آفریدی بیٹیوں کے سر پر ہاتھ کیوں رکھے، میانداد بتائیں

2 711

قومی کرکٹ ٹیم کے سپر سٹارز جاوید میانداد اور شاہد آفریدی کے درمیان لفظی جنگ ان دنوں میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہے۔ شاہد آفریدی کی جانب سے جاوید میانداد کو پیسوں کا ”رسیا” قرار دیا جا رہا ہے تو دوسری جانب میانداد صاحب نے بوم بوم آفریدی پر سپاٹ فکسنگ کا الزام عائد کر دیا ہے۔ جاوید میانداد نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ شاہد آفریدی نے ماضی میں میچ تک بیچ ڈالے تھے۔

دراصل اس لفظی جنگ کا آغاز رواں سال اس وقت ہوا جب شاہد آفریدی نے بھارت میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’کرکٹ کھیلنے کا جتنا مزہ بھارت میں آیا، کسی اور ملک میں نہیں۔ بھارتی عوام کا پیار میرے لیے ہمیشہ یادگار رہے گا‘۔ اس بیان کے آتے ہی شاہد آفریدی کو نہ صرف سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا بلکہ انہیں لیگل نوٹس کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ نوٹس کے متن میں کہا گیا کہ شاہد آفریدی کے بھارتیوں کے حق میں بیان سے پاکستانیوں کے جذبات مجروح ہوئے، وہ یا تو اس بیان کی وضاحت کریں ورنہ آرٹیکل 6 کے تحت غداری کے مقدمے کے لئے تیار ہو جائیں۔ اسی دوران لیجنڈ میانداد بھی منظر عام پر آئے اور ایک نجی چینل کو انٹرویو میں یہاں تک کہہ دیا کہ انہیں شاہد آفریدی کے اس بیان سے بہت صدمہ ہوا اور تکلیف پہنچی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شاہد آفریدی کو ایسی بات کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔ خلاف توقع آفریدی نے اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔

گزشتہ دنوں خبریں منظر عام پر آئیں کہ شاہد آفریدی اور سعید اجمل کو ریٹائر کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے تو اس پر آفریدی نے پہلے تو یہ ردعمل دیا کہ کرکٹ کب چھوڑنی ہے، وہ اس کا فیصلہ خود کریں گے۔ کسی کے دباؤ میں آ کر فیصلہ نہیں کریں گے۔ وہ ابھی مزید کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں، تاہم جب نجم سیٹھی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ شاہد آفریدی کو عزت و احترام کے ساتھ رخصت کرنے کے حق میں ہیں، تو اس ٹویٹر پیغام کے بعد آفریدی کی جانب سے فیئر ویل کا مطالبہ سامنے آیا نیز یہ کہ انہوں نے قومی کرکٹ کو اتنے سال دیے، اس لیے ان کا حق ہے کہ انہیں ”عزت” کے ساتھ رخصت کیا جائے۔

شاہد آفریدی کی اس خواہش پر بھی جاوید میانداد چپ نہ رہ سکے اور بیان داغ دیا کہ شاہد آفریدی کو صرف پیسوں کی فکر ہے۔ میرا نہیں خیال کہ انہیں الوداعی میچ کھلانا چاہیے۔ گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں جاوید میانداد کے بیان پر شاہد آفریدی سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ‘میانداد کو تو ساری زندگی پیسوں کا مسئلہ رہا ہے، اور اب بھی ہے۔ اتنے بڑے کرکٹر کو اتنی چھوٹی بات نہیں کرنی چاہیے۔ یہی فرق عمران خان اور جاوید میانداد میں تھا۔’ شاہد آفریدی کے اس بیان پر جاوید میانداد اتنے سیخ پا ہوئے کہ معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں نہ صرف نمک حرام کے لقب سے نواز دیا، بلکہ میچ فکسنگ کا الزام بھی عائد کر دیا۔ جاوید میانداد نے تمام حدوں کو پھلانگتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ شاہد آفریدی اپنی بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائیں کہ انہوں نے کبھی میچ فکسنگ نہیں کی؟ اس کے بعد شاہد آفریدی کی جانب سے جاوید میانداد سے معافی مانگی گئی تاہم اب تازہ ترین اطلاعات ہیں کہ انہوں نے میچ فکسنگ کے الزامات پر جاوید میانداد کو لیگل نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر عمل درآمد محرم الحرام کے بعد ہوگا۔

یہ صورت حال پاکستانی کرکٹ کے لئے انتہائی افسوسناک ہے۔ جاوید میانداد ہوں یا شاہد آفریدی، دونوں کھلاڑیوں کی قومی کرکٹ کے لئے بے پناہ خدمات ہیں۔ دونوں سپر سٹارز نے اپنے اپنے وقت میں کرکٹ میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ حالیہ بیان بازی سے نہ صرف دونوں کھلاڑیوں کی جگ ہنسائی ہوئی بلکہ پاکستان کا نام بھی بدنام ہوا۔ اگر جاوید میانداد کو شاہد آفریدی سے اختلاف ہے تو انہیں شائستگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ جاوید میانداد پہلے ہی اپنے بیانات میں شاہد آفریدی کو آڑے ہاتھوں نہ لیتے تو بات یہاں تک نہ پہنچتی۔ اور حال ہی میں شاہد آفریدی سے یہ ڈیمانڈ کہ وہ اپنی بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائیں، اتنے بڑے کھلاڑی کے بالکل شایان شان نہیں ہے۔

جہاں تک بات شاہد آفریدی کی خواہش کی ہے کہ انہیں الوداعی میچ کھلایا جائے تو پی سی بی کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ کیونکہ ماضی میں انضمام الحق کو 2007ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف الوداعی میچ کھلانے کی روایت موجود ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ پی سی بی نے یہ میچ انضمام الحق کی خواہش پر کھلایا تھا یا اس میں قومی کرکٹ کے کرتا دھرتاؤں کی اپنی منشاء شامل تھی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Rizwan malik کہتے ہیں

    جاوید میانداد ایک بہت بڑا نام ہے کرکٹ میں بہت عرصہ تک انھوں نے ملک کی خدمت کی اب وہ جہاں بھی انٹرویو دیتے ہیں یا کرکٹ پر بات کرتے ہیں تو مہربانی کریں کھلاڑیوں نشانہ نہ بنائیں تبصرہ کریں پر کسی پر طنز کے تیر نہ برسائیں اپنی عزت اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے اور شاہد آفریدی کا اتنا سب سب سننے کے بعد یہ بیان ایک فطری ہے جو انھوں نے دیا ۔اور شاہد آفریدی کو الوداعی میچ بھی کھلانا چاہیے جیسے کہ سب ملکوں میں ہوتا ہے

  2. صفدر عباس کہتے ہیں

    جاوید میاں داد نے اس ہیرو پر الزام لگایا ہے جس پر بہت سے جوا ماسٹر بھی کوشش کرتے رہے مگر ناکام ہوئے۔
    شاہد آفریدی ایک حب الوطن کھلاڑی ہے جو آج تک فکسنگ کے نزدیک ہی نہیں گیا ۔
    اور جاوید میاںداد صاحب ! ایک باپ کو اتنا مجبور نہیں کیا جاتا کہ وہ اپنی صفائی دینے کےلئے اپنی بیٹیوں کے سروں پر ہاتھ رکھ کے قسم کھائے۔۔۔۔۔۔۔
    میں آفریدی کے پاس نہیں رہتا .. لیکن آفریدی کی جگہ میں اپنے بچے کے سر پر ہاتھ رکھے کے قسم کھانے کےلئے تیار ہوں کہ آفریدی کبھی میچ فکس نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.