معجزہ فن کی ہے خونِ جگر سے نمود

0 468

کہتے ہیں کبھی ٹھٹھہ عالم میں انتخاب تھا۔ اس کا شمار برصغیر کے مشہور شہروں میں ہوتا تھا۔ یہ علم و فضل اور تہذیب و ثقافت کا مرکز تھا۔ یہاں منتخبِ روزگار رہتے تھے۔ لیکن اب یہ ماضی کا مزار بن چکا ہے۔ اسم ٹھٹھہ اگر ملتان کا ہم قافیہ ہوتا تو اس شعر میں نگینے کی طرح جڑتا

چہار چیز از تحفہء “ٹھٹھہ” ٭ گرد و گرما’ گدا و گورستاں

ٹھٹھہ عجیب لفظ ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ شہر تہہ در تہہ آباد ہے۔ یہ تھہ تھہ وقت کے ساتھ ساتھ ٹھٹھہ ہو گیا۔ ٹھٹھہ کبھی سندھ کا مرکز تھا۔ آج بھی اس کے اطراف میں کئی قابلِ دید جگہیں ہیں۔ بھنبور میوزیم، کلری جھیل، مکلی قبرستان اور شاہجہانی مسجد۔

ٹھٹھہ جائیں اور شاہی مسجد نہ دیکھیں تو سمجھیں کہ آپ نے کچھ نہیں دیکھا۔ مسجد کیا ہے، رنگ و نور کا ایک شاہکار ہے۔ روشنی اور دلکشی کا مرکز ہے۔ محرابوں، ستونوں اور گنبدوں کا ایک سحر ہے جو ناظر کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ کاشی کاری اور مینا کاری کے نفیس کام نے اسے طلسم خانہ حیرت بنا دیا ہے۔ گنبد، چھت، دیوار اور فرش پر نیلے، سفید، سرخ اور پیلے رنگوں کی بہار ہے۔ دلکش لکیروں، دائروں کے جادوئی زاویوں میں نگاہ گم ہو کر رہ جاتی ہے۔ مسجد کشادہ، نفیس اور اتنی ہوادار ہے کہ طبیعت سرشار ہو جاتی ہے اور دھیان اصفہان اور سمرقند جا نکلتا ہے۔

مسجد کے باہر بے ہنگم تجاوزات اور بھکاریوں سے بچ کر صدر دروازہ سے داخل ہوں تو پارک کی دل کشی دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ سرسبز و شاداب اور پر سکون۔ سبزہ، پھول، پودے، پیڑ، تالاب ، فوارے اور روشیں ۔۔۔ اب تو نہ تالابوں میں پانی ہے اور نہ فواروں کی پھوار۔ اس کی طرزِ تعمیر میں شالی مار باغ کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ لیکن سرو اور کھجور کے خوبصورت درختوں کی عمر اور باغ کی تعمیر دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ باغ کچھ دہائی پہلے کا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ شاہجہان زمین پر فردوس بنانے کا شیدا تھا۔ اس کے لگائے ہوئے باغات اور بنائی ہوئی عمارات دیکھ کر جنتیں یاد آتی ہیں۔ تمام مغل حکمرانوں میں شاہ جہان دور کی تعمیرات اپنی نفاست اور دلکشی میں منفرد ہیں۔ اس نفاست اور مہارت کی تمام جھلکیاں شاہی مسجد ٹھٹھہ میں موجود ہیں۔

مصنف شاہی مسجد ٹھٹھہ میں
مصنف شاہی مسجد ٹھٹھہ میں

مسجد میں آویزاں بورڈ کے مطابق 1647 میں تعمیر مکمل ہوئی۔ اس کا رقبہ چھ ہزار سے زائد مربع گز ہے۔ بنیادیں پندرہ فٹ تک گہری ہیں۔ اس کے پانچ دروازے ہیں۔ مسجد کے سو گنبد اور 94 ستون ہیں۔ بیس ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے۔ آواز، ہوا اور روشنی کا خصوصی انتظام برتا گیا ہے۔

مسجد میں ایرانی کاشی کاری کا غیر معمولی کام ہوا ہے۔ یہ بات اسے دیگر مساجد اور تعمیرات ممتاز بناتی ہیں۔ گزشتہ چار صدیوں نے مسجد کے حسن کو کافی حد تک گہنا دیا ہے مگر آج بھی یہ فن تعمیر کا ایک حسین شاہکار ہے۔ تزئین و آرائش میں استعمال کیے گئے گہرے رنگ دور سے نگاہوں کو جذب کر لیتے ہیں۔ مسجد کے مرکزی گنبدوں کا بیرونی تقدس اور اندرونی سجاوٹ چشم کشا اور نظر نواز ہے۔

مسجد کا کوئی مینار نہیں ہے۔ لیکن مسجد اس تناسب اور ترتیب سے بنائی گئی کہ مینار کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ نہ ہی مسجد کا پُر فسوں طرزِ تعمیر اس کمی کی طرف کسی کا دھیان جانے دیتا ہے۔

عالمی ثقافتی ورثے میں شامل اس شاہکار کی کچھ ٹائلز اکھڑی ہوئی ہیں۔ کہیں کہیں اینٹیں بردگی کا شکار ہیں۔ وضو خانے کا تالاب ایک زمانے سے پانی کو ترس رہا ہے۔ پرندوں نے جگہ جگہ گھونسلے بنائے ہوئے ہیں۔ پرندے تو خیر پرندے ہیں، من چلوں نے مسجد کو تماشا گاہ بنایا ہوا ہے۔ اس ایمان پرور ماحول میں بھی رومان پرور مناظر دکھائی دے رہے ہیں۔

شاہ جہان کی طرف سے اہلِ ٹھٹھہ کو تحفے میں دی گئی اس مسجد کو دیکھ کر دھیان کبھی تاج محل سے ہوتا ہوا ساحر لدھیانوی اور کبھی مسجد قرطبہ سے ہوتا ہوا علامہ اقبال کی طرف چلا جاتا ہے کہ معجزہ فن کی ہے خونِ جگر سے نمود۔

مصنف اردو گورنمنٹ ڈگری کالج کہوٹہ میں لیکچرار ہیں۔ اس کے علاوہ صدر کہوٹہ لٹریری سوسائٹی بھی ہیں۔ سابق مدیر کالج میگزین امکان۔ ادب، سیاحت اور تاریخ سے خصوصی لگاؤ ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.