نماز، رضوان اور ہم

832

مغرب سے دس منٹ پہلے اسٹیڈیم کے گیٹ کھلے، سینکڑوں کی تعداد میں تماشائی باہر آئے اور چند لمحوں میں اسٹیڈیم خالی ہوگیا، ایسا محسوس ہوا کہ میچ ختم ہوگیا لیکن بعد میں معلوم پڑا کہ پہلے ہاف کا کھیل ختم ہوا ہے اور ساتھ ہی نماز کا وقفہ بھی دے دیا گیا ہے. ایک جم غفیر نے قریبی مسجد میں نماز ادا کی، بعد ازاں میچ کے دوسرے ہاف کے کھیل کا لطف لیا۔ یہ واقعہ قذافی اسٹیڈیم میں محمد رضوان کی دوران میچ نماز کی ادائیگی پر سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ افتخار احمد نے سنایا۔ اہل عرب میں فٹبال اتنا ہی مقبول ہے جتنا ہمارے دیار میں کرکٹ، لیکن ان کے ہاں نماز کی شرح ہماری مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔

میں آج کل ابوظہبی سے 60،70 کلومیٹر دور ایک گاوں میں مقیم ہوں لیکن یہاں پر ہر نماز میں ایک بڑی تعداد میں لوگ موجود ہوتےہیں۔ گزرے ماہ و سال میں شائد ہی کوئی ایسا چھوٹا یا بڑا پارک ، سڑک کے کنارے موجود آرام گاہ دیکھنے کو ملی ہو جہاں پر نماز کے لیے جگہ بمعہ وضو کا انتظام موجود نہ ہو۔ یاد رہے کہ جنوبی افریقہ اور پاکستان کے درمیان ٹی 20 میچ کے دوران جب شائقین کرکٹ ،وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کی ؎ بیٹنگ سے خوب محظوظ ہورہے تھے ،اس دوران مغرب کی آذان ہونے پر محمد رضوان نے گراؤنڈ کے اندر ہی انفرادی طور پر نماز ادا کی، محمد رضوان کا نماز ادا کرنا تھا کہ ہرطرف سے تعریف کا سلسلہ شروع ہوگیا، لوگوں نے تعر یف ضرور کی لیکن رضوان نے دوران کھیل نماز ادا کرکے جو پیغام دیا اسے لینا ضروری نہ سمجھا، کسی کی توجہ اس طرف نہ گئی اسٹیڈیم کے اندر اور باہر ہزاروں رضوان ایسے تھے جنہیں اپنے رب کے حضور حاضر ہونا تھا ، یہ رویہ ہماری قوم کی اجتماعی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

ہم ہر موقع پر اپنی ضرورت کے مطابق مطلب اخذ کرلیتے ہیں، ایک شرابی کے سامنے جب اس کے باس نے کیڑوں والے گلاس میں شراب ڈالی تو وہ بولا کہ سر ثابت ہوا کہ شراب سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں، ہم کسی برہنہ کو دیکھ کر اسے لباس مہیا کرنے کی بجائے اس کا مذاق اڑئیں گے ۔ خیر بات دور نکل جائے گی، بہر حال جب رضوان کھیل کو چھوڑ کر اپنے رب کے حضور سربسجود تھے، ہزاروں رضوان اپنے اپنے عمل سے ثابت کررہے تھے کہ میچ نماز سے زیادہ اہم ہے، حالانکہ نماز وہ اہم ترین عبادت ہے جس کے بارے میں اللہ رب العزت نے قران پاک میں سات سو مرتبہ حکم دیا ہے، علما کا یہ ماننا ہے کہ نماز کی اپنے وقت پر ادائیگی نہ کرکے ہم گویا اپنے عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ ہمارا کام نماز سے زیادہ اہم ہے۔

نماز کے بارے میں تاجدار مدینہ ، راحت و قلب و سینہ حضر ت محمد ﷺ کا فرمان عالیشان ہے (مفہوم ) “نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے “لیکن آج اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام کے اس اہم ترین رکن کا جو حال ہے وہ ہم سب کے سامنے ہے، جولوگ نماز اد کرتے ہیں ان میں اکثریت کو نماز کی بنیادی باتیں جیسے نماز کے فرائض ، واجبات ،سنتیں، نماز کے مفسدات، وضو کے مفسدات تک بھی معلوم نہیں، حالانکہ نماز کی ادائیگی کے دوران اگر فرض چھوٹ جائے نماز اسی وقت ختم ہوجاتی ہے۔واجب چھوٹنے پر سجدہ سہو لازم ہوجاتا ہے لیکن نمازیوں کی اکثریت کو شائد ہی یہ بنیادی باتیں معلوم ہوں۔

اور پھر ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جو عمران خان کے ریاست مدینہ کے متعلق بیانات کا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں، ان جیسے لوگ ہوتے ہیں جو اسلام کی بنیادی باتوں سے نابلد ہوتے ہیں اور سوشل میڈیاپر “اسلام میں ہی ہماری بقا ہے”غلامی رسول ﷺ میں موت بھی قبول ہے، وغیرہ وغیرہ جیسے نعرے بلند کررہے ہوتے ہیں۔ یہ اسلام اور عشق رسول ﷺ میں مرنا تو چاہتے ہیں لیکن اسلام پر چلنا نہیں چاہتے۔

آخر میں نمازی اور بے نمازی حضرات کے لیے چند گزارشات ہیں کہ جو احباب نماز کے پابند ہیں ان سے انتہائی ادب سے گزارش ہے کہ آفس یا فیکٹری کے اوقات میں ایسی نماز پڑھنے سے گریز کریں جودوسروں کو آپ کی نماز پر تحقیق کرنے پر مجبور کردے ، ہمارے ایک پاکستانی بھائی ڈیوٹی کے دوران اس قدر اہتمام سے نماز پڑھتے تھے کہ ذمہ داران کو تحقیق کرنی پڑگئی کہ آیا یہ صاحب جب کیمپ میں ہوتے ہیں تو اس قدر ہی وقت صرف کرتے ہیں ؟؟؟میرا روم میٹ تو نماز کا اہمارم صرف ڈیوٹی کے دوران ہی کرتا تھا ۔ میری تحقیق کے مطابق ڈیوٹی کے دوران نماز میں نوافل ، لمبی رکعتوں ، اور دعاوں کا اہما م درست نہیں ہے۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ برائے کرم علما سے تحقیق کرلے۔

جو بھائی نماز کی پابندی نہیں کرتے ان کے لیے گزارش ہے کہ علماکا یہ ماننا ہے بری سے بری نماز پڑھنا نہ پڑھنے سے بہتر ہے، یہ بھی شطان کا ایک سخت ترین مکر ہوتا ہے کہ وہ سمجھائے کہ بری طرح پڑھنے سے نہ پڑھنا بہتر ہے یہ غلط ہے ، نہ پڑھنے سے بری طرح پڑھنا بہتر ہے کیوں کہ نہ پڑھنے کا جو عذاب ہے وہ انتہائی سخت ہے ، حتی کہ علما کی ایک جماعت نے اس شخص کے لیے کفر کا فتوی دیا ہے جو جان بوجھ کر نماز چھوڑ دے۔آئیے ہم سب عہد کریں جہاں ہیں ، جس حال میں ہیں نماز کی پابندی کریں گے، اور اگر چھوٹ جائےتو قضا کریں گے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

محمد عمران چوہدری کامرس گریجوئیٹ ہونے کے ساتھ ، کمپیوٹر سائنسز ،ای ایچ ایس سرٹیفیکٹس اور سیفٹی آفیسر ڈپلومہ ہولڈر ہیں۔ مختلف میڈیا گروپس میں بلاگز لکھتے ہیں، فی الوقت ایک ملٹی سکلڈ پروفیشنل ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.