۔ اس مسئلے نے پاکستان میں تعلیم، صحت اور صنعتوں کے شعبوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت مذکورہ اہم مسئلہ سے نبردآزما ہونے کے لیے بجلی پیداکرنے کے متبادل ذرائع بالخصوص ونڈ انرجی پر توجہ دیے جس کے ذریعے پاکستان میں بجلی کے بحران پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

قومی اور بین الاقوامی سطح کے میگاپروجیکٹس بالخصوص پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو موسمیاتی تبدیلی کی مناسبت سے مرتب کرنے کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں سائنسی آلات اور علوم بالخصوص جیولوجی، جیو فزکس اور سیسمولوجی کے استعمال کی ضرورت ہے۔ مذکورہ پروجیکٹ کے راستے میں بڑے گلیشیئرز موجود ہیں اور اگر ان موسمیاتی اور ماحولیاتی عوامل کو مدنظر نہ رکھا گیا تو مذکورہ پروجیکٹ خطرات سے دو چار ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ 100 سالوں میں دنیا کا اوسطاً درجہ حرارت 0.6 ڈگری بڑھا ہے اور خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ سمیت گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں اضافہ جاری رہا تو رواں صدی کے اختتام تک عالمی درجہ حرارت میں 5.8 ڈگری تک اضافہ ہوجائے گا جس کے نتائج انتہائی خوفناک ہوں گے۔ انٹارکٹیکا سمیت دنیا بھر کے گلیشیئر ز پگھل جائیں گے جس سے اکثر جزیرے اور ساحلی شہر زیر آب آجائیں گے۔ گلوبل وارمنگ کی ایک بڑی وجہ ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا بڑھتا ہوا اخراج ہے جس کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت میں بھی بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر اسی رفتار سے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا رہا تو اس کی وجہ سے طوفان، قحط سالی، سیلاب، ہیٹ سٹروک، گلیشیئرز کا پگھل جانا اور غذائی قلت جیسے خطرناک مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مذکورہ خطرناک نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کو کم سے کم کیا جائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.