سائبر کرائم بل والا مذاق، اور ہماری آئی ٹی کی منسٹر صاحبہ

0 445

میں آج جس موضوع پر چند لائینیں آپ کے آگے نوش فرمانے کے لیے رکھ رہا ہوں، اس موضوع پر بہت بڑے بڑے ڈگری والے لکھ چکے ہیں، چاہے وہ ڈگری ایگزکٹ کی ہو یا یو آئی ٹی کی۔

کل پرسوں کی بات ہے، میں نے ایک بحث پڑھی ٹویٹر پر جس کا عنوان غالبا رکھا گیا تھا سائبر کرائم بل۔

کافی لوگ اس کے حق میں اور کافی اس کے خلاف دلیلیں دے رہے تھے۔ مجھے تو اتنے لوگ دیکھ کر ایسا لگا جیسے داتا ساب لنگر لے رہے ہوں۔ اور لائن لمبی ہونے کی وجہ سے آپس میں لڑ رہے ہیں۔

خیر اپنے موضوع سے دور نہیں جاتے ورنہ رکشہ کا کرایہ بھی پاس نہیں میرے تو۔
اس پہ چند ایک سزائیں سننے کو ملیں. اچھا محسوس ہوا پڑھ کے (خدا جانتا ہے سزا سن کر ہی آنسو پسینہ بن کر نکلے ویسے)۔

ساری دنیا میں سائبر کرائم بل موجود ہیں۔ سو ہمارے یہاں بھی اس کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس کے بغیر ہم بالکل ایسے محسوس کررہے تھے جیسے ایک نند اپنی بھابی کے بغیر کرتی ہے۔

خیر اس سائبر کرائم بل کو نہ تو مکمل پڑھا نہ حوصلہ ہوا کیونکہ اس کی سزائیں پڑھنا کسی پھیپھڑے، جگر والے کا کام ہوسکتا ہم جیسے شریفوں کا نہیں۔ لیکن کچھ سوال میرے کند ذہن میں کلبلائے تو سوچا آپ کی نظر کروں۔ ویسے بھی اندھوں کے کچھ بھی نظر کیا جائے, ان کو کیا پتہ چلنا؟

کہتے ہیں پورے شہر میں پتھر پڑے ہوں تو بندے کو منزل پہ جانے کے لیے جوتے اچھے اور مضبوط پہننے چاہییں نہ کہ پتھر ہٹھاتا پھرے۔ میرے چند معصوم سوال ہیں، بس ان کے جوابات چاہتا ہوں، جو نہ بھی ملیں تو افسوس نہیں ہوگا کیونکہ جواب مجھے پہلے سے پتہ ہے۔

پہلا سوال یہ ہے کہ کیا اس بل کو بنانے سے پہلے وہ گیٹ ویز بند کیے گئے جو نادرہ کا ڈیٹا چند ڈالرز کے عوض بیچ دیتے ہیں

دوسرا یہ کہ کیا وہ گیٹ ویز کلوز ہوئے جو کسی بھی موبائل کو ٹیپ کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔

تیسرا، کیا وہ گیٹ ویز بند ہوئے جو کسی بھی موبائل کو ایچ ایل آر سے لوکیٹ کرتے؟

میرا چوتھا سوال یہ ہے کہ کیا وہ گیٹ ویز کلوز ہوئے جو یوزر کو خفیہ رکھتے ہیں۔

پانچ، کیا وہ گیٹ ویز کلوز ہوئے جو پولیس انفارمیشن سسٹم میں نقب لگاتے ہیں؟

چھ، کیا وہ گیٹ ویز کلوز ہوئے جو کسی کی بھی لائیو ایکٹیویٹی دکھاتے ہیں؟

نمبر سات سوال یہ ہے کہ کیا وہ گیٹ ویز کلوز ہوئے جو بینک ڈیٹا تک رسائی دیتے ہیں؟

آٹھواں سوال، کیا ویب سائٹ رجسٹر کروانے کا کوئی نظام وضع کیا گیا؟

اگلا سوال یہ ہے کہ کیا وہ گیٹ ویز کلوز ہوئے جو کسی بھی انسان کی آواز تبدیل کر دیتے ہیں؟

دسواں سوال، کیا آپ نے ان گیٹ ویز کو بند کیا جو ورچوئل نمبر دیتے ہیں؟

گیارہواں، کیا ان گیٹ ویز کو بند کیا گیا جو بغیر ویریفیکیشن سم دے دیتے ہیں؟

بارہواں سوال، کیا بلیک ہوسٹنگز کو قابو کرنے کا کوئی بندوبست کیا گیا؟

اور تیرہواں اور آخری سوال یہ ہے کہ کیا کسی وہائٹ، بلیک، ریڈ ہیٹ سے پوچھا گیا کہ سیکیورٹی لیپس کو کیسے کور کریں؟

امید ہے کہ ان تمام سوالات کے جوابات نفی میں ہوں گے۔ لیکن ان مسائل کی وجہ سے کوئی بھی شریف آدمی گھر میں سویا ہوگا اور صبح اٹھنے پہ جب اس کو پتا چلے گا کہ وہ تو سائبر کرائم کا شکار ہوچکا ہے تو یقینا اسکے پیٹ کے چوہے ہاتھوں سے طوطے بن کر اڑ جائیں گے اور وہ بے چارہ مفت میں سزا بھگتے گا۔ کیونکہ آئی پی ایڈریس کو تو چھپانے کا محفوظ سے محفوظ طریقہ موجود ہے، تو اصل مجرم آپ کیسے پکڑیں گے؟

جان کی امان پاؤں تو عرض کرتا چلوں کہ ہماری آئی ٹی منسٹر صاحبہ جناب انوشہ رحمان جی، جن کی زیرنگرانی یہ بل تیار ہوا ہے، ان کو سوشل میڈیا کا کوئی تجربہ نہیں۔ نہ ہی ان کا کوئی اکاؤنٹ ہے۔

کبھی ان کا ہوا کرتا تھا ٹویٹر پہ اکاؤنٹ جسے ڈی ایکٹو بھی ایک لڑکے کو 250 روپے دے کر کروایا گیا کیونکہ خود نہیں کرنا آتا تھا۔

خیر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ جو منسٹر صاحبہ پاکستان میں فحش ویب سائٹس کو ابھی تک بند نہیں کروا سکیں، ان سے آپ امید رکھیں کہ وہ یہ سٹرانگ گیٹ ویز بند کروا دیں، تو غلطی آپ کی اپنی ہے۔

باہر ہر کسی کو اپنے گھر میں پتھر پھینکنے سے روکنے کی بجائے آپ اپنے گھر کی دیواریں اونچی اور مضبوط کرلیں تو شاید بہتر ہو۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.