سسی کا شہر بھنبھور اور داہر کا دیبل

0 288

نیشنل ہائی وے پر کراچی سے ٹھٹھہ کی طرف جائیں تو ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر دھابیجی اور گھارو کے درمیان سسی کے شہر بھنبھور اور قاسم و داہر کے دیبل کے آثار ہیں۔ ساتھ ایک میوزیم ہے جس میں نوادرات کو زمانی ترتیب سے رکھا گیا ہے۔ میں نے بھنبھور میوزیم میں رکھی ایک ایک چیز کو بغور دیکھا کہ شاید کوئی سسی کی یادگار ہو۔ لیکن کچھ نہیں ملا۔ البتہ میوزیم سے شہر کے کھنڈرات کی طرف جائیں تو راستے میں جھیل اور مٹی میں دفن مٹکوں کے آثار دیکھ کر ذہن دیبل سے سسی کے بھنبور کی طرف چلا جاتا ہے۔

تمام جنم کنڈلیاں بتا رہی تھیں کہ نوزائیدہ بچی خاندان کے لیے اچھا شگون نہیں۔ اس لیے اسے صندوق میں ڈال کر دریا کی لہروں کے حوالے کر دیا گیا جو بھنبور کے ایک بے اولاد دھوبی کے ہاتھ لگا۔ غیر معمولی حسن کی وجہ سے بچی کا نام سسی یعنی چاند رکھا گیا۔ مہران کا یہ چاند جب بام پر آیا تو مکران کا ایک شہزادہ پنوں اس کا دیوانہ ہو گیا۔ وہ بھنبھور کی گلیوں میں مشک و عنبر کے تاجر کے روپ میں آیا اور دھوبی بننے کی شرط پر سسی سے شادی کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

پنوں کا خاندان اس رشتے پر برہم تھا۔ بھائی ملنے کے بہانے بھنبھور آئے اور اسے نشہ آور مشروب پلا کر ساتھ لے گئے۔ بے خبر سسی جاگی تو اس کے دل کا بھنبور لٹ چکا تھا۔ وہ دیوانہ وار کیچ مکران کی طرف نکلی۔ ہجر کی آگ میں جلتی سسی نے تپتے صحرا میں ایک چرواہے سے پانی مانگا۔ چرواہے کی بدنیتی بھانپ کر حسرت سے آسمان کی طرف نگاہ کی ۔۔۔ زمین پھٹی اور وہ اس میں سما گئی۔

ادھر پنوں کو جب ہوش آیا تو وہ سسی سسی پکارتے ہوئے بھنبھور کی طرف بھاگا۔ اس کی ملاقات اسی چرواہے سے ہوئی۔ ماجرا سن کر وہ چلایا سسی ی ی ی ی ۔۔۔! جواباً زمین سے سسی کی کرب ناک آواز ابھری ”پنوووووووں۔۔۔!قبرشق ہوئی اور پنوں سسی سے جا ملا۔

میں نے گائیڈ جوکھیو ظہیر احمد سے پوچھا کہ اس واقعے میں کتنی سچائی ہے؟ تو انہوں نے کہا : ” سائیں! شاہ جو رسالو میں بیان ہوا ہے یہ قصہ۔”

ریگزاروں میں دیوانہ وار پنوں کو تلاشتی سسی کے متحرک کردار کو شاہ عبدالطیف بھٹائی کے جمال پرور ذہن نےایسا تراشا ہے کہ اس لوک داستان پر حقیقت کا گماں گزرتا ہے۔

Thattha Museumاس المناک داستان کو جزوی اختلاف کے ساتھ بہت سے شعرا نے نظم کیا ہے۔ لیکن اس پر سب متفق ہیں کہ سسی کی پرورش بھنبور میں ہوئی۔ یہ سندھی رومانی المیہ بے شمار پنجابی شعرا کو بھی طبع آزمائی پر مائل کر چکا ہے۔ لیکن شاہ عبدالطیف بھٹائی کے بعد اگر کسی نے اس قصے کا حق ادا کیا ہے تو وہ ہاشم شاہ ہیں۔

شہر بھنبھور مکان الٰہی، باغ بہشت بنایا ۔۔۔ فرش فروش چمن گل بوٹا، ہر اک ذات لگایا

 

سسی کا باغِ بہشت بھنبھور کبھی عالم میں انتخاب تھا لیکن اب یہاں خاموشی اور اداسی کا پہرہ ہے۔ البتہ نظارے کی وسعت طبیعت کو بوجھل نہیں ہونے دیتی۔ جہاں تک نگاہ کام کرتی ہے آپ دیکھ سکتے ہیں۔ دیدہ ور تو یہاں سے کیچ مکران تک دیکھتے ہیں۔

قدرے بلندی پر پھیلے ہوئے کھنڈرات کے درمیان ایک پیڑ جانے کب سے ہجر کی تصویر بنا ہوا ہے۔ اس ہل نما درخت کی عمر کا تعین تو مشکل ہے لیکن اس کی حالت اس کی قدامت کا پتا دیتی ہے۔ اس کی خستہ حالی نے ماحول کی اداسی کو اور بڑھا دیا ہے۔

ایک زمانہ دریائے سندھ سسی کی پیاسی روح کو سیراب کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ ناکامی پر بھنبھور کے بجائے اس نے سیدھا سمندر کی راہ لی۔ سمندر الٹے پاؤں چلتا ہوا بھنبور کے شکستہ در و دیوار سے آ لگا۔ اب یہ علاقہ گھارو کریک کہلاتا ہے۔

Thattha-Museum2

سسی کا بھنبھور بار بار کیوں لٹتا رہا؟ شہر کے آثار اور معتبر تاریخی حوالے بتاتے ہیں کہ بھنبور اس وقت کے ایک اہم تجارتی روٹ پر واقع تھا اور کافی ترقی یافتہ تھا۔ تعمیرات کے لیے تراشیدہ پتھر تک استعمال ہوتے تھے۔ فرش پر چونے کی استرکاری بھی کی جاتی تھی۔ بھمبور کی گلیاں کشادہ تھیں۔ گھرکمروں، برآمدے، صحن اور فصیل پر مشتمل ہوتا تھا۔ گھر ترتیب اور سلیقے سے بنے ہوئے تھے۔ شہر کے دو داخلی دروازوں میں زینوں کی تعداد اور پھیلاؤ سے شہر کے جاہ و جلال کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

کہتے ہیں کہ سکندر کے ساتھ آئے یونانی مؤرخین نےجس بار بائیک شہر کا ذکرکیا ہے وہ یہی بھنبھور یا دیبل ہے۔ اس ایک جگہ کے مختلف نام کیوں ہیں؟ دیبل بھنبور کیسے بنا؟ حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔ لیکن آثار سے ظاہر ہے کہ یہ شہر لٹتا اور تباہ ہوتا رہا۔ شاید تباہ حال دیبل پر نیا شہر بھنبور کے نام سے بسایا گیا ہو۔ اب شہر کا تو صرف نشان رہ گیا ہے لیکن اس کے نام پر ایک ڈویژن بنا دیا گیا ہے۔ مکران میں بھی ایک جگہ کا نام بھنبور ہے جو اس لوک داستان کی مناسبت سے رکھا گیا۔

Thattha Beachبھنبھور میں سیاح کم تعداد میں آتے ہیں۔ اہم شخصیات تو نہ ہونے کے برابر ہیں۔ وزٹرز بک بتاتی ہے کہ یہاں آنے والوں میں اہم ترین شخصیت محترمہ بے نظیر بھٹو ہیں۔ محکمہ آثارِ قدیمہ کی طرف سے یہاں قیام کے لیے کمرے مناسب کرائے پر میسر ہیں۔ گھارو کریک میں کشتیاں موجود ہیں۔ نوادرات کے شوقین کے لیے ٹھیکریاں بکھری ہوئی ہیں۔ خاموش فضائیں اور سرسراتی ہوائیں اس کے علاوہ ہیں۔

 

سیاحوں کی سہولت کے لیے پتھروں سے واضح کیے گئے مختلف احاطوں مثلاً مکانات، گلیاں، مسجد، مدرسہ، مندر، کنواں، بازار، صنعتی علاقہ وغیرہ کی نشان دہی جلی الفاظ میں کی گئی ہے۔ سب سے زیادہ اہتمام جنوبی ایشیا کی پہلی مسجد کے آثار کے لیے کیا گیا ہے۔ محکمہ آثارِ قدیمہ کو سسی کے کعبے کیچ مکران کی سمت کی نشان دہی بھی کر دینی چاہیے کہ بھنبور میں اس کا احترام لازم ہے۔

سسی پیر سنگوڑ ستی ۔۔۔ متاں کیچ کوں تھیون لتاں

مصنف اردو گورنمنٹ ڈگری کالج کہوٹہ میں لیکچرار ہیں۔ اس کے علاوہ صدر کہوٹہ لٹریری سوسائٹی بھی ہیں۔ سابق مدیر کالج میگزین امکان۔ ادب، سیاحت اور تاریخ سے خصوصی لگاؤ ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.