ہمارا یوم دفاع اور کلاس وٹز کی جنگی حکمت عملی

0 153

کلاس وٹز دنیا میں جنگی حکمت عملی کا مائی باپ سمجھا جاتا ہے۔ یہ 19 ویں صدی میں روسی بادشاہت کے زمانے میں کم وقت میں تیزی سے ترقی کرنے والا ایرانی جرنیل تھا۔ وہ صرف 12 سال کی عمر میں فوجی بنا۔ اس نے 6 بڑی جنگیں لڑیں اور صرف 35 سال کی عمر میں چیف آف اسٹاف بن گیا۔ اس کی کتاب ‘آن وار’ دنیا کے کئی ممالک کے جنگی نصاب میں داخل ہے اور یہ کلاس وٹز کے مرنے کے بعد تک بیسٹ سیلنگ بک رہی۔ اس کی حربی چالوں کے بغیر دنیا کے کسی ملک کی جنگی فلاسفی مکمل نہیں ہوسکتی۔ وہ جنگ کو دشمن کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کا ذریعہ سمجھتا تھا۔ اس کے جنگی نظریے کا بنیادی نکتہ ٹرائیکا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ کوئی بھی جنگ ٹرائیکا کے بغیر جیتی نہیں جاسکتی اور یہ ٹرائیکا دراصل سیاسی حکومت، فوج اور عوام کا اتحاد ہے۔ اس اتحاد کی موجودگی میں ہاری ہوئی بازی بھی آپ کے حق میں پلٹ سکتی ہے۔ اس نے کہا کہ کسی ایک فریق کو بھی نکال دیا جائے تو جنگ جیتنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوسکتا ہے۔

اس فلسفے پر پاکستانیوں نے 6 ستمبر 1965 کو عمل کردکھایا تھا۔ بھارتی فوج پاکستانی فورسز پر دراندازی کا الزام لگا کر خود راتوں رات پاکستانی سرحدی حدود میں داخل ہوگئی۔ بھارت نے سیالکوٹ سے چونڈہ سیکٹر تک پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی۔ بھارتیوں کے تیور لاہور کے جم خانے میں جام لنڈھانے کے تھے مگر پاکستانی قوم نے انہیں دہلیز کو چوم کر چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو اسے مملکت خداداد پر عددی برتری حاصل تھی۔ یوں سمجھیں کہ پاکستان کے ایک ہتھیار کے مقابلے میں بھارت کے پاس 10 ہتھیار تھے۔ پاکستانی فوج نے 45 ٹینکوں کی مدد سے بھارت کے 500 ٹینک روکے جبکہ 387 ٹینک تباہ کردیے۔ صرف 19 طیاروں کی مدد سے 104 بھارتی طیارے مار گرائے۔ ایسا صرف اس وجہ سے نہیں ہوا جیسا بھارتی فوج اعتراف کرتی ہے۔ انڈین آفیشل ہسٹری میں لکھا ہے کہ جموں سیالکوٹ سیکٹر میں بھارتی فوج نے اپنی قوت کا بڑا حصہ یعنی پہلی کور جھونک دی تھی تاہم پہلی کور بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکی۔ کور اور ڈویژنک لیول پر جرنیلوں کی نااہلی اور جوانوں کے مابین تعاون کی کمی ان کی بری کارکردگی کا سبب بنی۔

بھارتی جنرل ہربخش سنگھ نے اپنی کتاب وار سپیچز میں لکھا ہے کہ جنگ ستمبر میں پاکستانی فوج کی کارکردگی بہترین تھی اور فوج انتہائی پرعزم تھی جبکہ بھارتی فوج نے جنگ کی پیشگی منصوبہ بندی کے باوجود کوئی خاص تیاری نہیں کررکھی تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ میں اگرچہ فوج فرنٹ فٹ پر تھی مگر ہماری سیاسی قیادت نے بھی اختلافات ختم کرتے ہوئے فوجی حکومت کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ جنرل ایوب خان کے مقابلے میں الیکشن لڑنے والی اس وقت پاکستان کی مقبول ترین خاتون اور بانی پاکستان کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح نے بھی جنرل ایوب خان کو اس ایشو پر مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ پاکستانی عوام نے محاذوں پر لڑنے والے فوجیوں کی مہمان داری میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ لوگ خود ایک وقت کے کھانے تک محدود ہوگئے اور اپنے حصے کا کھانا فوجیوں کو پیش کردیا۔ فوج، سیاستدانوں اور عوام کا یہی اتحاد تھا جس نے اچانک جنگ کو بھی فتح میں بدل دیا اور دشمن اپنے ملک میں اسی اتحاد کے نہ ہونے کی وجہ سے بری طرح ہزیمت سے دوچار ہوا اور آج تک اپنے زخم چاٹنے پر مجبور ہے۔

جنگ کوئی بھی ہو، اس کی کامیابی کا بنیادی ستون یہی اتحاد ہے۔ ضرب عضب کی کامیابی کی بنیاد بھی جنگ ستمبر جیسا جوش و جذبہ اور اتحاد ہے۔ اس اتحاد کو قائم رکھنا ہر قسم کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔ اس کے لیے فوج، سیاسی قیادت اور عوام تینوں ہی کو اپنے اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ 6 ستمبر 1965 جیسا جذبہ 6 ستمبر 2016 اور آنے والے ہر یوم دفاع پر برقرار رکھا جائے تب ہی ہر قسم کے دشمن کو شکست دی جا سکے گی۔

مصنف مختلف اخباروں میں کالم لکھتے رہتے ہیں اور آج کل کراچی یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹر کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.