آزادی کا جشن اور اس کی اہمیت

2,541

سکول آتے جاتے بچوں کو بس یہی ایک بات سجھائی دیتی ہے کہ پاکستان کی آزادی کا جشن بہت دھوم دھام سے منانا ہے۔ وہ اپنے معمولات سے بالکل بے خبر ہو جاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ سکول کا کام بھی کرنا ہے، ٹیوشن بھی جانا ہے اور مدرسے کا بھی سبق یاد کرنا ہے۔ اور تو اور کبھی کبھی تو اپنے کھیلوں کی سرگرمیوں سے بھی اپنے آپ کو علیحدہ کر بیٹھتے ہیں۔ ان کے لیے اہم ترین کام اپنے وطن عزیز کی آزادی کا جشن منانے کی تیاری ہوتا ہے اور وہ اس بات کو ممکن بنانے کی ہر ممکن کوشش میں سرگرداں ہو جاتے ہیں۔ جیسے جیسے 14 اگست کا دن قریب آتا جاتا ہے، اپنے والدین سے مختلف چیزوں کا تقاضا شروع ہو جاتا ہے۔ اب یہ والدین پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ ان معاملات کو کس طرح سے نمٹاتے ہیں۔ بہرحال ایک عدد سبز ہلالی پرچم تقریباً ہر گھر کی زینت بنتا ہے، اور بات ایک پرچم کے لہرانے سے آگے بڑھتی ہے اور جھنڈیوں اور دیگر لوازمات پر آ کر انجام پذیر ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ 14 اگست کا سورج طلوع ہو جاتا ہے۔

ہمیں بہت اچھی طرح سے یہ سمجھایا جاتا ہے کہ پاکستان لاتعداد قربانیوں کے طفیل وجود میں آیا۔ قربانیوں کی ایک ناختم ہونے والی فہرست ہے جو ہمارے آبا ؤ اجداد کے دلوں میں محفوظ ہے۔ شاذ و نادر کوئی سچا واقہ ہمارے سامنے کوئی بزرگ پیش کرتے ہیں تو انکی آنکھیں نم ہو جاتی اور آواز رندھ جاتی ہے۔ ایک فلم جو انکی بینائی سے محروم ہوتی ہوئی آنکھوں میں چلنے لگتی ہے، ان انکھوں میں آگ کے شعلے بھی نظر آتے ہیں اور ادھر ادھر بھاگتے معصوم و لاچار لوگ بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہم اس درد کو اور اس تکلیف کو نہیں سمجھ سکے اور شاید نہ ہی سمجھ سکیں گے۔ وہ بزرگ آج بھی تصور میں وہ لال رنگ جس کی ہولی دشمن نے بہت بے رحمی سے کھیلی تھی، اپنے کپڑوں پر محسوس کرنے لگتے ہیں اور بے خیالی میں اپنے کپڑے جھاڑنے لگتے ہیں۔ تازہ تازہ لہو کی مہک پھر انہیں ستانے لگتی ہے۔ بکھری ہوئی بے سر و پا لاشیں، آبروریزی کی چیخیں انکا دل دہلانے لگتی ہیں۔ ہم سب وہ سب کچھ ستر سال گزرنے کے باوجود محسوس نہیں کر سکے۔ ہم وہ محسوس نہیں کر سکتے۔ ہم ان بزرگوں کی زخمی روحوں کو نہیں پہچان سکتے۔ انکی خاموشی انکی ہنسی ہمارے لئے بہت بے معنی سی ہے۔

ہمارے بزرگوں کی ساری قربانیاں ہمارے بے خوف مستقبل کیلئے تھیں۔ وہ ہماری بے خوف زندگی کے خواہاں تھے۔ ہم نے آزاد وطن میں، آزاد آب و ہوا میں، آزاد آذان کی گونج میں آنکھ کھولی ہے۔ ہم نے ہنستے بستے چہرے دیکھے ہیں۔ ہم نے لہلاتے کھیتوں میں اپنے کسانوں کو ہل چلاتے دیکھا ہے۔ ہم نے اپنی مرضی سے راستوں کا تعین کیا ہے۔ ہمیں آزادی ورثے میں ملی ہے۔ ہمارے لئے آزادی کی جد و جہد کی اہمیت کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔

آپ کسی سے اس کی خیریت دریافت کریں تو بے ساختہ جو جواب سماعتوں کی زینت بنتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا شکر ہے۔ یہ ایک رٹا رٹایا جملہ ہے۔ یہ کیسا شکر ہے جو بہت خالی خالی سا لگتا ہے۔ مگر یہ خالی خالی شکر ہوتا تو اللہ ہی کا ہے۔ بالکل اسی طرح ہم آزادی کا جشن تو مناتے ہیں ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں لیکن ہم ان بزرگوں کے احساسات تک ساری زندگی رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔ ہم پاکستان کی جد و جہد آزادی کی روح تک رسائی کبھی نہیں پا سکتے۔

بات یہاں ختم نہیں ہوئی بلکہ یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ ہم جس احساس اور جذبات تک رسائی نہیں حاصل کر سکے، اس کو کس طرح اپنی آنے والی نسلوں میں منتقل کر سکتے ہیں؟ یقیناً اب یہ کام ناممکنات میں شامل ہو چکا ہے۔ اب کیا کیا جائے؟ جیسے چل رہا ہے، کیا ایسے ہی چلنے دیا جائے اور آنے والی نسلوں کو اسی طرح سے بس جشن تک محدود کر دیا جائے یا واقعی جشن سے آگے لے کے جایا جائے؟ دراصل پہلے دن سے ہی ہماری دشمن قوتیں ہمیں کمزور کرنے پر کمر کسے ہوئے ہیں۔ یہ جشن ہمیں دوسرے معاشروں سے تحفے میں ملا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ کوئی جشن چراغاں کر کے کرتا ہے تو کوئی جشن گانے بجا کر مناتا ہے تو کوئی اپنی خوشی کا اظہار کرنے کیلئے کوئی اور بے ہنگم طریقہ اپناتا ہے۔ ہمیں ان سب طریقوں میں سے جو جو اچھا لگا، اس سے ہم نے ایک کوکٹیل نما جشن مرتب کیا اور اسے اپنی ثقافت کا نام دے کر منانا شروع کر دیا ہے۔ اب ہمارے ہر طرح کے جشن میں ناچ بھی ہے، گانا بھی ہے، چراغاں بھی ہے اور بہت کچھ ایسا بھی ہے جو کہ نہیں ہونا چاہئے تھا، جس کی اجازت نہ تو ہمارا دین اجازت دیتا ہے اور نہ ہی ثقافت۔

اب ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو یہ آگاہی دینا ہو گی کہ وطن کیسے بھی حاصل کیا گیا ہو، کتنی اور کیسی بھی قربانیاں دے کر حاصل کیا گیا ہو، اب یہ تمہارے مرہونِ منت ہے، اسے بگڑنے سے بچالو۔ اپنے وقت کی اہمیت اور افادیت کو پہچانو۔ دشمن کی چالوں کو سمجھو۔ اس کے جھانسوں سے خود کو بچاؤ۔ یہ جھنڈا اس وقت تک لہرا سکتا ہے جب تک تم اس ملک کی قدر کرتے رہو گے۔ تم اپنے علم سے، اپنی بے پناہ خداداد صلاحیتوں سے وطنِ عزیز کا نام ساری دنیا میں روشن کر سکتے ہو۔ ہر 14 اگست ہم سے یہی تقاضا کرتی ہے کہ خوب محنت کرنا ہے، خوب پڑھنا ہے اور انسانوں کو انسانیت کا صحیح سبق دینا ہے۔ ہمیں ان سازشوں سے بچنا ہے جنہوں نے ہمیں جشن کی صورت میں الجھایا ہوا ہے۔ یہ جشن ہمارا مقصدِ حیات نہیں ہے۔ یہ ہمیں صحیح سمت میں پیش قدمی سے روکنے کیلئے دشمن کی سازشیں ہیں۔ دشمن کے آلہ ہائے کار ہمارے درمیان ہم سے بن کر رہ رہے ہیں۔ ہمیں ان کو پہچاننا ہے۔ انکی نشاندہی کرنی ہے۔ یہ ملک ترقی کی راہ پر تب گامزن ہو گا جب ہم جشن آزادی پروقار طریقوں سے منائیں گے، ہم زندہ دل قوم ہیں لیکن کیا زندہ دلی اس طرح سے دکھائی جاتی ہے؟

ہمیں دو باتیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہیں۔ اول یہ کہ ہم اس نبی ﷺ کے امتی ہیں جنہوں نے ہمارے لئے (اپنی امت کیلئے) اللہ رب العزت سے خصوصی دعا فرمائی اور ‘امتی امتی’ کہتے دنیا سے رخصت ہوئے۔ دوم، بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کے یہ تاریخی الفاظ: کام، کام اور کام۔

ہم سب دل کی گہرائیوں سے اس عرضِ پاک کی بقاء کیلئے دعا گو ہیں۔ مگر ہم عملی طور پر اپنی اس محبت کا مظاہرہ کب کرینگے؟ آئیں اس 14 اگست کو ہم یہ عہد کریں کہ آپ ﷺ کے امتی ہونے کا ثبوت اپنے ہر فعل سے دینگے اور محنت اور لگن سے کام کرینگے یہاں تک کہ پاکستان کو صف اول کے ممالک میں لا کر کھڑا نہ کر دیں۔ انشاء اللہ۔

پاکستان زندہ باد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان پائندہ باد

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.