کیوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران؟

2,899

‘یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران اے قائدِ اعظم تیرا احسان ہے احسان’

کیا آج کل کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ مصرع درست دکھائی دیتا ہے؟ کیا اسے یوں نہیں ہونا چاہئے تھا کہ “کیوں دی ہمیں آزادی” ۔۔۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ قائد نے ہمیں‌آزادی کا تحفہ کیوں دیا تھا؟ آخر قائد ہم سے چاہتے کیا تھے؟ آزاد ملک دلانے کا مقصد کیا تھا؟ ہماری نئی نسل میں سے تو شاید ننانوے فیصد نے کبھی یہ بھی نہیں سوچا ہوگا کہ اگر ہم آزاد نہ ہوتے تو کیسی زندگی گزار رہے ہوتے۔ کن کن حالات کا سامنا کر رہے ہوتے۔ اور آخر یہ غلامی ہوتی کیا ہے؟ پلیٹ میں رکھی مل جانے والی ہر چیز ناقدری کی نذر ہوجاتی ہے۔ آزادی کیا ہوتی ہے یہ کوئی ان سے پوچھے جنہوں نے اپنے خاندان قربان ہوتے دیکھے۔

جنہوں نے موت کو اپنے سامنے کھڑا دیکھا۔ اور جنہوں نے غلامی کے عذاب سہے۔ ہم کیا جانیں غلامی کیا ہوتی ہے! پھر بھی آزاد فضا میں سانس لینے والا ہر نوجوان یہی کہتا دکھائی دیتا ہے کہ آخر اس ملک میں رکھا ہی کیا ہے۔ کیا واقعی اس ملک میں کچھ نہیں رکھا؟ تو جائیے مقبوضہ کشمیر کا ایک چکر لگا آئیے۔ جب نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے اس بات کا بھی یقین نہیں ہوگا کہ آپ اسے حلق سے اتار بھی پائیں گے کہ نہیں؟ جب گھر سے باہر قدم نکالتے ہی ہر جانب بھارتی فوجی آپ پر بندوقیں تانے نظر آئیں اور جب محض پاکستان کا پرچم ہاتھ میں لینے پر آپ کو وحشیانہ تشدد کا سامنا کرنا پڑے تب بتائیے گا کہ کیا واقعی اس ملک میں کچھ نہیں رکھا؟

ارے صاحب! صرف ملک پر تنقید کرنے کی بجائے کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانکیے گا۔ قائد اور لاکھوں مسلمانوں نے یہ وطن صرف چودہ اگست کو ون ویلنگ کرنے، آتش بازی، ہوائی فائرنگ اور سڑکوں پر نکل کر ملی نغمے گانے کے لیے تو حاصل نہیں کیا تھا۔ بس یہی ہے ہماری حب الوطنی؟ یا ہمیں کچھ اور بھی کرنے کی ضرورت ہے؟

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. میاں قاسم کہتے ہیں

    you are right i agree with you

تبصرے بند ہیں.