یہودی سازشوں کا انتظار

0 411

میں نے ماننے سے انکار کیا۔ اس کے باوجود بار بار بدصورت تحاریر اور فیس بک سٹیٹس میری آنکھوں کے سامنے گردش کرتے رہے۔ انتہا پسندی، کرپشن ، ملاوٹ، بچوں کے ساتھ زیادتی اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی جیسی اخباری سرخیاں تو مجھے اپ سیٹ رکھتی ہی ہیں مگر ایسے مضحکہ خیز تجزیے میرا جینا دشوار کر دیتے ہیں۔ ایسے بیشتر جھٹکے کھانے کے بعد بھی میں شاک پروف نہیں ہو سکا۔ اس طرح کی بےتکی باتیں ہر بار پہلی بار جتنی ہی تکلیف دہ ہوتی ہیں۔

آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں، شاید میرا کتھارسس ہو جائے، کچھ آپ سمجھ لیں، تھوڑا میں سیکھ لوں اور شاید کچھ یہودی سازشوں کے انتظار میں بیٹھے محنتی اور قابل پاکستانی بھی ہوش کے ناخن لیں۔

یہ بات تو طے ہے کہ مذہب سے محبت ایک فطری عمل ہے۔ اس میں تشہیر کرنے والی کوئی بات نہیں۔ جب انسان بے بس اور لاچار ہوتا ہے تو اسکے ذہن میں ایک ہستی ہی آتی ہے۔ انسان مشکل وقت میں اپنے خدا کو ہی یاد کرتا ہے۔ جس نے اس خوبصورت کائنات کو تخلیق کیا۔ آسمان کو بلند کیا اور زمین کو بچھایا۔ زمین سے فصلوں کو اگایا اور لذیذ میوے پیدا کئے۔ پتھر میں رہنے والی چیونٹی سے لے کر سمندر کی گہرائیوں میں تیرتی مچھلی تک اپنی تمام مخلوق کے رزق کا بندوبست کیا۔ انسانی عقل کو سمجھنے کے اوصاف دیے جس کی بنا پر آج انسان ترقی کی اس بلندی کو پہنچ چکا ہے جہاں اس نے سالوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنا سیکھ لیا ہے۔ دنیا سمٹ کر ایک چھوٹے سے موبائل فون میں آگئی ہے۔ علم کا حصول اتنا آسان کہ صرف ایک کلک کی دوری پر۔ اس ترقی میں مسلمانوں کی شرکت تھوڑی کم ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ جس کی وجہ میرے نزدیک تو یہ ہے کے ہم روز آفرینش سے ہی اپنی غلطیاں، اپنی کوتاہیاں دوسروں پر مسلط کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ جو انتہائی مسخ شدہ اور شکست خوردہ ذہنیت کی علامت ہے۔ کوئی مسئلہ ہو جائے وہ یہودی سازش ہوتی ہے یا اس کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ تو یقینا ہوگا۔

برطانیہ اور فرانس کے درمیان طے پائے جانے والے ‘سائیکس پیکو’ جیسے خوفناک معاہدوں کا مطالعہ کرنے کے بعد تو کسی حد تک میں بھی نظریاتی سازشوں پر یقین رکھتا ہوں، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں ایک ریاست دوسری ریاست کے خلاف سازش کرتی ہے۔ موجودہ حالات میں چین بھی تو امریکہ کے خلاف ایک حساب سے سازش ہی کررہا ہے اور امریکہ اس کے خلاف۔ جب کوئی بھی ملک یا کوئی نظریہ طاقت پکڑتا ہے تو وہ دوسری قوتوں کو دبانے کے لیے سازشیں ہی کرتا ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ نظریے کی پہچان ہی پھیلنا ہے، یہ رکتا نہیں۔ اسے روکنے کے لیے سازشیں ہی کرنا پڑتی ہیں۔ اب ہم اس کا مطلب یہ لے لیں کے اپنی ہر غلطی، خامی، کوتاہی، کجی دوسروں پر مسلط کر دیں؟ جیسے نکمی اولاد اپنے والدین پر کرتی ہے۔

بہت ہی مضحکہ خیز تجربہ گزشتہ دنوں ہوا جب انٹرنیٹ پر ‘پرزما’ نامی ایک اپلیکیشن بہت مقبول ہوئی۔ سب ہنسی خوشی اس میں اپنی تصاویر ایڈٹ کر کے فیس بک پر شئیر کر رہے تھے کہ اچانک کسی نے شوشہ چھوڑ دیا کے یہ یہودی سازش ہے۔ دنوں نہیں بلکہ گھنٹوں میں اس موقف کی تصدیق کرنے بہت سے دانشور ابھر آئے، ویڈیوز بن گئیں۔ دلائل سے ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی کے یہ یہودی سازش ہے، اور دلائل بھی ایسے کے الامان الحفیظ۔ اس پرزما اپلیکیشن کے ذریعے آپکا ڈیٹا یہودیوں تک پہنچ جائے گا اور اس کے پیچھے illuminati اور فری میسنز جیسی خفیہ تنظیموں کا ہاتھ ہے۔ بہت سے خود ساختہ دانشوروں نے یہ موقف اپنا لیا۔ ایسی تحریریں پڑھنے کے 20 منٹ تک تو میں مایوسی سے انکار میں سر ہلاتا رہا اور پھر کچھ دیر بعد جبراً اپنے آپ کو سمجھا لیا۔ اب قاری ہی مجھے بتائیں کہ یہ کس طرح کا مائنڈ سیٹ ہے؟ میں اس سوچ اور فکر کو کیا نام دوں؟ دنیا ‘ٹرانس ہیومن ازم’ تک پہنچ گئی اور ہماری سوچ ہے کہ دن بدن تباہ حال ہوتی جا رہی ہے۔ میری التجا ہے کے خدارا اس تاریک دلدل سے نکل کر اپنے ارد گرد کی دنیا پر بھی نظر ماریں کہ یہ جا کہاں رہی ہے، اور آپ نے اسے کیسے کمپیٹ کرنا ہے۔ کمپیٹ کرنا بھی ہے یا آئندہ نسلیں بھی قرضوں کے سائے میں پل کر جوان کرنی ہیں؟ علم حاصل کرنے کی کوشش کریں کہ یہی مومن کی کھوئی ہی میراث ہے۔ جب ہم خود اس دنیا میں ترقی یافتہ ممالک کو کمپیٹ کرنے کے قابل ہو جائیں گے تو ہمیں سازشیں بھی کم دکھائی دیں گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.