ابنِ قاسم ۔ لٹیرا یا مسیحا؟

11,027

سندھ انسانی تہذیب کے اولین مراکز میں سے ایک ہے۔ بہت سے کھنڈرات شاندار ماضی کے شاہد ہیں۔ یہی تہذیبی ترقی بہ قول جی ایم سید ایرانی، یونانی، عرب ، افغانی اور دیگر حملہ آوروں کو یہاں لے آئی۔

دیبل پرعربوں کا پندھرواں حملہ سترہ سالہ محمد بن قاسم نے کیا۔ دیبل کا محاصرہ دس دن جاری رہا۔ گھر کے بھیدی نے مندر کے سرخ جھنڈے کو منجنیق سے داغنے کا مشورہ دیا اور قلعہ فتح ہو گیا۔

دیبل کی بندرگاہ اپنے وقت کے معروف تجارتی روٹ پر تھی۔ یہ کب اور کس نے قائم کی، اس کے بارے میں ابھی تک حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ دیبل اور بھنبھور ایک ہی جگہ کے دو نام ہیں؟ اگر ہاں تو دیبل کب بھنبھور بنا؟ اس حوالے سے بھی کوئی بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی۔

میں چشم تصور سے دیکھنے لگا کہ کبھی یہاں کتنی رونق ہوتی ہوگی۔ ایرانی، یونانی، سیتھن، پارتھی، رائے، چچ، کسں کس نے اس مدفون شہر پر حکومت کی ہو گی۔ مختلف ممالک کے بادبانی جہاز سمندر سے یہاں آتے ہوں گے۔ گیارہویں صدی نے دریا نے اپنا رخ کیا تبدیل کیا کہ حالات کے صرصر نے ہنستا بستا شہر سرد کر دیا۔ اب یہاں ایک تباہ حال شہر کے نشانات کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

بھنبور میوزیم میں موجود ماڈل اور نقشے کے مطابق قلعے کے شمال میں صدر دروازے کے سامنے سے دریائے سندھ گزرتا تھا۔ دریائی رستے سے منجنیقیں لائی گئیں۔ اب یہاں گھارو کریک کا پانی ہے۔

داہر اور قاسم کا مقابلہ اروڑ کے قلعے کے باہر ہوا۔ چچ نامہ کے مطابق داہر کے پاس مختلف آپشنز موجود تھے لیکن اس نے سرِعام جنگ کرنے اورغیرت مند مفتوح بننے کو ترجیح دی۔ دس دن جنگ جاری رہی۔ داہر کی فتح قریب تھی لیکن اپنوں نے وفا نہ کی۔ بے پناہ خون ریزی ہوئی۔ داہر کا سر قلم کر دیا گیا۔ بہنوں نے جوہر کی رسم کا احیا کیا۔ بیٹیاں باپ کے کٹے سر کے ساتھ دمشق روانہ کر دی گئیں۔ جہاں چند روایتوں کے مطابق انہیں دیوار میں زندہ چنوا دیا گیا۔

محمد بن قاسم مسلسل فتوحات کرتا ملتان جا پہنچا جہاں سے اسے اچانک واپس بلا لیا گیا۔ سلیمان بن عبدالملک نے حجاج سے اپنا انتقام لینے کے لیے دوسرے جرنیلوں کی طرح ابنِ قاسم کو بھی عبرتناک انجام سے دوچار کیا گیا ۔

قاسم قزاق تھا یا نجات دہندہ؟ ابنِ قاسم نے مہرانیوں کو موالی بنایا یا انہیں غلامی سے چھڑایا؟ اس حوالے سے بحث اب تک جاری ہے۔ حامی انہیں غازئ اسلام، عمادالدین، ابوالبہاراور دیگر کئی القابات سے نوازتے ہیں اورکہتے ہیں کہ ارضِ مہران خورشید اسلام سے منور ہو گئی اور مظلوموں کو قزاقوں سے نجات ملی۔ یہ نجات دہندہ نہ آتا تو ہم اب تک سندھی لنگ اور یونی پوجا میں پڑے ہوتے۔ اس لیے ہر سال دس رمضان المبارک کو یومِ باب الاسلام منایا جاتا ہے۔

مخالفین ابنِ قاسم کو قزاق اور راجہ داہر کو فخرِ مہران کہتے ہیں کہ وہ دھرتی کے دفاع کے لیے سامراج کے سامنے جھکا نہیں اور ہر سال دو جولائی کو ان کا دن مناتے ہیں۔ اپنے موقف کی حمایت میں کتابوں، حوالوں، تجزیوں اور مضامین کے انبار لگا دیے ہیں۔ ان کے مطابق عورتوں کو چھڑانے کے لیے دیبل پر حملہ محض ایک بہانہ ہے۔ حملے کی وجوہات سیاسی اور معاشی تھیں اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس سے پہلے ایک درجن سے زائد حملے سندھ فتح کرنے کے لیے ہو چکے تھے۔

اگر اس معاملے پر غیر جانبدارانہ نظر ڈالی جائے تو اصل مجرم حجاج بن یوسف اور ولید بن عبدالملک بنتے ہیں جنہوں نے سندھ پر حملے کا پروگرام بنایا۔

محمد بن قاسم کی خوش نصیبی کہیے کہ گیارہ سو سال بعد وہاں پاکستان بن گیا جہاں اس نے فتوحات کے جھنڈے گاڑے تھے۔ تاریخِ پاکستان کا پہلا باب ابنِ قاسم کے نام سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے نام پر کراچی میں بندرگاہ، کلفٹن میں ایک باغ اور ملتان سٹیڈیم سمیت بہت سی اور یادگاریں ہیں۔ برصغیر میں اقوام نے صاحبِ عزت بننے کے لیے اپنے اجداد کا تعلق قاسم کی فوج کے ساتھ جوڑ دیا ہے تاکہ عرب نسبت قائم ہو سکے۔ بہت سی قبریں اور مزارات ایسے ہیں جن پر لکھا ہے کہ یہ ولی اللہ محمد بن قاسم کے ساتھ جہاد کے لیے یہاں آئے اور شہید ہوئے۔

مصنف اردو گورنمنٹ ڈگری کالج کہوٹہ میں لیکچرار ہیں۔ اس کے علاوہ صدر کہوٹہ لٹریری سوسائٹی بھی ہیں۔ سابق مدیر کالج میگزین امکان۔ ادب، سیاحت اور تاریخ سے خصوصی لگاؤ ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

36 تبصرے

  1. ساسولى کہتے ہیں

    ايك هندو راجه كي تعريف وه بهي مسلم كى ساته واجى واه!

    1. Farooq Khan کہتے ہیں

      This hypocrite is spreading the words of hindu criminals.
      Not only the hindus lost their empire but also the Sassanids who had taken refuge here after they were defeated by Syedna Umar Ibn Al Khatab and the Sassanid empire was dismantled and the Iranian ruling elite had taken refuge here.

  2. abid کہتے ہیں

    is mosanf ki bat men koi wazan ni he is ki apni koi bat thek ni is ne apny muslim hony ka b haq adda ni kia

  3. Mahmud ul-Hassan کہتے ہیں

    Why did the blogger feel it necessary to post such an objectionablematerial on the FB? He should have a proper knowledge of the history. He has defamed the personality of this great Muslim General.

  4. آصف کہتے ہیں

    40% سے ذیادہ صرف من گھڑت کہانی لیکھی گئی 10%بکواس لیکھی ہوئی ہے

  5. Khurram Shahzad کہتے ہیں

    اسلام علیکم جناب آپ نے اپنے بلاگ میں اک غیر جانبدار نظر ڈالی ہے کہ سندھ پر حملے کے اصل مُجرم خلیفہ ولید ابن الملک اور حجاج بن یوسف تھے تو جناب اسی رو سے اگر دیکھا جائے توکیا تمام اسلامی فتوحات غلط اور لالچ میں کی گئی؟ حضرت عمر فاروق صسے لیکرصلاح الدین ایوبی تک سب کے سب گناہ گار تھے؟ ہم لوگ اپنے مسیحاؤں کو عزت دینے کی بجائے انکو لٹیرا، ڈاکو اور نہ جانے کن الفاظ سے پکارتے ہیں؟ ہم کن کے مقاصد کو پورا کر رہے ہیں؟ کہیں ہم ابنِ صباح کی جگہ تو نہیں لے رہے؟ سوچیئے گا ضرور

    1. Khan کہتے ہیں

      Ha Bhai mosalmanano nay buhath saray zulam kiye , hamay nisab say bhi gumrah kia jatha raha , hazrat Umar(r.a) aur muazzizeen ko challenge kia Gaya aur os time islami sharaith there lekin in logo ko hujjaj , qasim aur dosro ko jab ikhthiyarath milay tho halq khuday PE azab ki surath may nazil hue aur thareeh e khudayee aj wahee cheezain duhra rahi hay Afghanistan per mosalmanano per osee thara aik Osama Kay liye thank hua Jos tharah raja daher ko dewarsay laganay Kay liye mahaz aik aurat ka dhonk rachaya Gaya Tha, in Sab ko apna leader dek Kar mujhay tho sharam arahee hay.

  6. Arjumand Qazi کہتے ہیں

    Habib Gohar Shab,
    Kash ky app ny Chha Nama para hota app jesy nam nehad blogers
    twitter par kisi Tareek ky student ki tweet party hain or phr kitab ka nam
    jan ka chand center page par kar blog likny bait ja ty hain.
    ek dafa phr app Chha Nama ko parain or
    writer ky start ky page par as ky tasurat par lain.
    Abn-e-Qasim ek Nijatad Dehanda
    Sindh ki sarzmeen par Islam ka noor philany wala
    Chha Nama ya bata te hy ky Islam Talwar sy nae
    abn-e-Qasim ky Islam ky Mutabiq Amal ny Sindh ki wadi ko Islam sy roshans karyea.
    hope ky sassti shorat ky lia blog sy phly app apni study ko mazboot karain gy.

    1. Khan کہتے ہیں

      Sindh ki sarzammmeeeen per is say pehlay suhaba(r.a) kia nihanay aye thay ya , sharam Karo in logo ko Islam phelanay walay kehnay per , yeah daku thay , Sindh aik hushal ilaqa Tha hazaro salo say aur in ko aik larkee aur jihaz lootnay ki kia zaroorath thi, zulam kia Gaya Tha ur aj hazar sal bad allah mosalmano Kay sath wahee sulook duhra raha hay afghanistan may aik Osama ko usee tharah bahana bana Kar thabah Kar Diya Gaya aur Iraq aur Libya ka bhi yaha haal hua , sharam athee hay aise islami parchar per.

  7. تنویر کہتے ہیں

    مجھے ان صاحب سے کوئی شکوہ نہیں.. ان کے مضمون نے ہی واضح کر دیا ہے کہ ان کی جہالت کا عالم ہے کہ بنا کسی حوالے اور تاریخی حقائق کے ایک بے تکہ سا مضمون لکھ مارا.. مگر دنیا نیوز پر بھی افسوس ہے کہ ایسے بے سروپا مضامین کو اجازت کیسے مل جاتی ہے.. . “دنیا نیوز کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں” کافی نہیں… آپ پر بھی اس کی ذمہ داری عائد. ہوتی ہےایسے گھٹیا مضامین کی اشاعت پر… جن کا سر پیر بھی نہیں

  8. Habib Gohar کہتے ہیں

    محمد بن قاسم کے حق اور مخالفت میں سینکڑوں تحریریں موجود ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ مخالفانہ تحریروں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب راجہ داہر کو فرزندِ وطن، شہیدِ وطن اور محمد بن قاسم کو لٹیرا، ڈاکو، قزاق کہا جا رہا ہے۔ بعض مخالفین نے اپنے اجداد کی توہین کی تفصیل کے ضمن میں جو ابنِ قاسم کے لیے جو توہین آمیز الفاظ استعمال کیے ہیں انہیں دھرانا مناسب نہیں ہے۔

    پہلے تو یہ سلسلہ مخصوص حلقوں تک محدود تھا۔ لیکن اب سوشل اور پرنٹ میڈیا اس سے بھرا ہوا ہے۔ ان تحریروں کو پڑھتے ہوئے میں نے یہ سقم محسوس کیا کہ ذمہ داری محمد بن قاسم پر ڈال دی گئی ہے اور تجزیہ کرتے ہوئے اس کی عمر اور ذمہ داریوں کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ نہ ہی حجاج کی اس سرزنش کو خاطر میں لایا گیا ہے جو قاسم کے نرم رویے کی وجہ سے کی گئی۔

    مجھے لگتا ہے کہ میرے معترض مہربانوں نے مخالفانہ مواد نہیں پڑھا ورنہ وہ ایسے طرزِ تخاطب سے گریز کرتے۔ تحریر میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو قابلِ اعتراض ہو۔

    یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ ایک مسلمان کی طرف سے ہندو راجہ کی تعریف کی جا رہی ہے۔ جب کہ آرٹیکل میں ایک جگہ بھی ایسا نہیں ہوا صرف یہ بتایا گیا ہے کہ ایک مکتبہء فکر راجہ داہر کو ایسا سمجھتا ہے۔ بقیہ اس اعتراض میں جو سطحیت ہے کاش! اسے محسوس کیا جاتا۔ فیس بک پر تشہیر کے حوالے سے گزارش ہے کہ دنیا اردو بلاگ کے فیس بک پیچ کا لنک دیا گیا ہے۔

    خرم شہزاد صاحب سے گزارش ہے کہ آرٹیکل ابنِ قاسم، داہر، حجاج اور ولید کے گرد گھومتا ہے۔ یہ دور تلوار اور دھشت سے عبارت ہے۔ اگر آپ اتفاق نہیں کرتے تو پھر آپ کو اس بات کا جواب دینا ہو گا کہ برصغیر میں اسلام ملوک کے خوف اور تلوار سے پھیلا ہے نہ کہ عرب تاجروں اور علما کی تبلیغ اور صوفیا کے کردار سے۔ البتہ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ان حملوں کے بعد مسلمانوں کو برصغیر میں اسلام کی اشاعت کا سازگار ماحول ملا۔

    اس آرٹیکل میں کوئی ایسی بات نہیں جس پر مستند حوالہ جات نہ ہوں۔ لیکن انشائیہ طرزِ تحریر ان کا متحمل نہیں تھا۔ جو حضرات تفصیلات میں دلچسپی رکھتے ہوں ان کے لیے تاریخِ سندہ پر پہلی باقاعدہ کتاب چچ نامہ اور دوسری معتبر کتاب بلاذری کی فتوح البلدان (دی اوریجن آف اسلامک سٹیٹ) کے لنکس دیے جا رہے ہیں:

    https://www.google.com/url?sa=t&rct=j&q=&esrc=s&source=web&cd=1&cad=rja&uact=8&ved=0ahUKEwjDzMPX8o3PAhXLnBoKHQKgBhQQFggcMAA&url=https%3A%2F%2Fwww.scribd.com%2Fdoc%2F73680184%2FChach-Nama-1&usg=AFQjCNE2THkF4fuZ6EIENnFsiwL99rYkjQ&sig2=hx7w35xzzbMfaisGa5lYuQ

    https://www.google.com/url?sa=t&rct=j&q=&esrc=s&source=web&cd=1&cad=rja&uact=8&ved=0ahUKEwjf-ray8Y3PAhWDLhoKHX2GACgQFggcMAA&url=https%3A%2F%2Farchive.org%2Fdetails%2Foriginsofislamic02albauoft&usg=AFQjCNGt7ZiflWw4ImaS1OR46B3WIshe_w&sig2=UoDAENG2PfYW4EdvgX8law

    1. Khan کہتے ہیں

      Sir g, AP nay mearay zehni futhoor ko clear Kar Diya , thanks for that , may hamesha samajhtha thanks Jo nisab may parhaya ja raha hay aur Jo thareeh batha rahee hay is may buhath thazad hay aur bahesiath aik haqeeqath pasand aur sada loh pakhthoon hamesha ye zehan mey atha ke hazaro salo say maashi musthahkam aur maldar ilaqa kuenker jihaz lots Larkin aghwa karay , yaqeenan zulam hua Tha aur os waqth Kay hamaray leader raja daher ko Mar Diya Gaya Tha ,aur kia iss say pehlay suhaba (r.a) jin ko in ilaqo may welcome hua Tha kia bhens charanay aye thay kia unho nay is sey pehlay dawath ka Kam nahi kia tha, haqeeqath say door ka wastha nahi aisay blunders ko Islam say na jora Jaye.

  9. Habib Gohar کہتے ہیں

    میرے خیال میں آرٹیکل پر اس شدید ری ایکشن کی بڑی وجہ اس کا ٹائٹل ہے۔ ۔۔ جو لوگ انڈین تاریخ سے دل چسپی رکھتے ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ اس موضوع پر اسی عنوان سے کافی عرصے سے مباحث جاری ہیں۔ ہر شخص اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہا ہے۔ ڈاکٹر مبارک علی کی کتابوں اور اختر بلوچ کے ڈان میں متواتر آرٹیکلز کے علاوہ بھی بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے اور جا رہا ہے۔ میں نے کوشش کی ہے کہ ان دو انتہا پسندانہ نقطہء ہائے نظر سے بچا جائے۔ اختلافِ رائے نئی تحقیق کے در کھولتا ہے اور انسان سچائی کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ اگر کوئی مہربان علمی اعتراض اٹھائے تو ہو سکتا ہے کہ شعور کے اور کئی دریچے وا ہوں۔

  10. علی زیدی کہتے ہیں

    افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہاں موجود کمنٹس کو پڑھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ تاریخ سے مکمل طور پر نابلد لوگ اپنے اپنے کنوئیں سے منہ نکال کر ایک تعلیم یافتہ شخص کو ریسرچ کرنے کے مشورے دے رہے ہیں جبکہ تاریخ کے نام پر ان میں سے بیشتر نے محض معاشرتی علوم کی ساتویں کتاب کے علاوہ کچھ نہیں پڑھا ہوگا۔
    اس طرح کی زیادہ سے زیادہ تحاریر لکھی اور پڑھی جانی چاہئیں تاکہ اس قوم میں سے خبط عظمت اور شدت پسندی کا سد باب ہو سکے۔

  11. Ahmad raza کہتے ہیں

    جزوی اختلاف تحریر سے ضرور ہے مگر لکھاری اور صحافت کی اخلاقیات کے دائرے کے اندر.تحریر میں کچھ حقائق تو کافی جاندار ہیں اور کچھ خیالات اور حقائق روائتی قوم پرستی کی جانب جھکاؤ رکھتے ہیں. مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ مستند رائے بھی مختلف نقطہء نظر جاننے کے بعد ہی قائم ہوتی ہے. اگر وی.اے.سمتھ،عرفان حبیب،لین پول ،جیسے مؤرخین کی رائے کو سامنے رکھا جائے تو یہ حقیقت ہے کہ اموی سلطنت بام عروج پہ تھی اور سپر پاؤرز کا پھیلاؤ کا میلان فطری ہوتا ہے . سیلون اور ملابار کے ساحل پہ عرب تاجروں کی بستیاں قبل از اسلام ہی قائم تھیں.دیبل نھی اسی تجارتی راستے کی کڑی تھی جسکا غیر محفوظ ہونا عرب معیشیت کیلئے واضح خطرہ تھا .دوئم اموی سلطنت کے باغی سندھ میں پناہ گزین ہوگئے.حجاج جو مشرقی علاقوں کا گورنر تھا،کے مطالبے پر بھی باغی واپس نہ کیے گئے.بدیل کی قیادت میں پہلی عرب فوج کو شکست ہوئی.قاسم کا حملہ تیسری عرب یلغار تھی.سندھ ریونیو کے اعتبار سے قابل ذکر عرب مفتوحہ علاقہ نہ تھا.اسلیے امویوں نے مزید حملوں کی اجازت نہ دی.
    داہر ایک اچھا حکمران تھا مگر وہ کھشتری یا راجپوت نہیں بلکہ برہمن تھا جسکے طرز عمل نے مقامی میدوں اور غیر ہندؤں کو حملہ آوروں کی مدد پہ آمادہ کر دیا.سیاست میں پاؤر پلے ہی اصول ہے.تاہم عربوں کا اختلاط پہلی بار مقامی لوگوں سے ہوا .سندھی زبان میں آج بھی عربی الفاظ کی بہتات ہے.مثلا پیاز کو بصل اور پہاڑ کو جبل کہا جاتا ہے.قاسم نے مقامی انتظامی ڈھانچے کو قائم رکھا.کچھ عرصے بعد عرب قبضہ ختم ہوا مگر سندھ میں منصورہ جیسا مسلم مرکز قائم ہوا اور سندھ کی غیر مسلم اکثریت کیساتھ اچھے تعلقات بھی پروان چڑھے.قاسم کا حملہ سیاسی سے زیادہ سماجی اثرات رکھتا تھا . اگر قوم پرستی کی بنیاد پر قاسم کو الگ کر کے ولن بنا بھی دیا جائے تب بھی اسکے سماجی اثرات سندھی سماج سے الگ کرنا ممکن نہیں…

  12. محمد ادریس خان کہتے ہیں

    احمد رضا صاحب کا تبصرہ کافی اچھا ہے اور مصنف کا مضمون بھی ایسا نہیں کہ اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی جانے لگے، البتہ مضمون سے تھوڑا سا ابہام باقی رہ گیا ہے جس کی وجہ سے کچھ لوگوں نے ایسے سخت ریمارکس دیے، ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم افراط اور تفریط کا شکار ہوگئے ہیں، اپنے موقف کو ہمیشہ برسرحق جانتے ہیں، اگر کوئی مخالفت کردے تو اس کے جانی دشمن بن جاتے ہیں، کوئی مضمون خواہ علمی لحاظ سے کس قدر بھی پست کیوں نہ ہو، جواب اخلاقی حدود میں اور مہذبانہ انداز میں ہو تو پڑھنے کا مزا آجاتا ہے۔

  13. Muhammad tanwees کہتے ہیں

    He is just practicing to be a writer otherwise a HSSC student can write even better

  14. محمد بن افتخار احمد عاصم کہتے ہیں

    این بھترین است۔ بلا شبہ کسی بھی مسلمان حملہ آور کا برصغیر یعنی ہندوستان پر حملہ آور ہونا محض لالچ کے باعث تھا۔ ممکن ہے تبلیغِ اسلام بھی کچھ اہمیت رکھتی ہوئی ہو مگر کسی صورت اسی ترجیحی بنیادوں پر نہیں رکھا گیا اگر ایسا ہوتا تو یقیناً انسانیت کا لحاظ رکھا جاتا۔ مگر تاریخ کا غیر جانبداری سے جائزہ لیتے ہوتے بہت سے انسانیت کش واقعات نظر سے گزرتے ہیں۔ اوم شانتی شانتی شانتی کی آوازوں کو روندھنے کے اسباب محض معاشی اور سیاسی تھے۔ لیکن بعد ازاں قابض ہو جانے کے بعد انہیں دینی رنگ دینے کی کاوشیں کی گئیں جن کے باعث کافی حد تک کامیابی حاصل ہوئی۔ اور دین کا لیبل لگا کر عقل کا قتل کر کے محض تقلید کی اجازت دی گئی۔ سوچ سمجھ کا حق چھین لیا گیا۔ سوال کی اجازت چھن گئی۔

  15. Rizwan hussain کہتے ہیں

    بہترین تحریر تحقیق کے ساتھ جو دانشور بن قاسم کو ہیرو سمجھتے ہیں انکو یہ کیوں یاد نہیں رہتا کہ انکا ہیرو گدھے کی کھال میں زندہ لپیٹ کر حجاج بن یوسف کے دربار میں بھیجا گیا تھا اور یہ
    بھی یاد رکھنا چاہئے کہ سندھ دھرتی کی مائیں بہنیں اور بیٹیوں کو بغداد کے بازاروں میں بیچا گیا

  16. kashif syed کہتے ہیں

    sir g aap Kay blog ka na sir our na payer samj aya
    aap nay mum jasay naqis aqal walon ko mazeed confuse kiya apko debul our borbun Kay history ka pata nhi our Jo be information share ki o be bus sunni sunaye koi frefrence wageara nhi do pir be apka blog published huwa koi islami tareekhi ya sindh k hawaly reference to dty na baaq waleed hijjaj suliman ya ko criticised krna bad ki baat hain

  17. Irfan کہتے ہیں

    There is no reference given by writer in the favor of Raja Dahir only mentioned books

  18. علی رضا کہتے ہیں

    کچھ لوگوں کے لیئے راجہ داہر نے مسلمانوں پر حملہ انکو بریانی کھلانے کے لیئے کیا تھا۔ ظاہری سی بات ہے جب اپنی بیٹیوں کا تحفظ کچھ لوگوں پر بوجھ ہو جائے تو وہ عزتوں کے لٹیروں کو “سامراج کے سامنے نہ جھکنے والے عظیم لوگ” ہی قرار دیتے ہیں۔

    اگر مسلمانوں نے حملہ ہی کرنا تھا تو بہانہ کس چیز کا چاہیئے تھا؟ کیا ان دنوں میڈیا کا ڈر تھا یا اقوام متحدہ کا؟

    لیکن جب تنقید اسلام پر ہی کرنی ہے تو محمد بن قاسم کیا اور کوئی اور کیا۔ کہتے ہیں نا کہ کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ اسی طرح قاسم کا تو بہانہ ہے اسلام اصل نشانہ ہے۔

  19. Farooq Khan کہتے ہیں

    مخالفین ابنِ قاسم کو قزاق اور راجہ داہر کو فخرِ مہران کہتے ہیں کہ وہ دھرتی کے دفاع کے لیے سامراج کے سامنے جھکا نہیں اور ہر سال دو جولائی کو ان کا دن مناتے ہیں۔ اپنے موقف کی حمایت میں کتابوں، حوالوں، تجزیوں اور مضامین کے انبار لگا دیے ہیں۔ ان کے مطابق عورتوں کو چھڑانے کے لیے دیبل پر حملہ محض ایک بہانہ ہے۔ حملے کی وجوہات سیاسی اور معاشی تھیں اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس سے پہلے ایک درجن سے زائد حملے سندھ فتح کرنے کے لیے ہو چکے تھے۔

    اگر اس معاملے پر غیر جانبدارانہ نظر ڈالی جائے تو اصل مجرم حجاج بن یوسف اور ولید بن عبدالملک بنتے ہیں جنہوں نے سندھ پر حملے کا پروگرام بنایا۔
    The above text is from ‘Habib Gohar’s blog here.
    I am surprised, it is Pakistani media or India!

    If Hajjaj Bin Yusuf ( may Allah Bless him) had not spread the boundries of muslim state to the farthest points, by now, our situation would have been worse than Rohingya muslims Rakhine state.!
    Shame on you Paki media !

  20. فاروق کہتے ہیں

    متعصب اور گمراہ لکھاری ہیں بدبو صاف بتا رہی ہے

  21. Bilal کہتے ہیں

    Koi is dehşet gari ka bhii notice le jo hamare bazurgon k sath ho rahee hi … Kuch certified paid ghaddar hamin bata rahe hin keh Hindu mazloom the or humaray bazurg zaalim … Aişe hee jaise hum ne 70.000 afraad shaheed kerwa liye or samraaj hamin he terroristan kehta hi… Aişe logon ko apnii batıyan le ker Rapistan chale jana chahye …

  22. Kamran Khan کہتے ہیں

    Intahi fazool tahreer hai. متعصب اور گمراہ لکھاری ہیں بدبو صاف بتا رہی ہے

  23. Shahid کہتے ہیں

    ابنِ قاسم ۔ لٹیرا یا مسیحا؟
    Shame on you for choosing such a heading for your article and trying to confuse readers.

  24. aqeel khan کہتے ہیں

    Shame on you for choosing such a heading for your article and trying to confuse readers.

  25. https://www.cialissansordonnancefr24.com/tadalafil-generique-france/ کہتے ہیں

    You really make it appear really easy together
    with your presentation however I find this topic to be actually one thing which
    I think I’d by no means understand. It sort of feels too complicated
    and extremely broad for me. I’m taking a look forward in your next publish, I’ll try to get the hold
    of it!

  26. منیب اللہ خان کہتے ہیں

    ایک بے وقوفانہ تبصرہ: ایک عقلمند انسان سمجھ سکتا ہے کہ کافر ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلے گا اور ان کے ہیروز کو متنازع بنائے گا، ٹیپو کی مثال آپ کے سامنے ہے، نام نہاد مصنف کہانی میں الجھاوؑ لانے اور اپنا نام بنانے کے لئےایک اعتدال پسند کے طور پر اپنی تاریخ کو بےدردی سے کافروں کے خیالات سے مزین کرتے ہیں،
    اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
    خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ھاشمی

  27. علی شاہ کہتے ہیں

    انتہائی مضحکہ خیز تحریر ایسے نمبر نہیں بنتے جناب

  28. حاجی ندیم ملک کہتے ہیں

    شکل مومنوں
    کرتوت کافراں

  29. عطاءاللہ کہتے ہیں

    انتہائ بے سروپا تحریر جس میں حقائق کو بری طرح مسخ کیا گیا ہے۔ آج کل کچھ لوگوں نے خود کو دانشور ثابت کرنے کے لیے یہ نسخہ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے کہ مسلمانوں کے ہیروز کو برا بھلا کہو اور مسلمانوں کے دشمنوں کی تعریفیں کرو۔

  30. adnan naseer کہتے ہیں

    پیغمبروں کے علاوہ کوئی بھی مکمل نہیں ہر ایک کے حامی اور مخالف ہوتے ہیں آرٹیکل میں قاسم کے مخالفین اور حامیوں کے نظریات پہ سرسری بات ہوئی ہے سو لکیر کے فقیر سیخ پا ہونے سے گریز کریں

  31. ندیم منور علی فیروزی کہتے ہیں

    اس میں ملالہ یوسف زعی میان کوئی فرق نہیں
    ہو سکتا ہے یہ قادیانی ہو اسی کیے ایسی بکواس کر گیا

تبصرے بند ہیں.