اب حملہ ہوا تو 1971 کا بدلہ بھی لیں گے

2 482

۔26 ستمبر 2016 تک ہم تمہیں چالاک، زیرک، ہوشیار اور سمجھدار انسان سمجھتے تھے۔ ہم تمہاری اشتعال انگیزیوں کو یہ کہہ کر نظر انداز کرتے رہے کہ شاید 18 فوجیوں کے غم نے وقتی طور پر تمہارا دماغی توازن بگاڑ دیا ہے۔ ہمارا گمان تھا کہ تم کبھی اس پاگل پن کا آغاز نہیں کرو گے جو ماچس کی ایک تیلی سے شروع ہوتی اور ساری بستی جلا کر راکھ کردیتی ہے، جو ہیروشیما اور ناگاساکی میں زمین کا کلیجہ پھاڑ دیتی ہے، انسانوں کے بنائے ہوئے ہتھیاروں سے انسانوں کی دیوانگی کا نتیجہ انسانوں کی نسلیں تک بھگتتی ہیں۔ لیکن اس دن کے بعد ہم اپنی اس سمجھ بوجھ سے رجوع پر مجبور ہیں۔ اب تمہارے بارے میں ہمارا تاثر ایک بے وقوف شخص سے زیادہ کچھ نہیں۔اس کی بہت سی وجوہ ہیں، تم کہتے ہو تو کچھ تم کو بتائے دیتے ہیں۔

تم شاید جانتے ہو کہ جنگیں کوئی معاشرہ، سیاستدان یا فوج اکیلے نہیں لڑسکتے۔ یہ میدان جنگ میں تنہا کود پڑیں تو صرف جان سے ہی نہیں جاتے، اپنی ساکھ، عزت اور وقار کھو دیتے ہیں اور شرمندگی کی گٹھڑی سارے جیون کا بوجھ بن کر ان کے سر کا حصہ بن جاتی ہے۔ کوئی بھی جنگ ہو، چھوٹی یا بڑی، یا تمہاری اصطلاح میں سرجیکل سٹرائیک کو ہی دیکھ لو، کبھی عوام، سیاستدان اور فوج کے مشترکہ اتحاد کے بغیر جنگ جیتی ہی نہیں جاسکتی۔ تمہاری بدقسمتی یہ ہے کہ تم اس اتحاد سے محروم ہو۔ تم جنگی جنون بھڑکا کر اپنی انا کی تسکین چاہتے ہو، مگر تمہارے عوام ہی تمہاری سب سے بڑی اپوزیشن بنے ہوئے ہیں۔ امریکی ادارے کا سروے کہتا ہے کہ 50 فیصد عوام تمہاری جنونیت کے ساتھ نہیں۔ تمہاری کئی ریاستیں غربت، بے روزگاری اور پانی کے بحران کا شکار ہیں۔ وہاں مائیں اپنی کوکھ تک کرائے چڑھانے پر مجبور ہیں۔ انہیں ان آگ کے بگولوں کے چکر میں پڑنے کی فرصت ہی نہیں۔ تمہارے سیاستدان بھی تمہاری جارحانہ پالیسیوں سے تنگ ہیں، اور ایک ان میں اچھی عادت ہے کہ وہ سچ بول دیتے ہیں، اس لیے جب نئی دہلی میں تمہارا وزیر داخلہ سیاسی جماعتوں کے اجلاس سے خوش و خرم آرہا تھا تو اپوزیشن جماعتوں میں سے کسی نے بھی سرجیکل سٹرائیک کے دعوے پر یقین نہیں کیا تھا، اس لیے کہ یہ صرف دعوے تھے، حقیقت تھی نہ ثبوت۔ یہ تو گیس والے غبارے جیسے ہوتے ہیں، انہیں تھوڑی دیر ہوا میں اڑنا ہوتا ہے اور پھر اس کے بعد سوکھ کر کانٹا ہوئے بچے کی طرح سمٹتے جاتے ہیں۔

تم کتنے نادان ہو، اس کا اندازہ اب ہوا۔ تم نے جنگ یا جنگ کا ماحول بنانے کے لیے کتنے برے وقت کا انتخاب کیا۔ ایک ایسا وقت جب پاکستانی قوم اتنی متحد ہے جیسی پہلے کبھی نہ تھی۔ انہیں پاک فوج پر ایسا غیر متزلزل اعتماد ہے جیسا شاید 1965 کی جنگ میں بھی نہ تھا۔ تمہیں یاد ہے تب یہ 17 دن پوری قوم نے پاک فوج کے ساتھ سرحد پر گزارے تھے۔ تب تو ہمارے سیاستدانوں نے بھی وقت کے حکمرانوں سے اپنے لڑائی جھگڑے چھوڑ دیے تھے۔ ہاں ہم مانتے ہیں ہمیں 1971 میں شکست ہوئی، مگر اس کا سبب یہی تھا نا کہ ہم بحیثیت قوم اس جنگ میں شریک ہی نہ تھے۔ تب ہم منتشر تھے، ایک طبقہ کچھ سوچتا تھا، دوسرا کچھ، ہر ایک کی رائے ایک دوسرے سے متصادم، ہر ایک کا فیصلہ دوسرے کے لیے اعلان جنگ ہوتا تھا۔ تمہارے مہان بھارت نے اس کا فائدہ ضرور اٹھایا مگر ہمیں قیامت تک ایک سبق دے گیا کہ وطن کے تحفظ کے لیے بڑے سے بڑا اختلاف بھی بالائے طاق رکھ دو۔ اب یہی دیکھ لو! عمران خان نواز شریف کا کتنا بڑا مخالف ہے، مگر وہ تمہارے خلاف اس کے ساتھ جا ملا۔ بگٹی اور محسود قبائل کے بلوچستان اور فاٹا میں کتنے ہی خاندان اجڑ گئے، مگر وطن پر مشکل وقت آیا ہے تو انہوں نے پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کا اعلان کیا۔ ہر گلی کوچے میں پاک فوج کے حق میں مظاہرے ہورہے ہیں، جوانوں پر پھول نچھاور کیے جارہے ہیں، تمہاری فلموں کا ناطقہ بند ہوگیا، لوگ تمہاری سی ڈیز برسرعام جلارہے ہیں۔ یہاں بھی غربت کا ناگ پھن پھیلائے ہوئے ہے، یہاں بھی بے روزگاری کا عفریت نوجوانوں کو ڈس رہا ہے، یہاں بھی مہنگائی کا عذاب مسلط ہے، مگر یہاں کے لوگ وطن کی محبت کو ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں اور ایمان جان سے بھی پیارا ہوتا ہے۔

تم کتنے ناسمجھ ہو۔ اس قوم سے لڑنے چلے ہو، وہ بھی اس وقت جب یہ قوم اپنے سارے باہمی اختلافات بھول چکی۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت پہلے ہی تمہارے ایجنٹوں سے لڑ رہی ہے، انہیں پیچھے دھکیل چکی ہے۔ تمہارے لیے تو اب پاکستان میں بدامنی پھیلانا تک مشکل ہورہا ہے۔ اب بھی وقت ہے پیچھے پلٹ جاﺅ، عقل کو خود ہی ٹھکانے لے آﺅ، ورنہ پاکستانی قوم، سیاستدانوں اور فوج کا ٹرائیکا اس بار 1971 کا بدلہ لینے کے لیے بھی تیار بیٹھا ہے۔

مصنف مختلف اخباروں میں کالم لکھتے رہتے ہیں اور آج کل کراچی یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹر کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Imran khan کہتے ہیں

    I thought i was reading a primary school social studies book. Utterly childish. Try harder next time.

    1. jameel ejaz کہتے ہیں

      Its Not For U My Dear, Its For Modi And His Agents Living Liberaly In Pakistan.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.