14فروری: عالمی یوم ِ محبت….؟

303

مغربی تہذیب نے بہت سے بے ہودہ رسم و رواج کو جنم دیا۔ بدتہذیبی ٗبدکرداری کے نت نئے طریقوں کو ایجاد کیا جس کی لپیٹ میں اس وقت پوری دُنیا اور بطور ِخاص مسلم معاشرہ فتنہ سامانیوں کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ انسانیت دشمنوں‌ نے مختلف عنوانات سے دِنوں کو منانے اور رنگ ریلیاں رچانے کے کلچر کو فروغ دَینا شروع کیا، اس کی آڑ میں بہت سی منفی روایات اور بد اخلاقی و بے حیائی کو پھیلانے لگے۔ چناںچہ انہی میں ایک 14 فروری کی تاریخ ہے جس کو ”یوم عاشقاں“یا ”یوم ِ محبت“ کے نام سے منایا جاتا ہے اور تمام اخلاقی حدوں کو پامال کر دیا جاتا ہے۔

دُنیا بھر میں نام نہاد محبت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے اور نئی نسل ویلنٹائن ڈے کی تیاری میں شد ومد سے مصروف ہے۔ یہ دن ایک نوجوان راہب ویلنٹائن کی یاد میں منایا جاتا ہے جس نے روم کے شہنشاہ گلاڈئیس کے ظلم و جبر اور ملک میں عائد شادی بیاہ پر پابندی کے خلاف آواز حق بلند کی تو سزا کے طور پر اسے قتل کروا دیا گیا۔ ابتدا میں یہ دن منانے کی روایت محض مغرب تک ہی محدود تھی لیکن رفتہ رفتہ اس نے مشرق میں بھی پر پھیلائے۔ بالخصوص نوجوان نسل کے لیے تو یہ دن ہرگزرتے دن کے ساتھ اہمیت اور توجہ اختیار کرتا جارہا ہے۔

14 فروری کو ”ویلنٹائن ڈے“ مناتے ہیں‘ نوجوان لڑکے لڑکیاں پھول‘ تحفے ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں۔ ہم دُنیا کے ساتھ بغیر سوچے سمجھے اس ڈگر پر چل پڑتے ہیں‘ کبھی نہیں سوچتے اس تہوار کی ہمارے معاشرے اور مذہب میں کوئی گنجائش نہیں‘ہم اسلام کی اخلاقی اقدار کا مذاق تو نہیں اڑا رہے۔ مغرب کی دُنیا اس تہوار کو منا رہی ہے ہم بھی منانا شروع ہوجاتے۔ اصل میں ”ویلنٹائن ڈے“ کی تاریخ عیسائیت اور یہودیت سے ملتی ہے۔ یہ ایک بڑا کمرشل رسومات کا جال ہے جس میں ہمیں نہیں پھنسنا چاہئے۔ ہمیں ہمیشہ کوئی تہوار منانے سے پہلے اسکے تاریخی پس منظر اور اس کے اثرات کو جاننا ضروری ہے کیونکہ کوئی بھی تہوار معاشرے کی ثقافت کے امین ہوتے ہیں۔ بلکہ اب تو یہ خطرہ بھی پیدا ہونا شروع ہوگیا ہے کہ ہم کرسمس اور دیوالی بھی باقاعدہ منانا شروع نہ کردیں اور ہمارے نا عاقبت اندیش، بگڑے نوجوان اسلامی ثقافت کے لئے خطرات پیدا نہ کردیں۔ اگر ہم کسی کو تحفہ دینا چاہتے‘پھول دینا چاہتے ہیں تو اس کے لئے کوئی تاریخ یا دن مقرر نہیں ہے۔ ہمیں ایسی رسومات اور تہواروں سے پرہیز کرنا چاہئے جس کے ہمارے نوجوانوں پر برے اثرات پڑیں اور ہمارا معاشرہ بگڑ جائے۔

بڑی طاقتوں اور مغرب کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ مسلم قوم کو اخلاقی طور پر پست کردیں، یہ قوم خود بخود تباہ ہوجائے۔ اس لئے وہ بے ہودہ مغربی لباس میں ملبوس اداکاروں کی نمائش کرتی، اخلاق سے گری ہوئی فلمیں بناتے ہیں تاکہ مسلم معاشرے کو گزند پہنچا سکیں۔ ہم نے اسلامی اقدار، اخلاقیات، ثقافت اور معاشرے کو بلند رکھنا ہے جس طرح ہمارے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے نوجوان لڑکے لڑکیاں اسلام کی صحیح روح کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں اور اسلام کے سچے اصولوں پر چلیں تو اس دُنیا میں گناہوں سے بچنے کے بعد قیامت کے دن خدا اور اس کے رسولﷺ کے سامنے شرمندہ نہیں ہوں گے۔

یہ ”محبت“ ایک ایسا لفظ ہے جو معاشرے میں بیشتر پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے۔ اسی طرح معاشرے میں ہر فرد اس کا متلاشی نظر آتا ہے اگرچہ ہر متلاشی کی سوچ اور محبت کے پیمانے جدا جدا ہوتے ہیں۔ جب ہم اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات چڑھتے سورج کے مانند واضح ہوتی ہے کہ اسلام محبت اور اخوت کا دین ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ تمام لوگ محبت‘ پیار اور اخوت کے ساتھ زندگی بسر کریں۔ ہمارے معاشرے میں محبت کو غلط رنگ دے دیا گیا ہے۔ اگر یوں کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا کہ ”محبت“ کے لفظ کو بدنام کر دیا گیا ہے۔ جہاں محبت کے لفظ کو بدنام کر دیا گیا ہے وہیں ہمارے معاشرے میں محبت کی بہت ساری غلط صورتیں بھی پیدا ہو چکی ہیں۔ اس کی ایک مثال عالمی سطح پر ”ویلنٹائن ڈے“ کا منایا جانا ہے۔ ہر سال 14 فروری کو یہ تہوار منایا جاتا ہے۔

انساٰئیکلوپیڈیا آف بریٹینیکا کے مطابق اسے عاشقوں کے تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس کے مطابق ویلنٹائن ڈے جو14 فروری کو منایا جاتا ہے محبوبوں کے لیے خاص دن ہے۔ بک آف نالج اس واقعہ کی تاریخ ایسے بیان کرتا ہے کہ ویلنٹائن ڈے کا آغاز ایک رومی تہوار لوپر کالیا کی صورت میں ہوا۔ قدیم رومی مرد اس تہوار کے موقع پر اپنی دوست لڑکیوں کے نام پیغامات اپنی قمیصوں کی آستینوں پر لگا کر چلتے تھے۔ بعض اوقات یہ جوڑے تحائف کا تبادلہ بھی کرتے تھے۔ بعد میں جب اس تہوار کوسینٹ ’ویلن ٹائن‘ کے نام سے منایا جانے لگا تو اس کی بعض روایات کو برقرار رکھا گیا۔ کیا کبھی کسی عیسائی نے عید الفطر ادا کی‘ کسی ہندو نے عید الاضحیٰ پر قربانی دی‘کسی ایک یہودی نے ماہ رمضان میں روزہ رکھے؟ آپ نے ایسا کبھی نہ دیکھا اور نہ سنا اور یہ حقیقت ہے ایسا کبھی نہیں ہو سکتا تو پھر ہم یہ فرسودہ اور بے ہودہ رسم بحیثیت مسلمان جس کو ویلنٹائن ڈے کہا جاتا ہے، ہم کیوں منا رہے ہیں؟

غیر قوم کا یہ تہوار ہر سال پاکستان میں دیمک کی طر ح پھیلتا چلا جارہا ہے۔ اس دن جوبھی جس کے ساتھ محبت کا دعوے دار ہے اسے پھولوں کا گلدستہ پیش کرتا ہے۔ پاکستان میں اس دن کے جشن منانے کا جذبہ نوجوانوں میں جوش پکڑتا جا رہا ہے‘ حالانکہ یہاں کا ماحول یورپ جتنا سازگار نہیں ہے اور آبادی کا بڑا حصہ اس دن کی تقاریب کو قبیح مانتا ہے۔

اب ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ اسکول‘ کالج اور یونیورسٹی میں پڑھنے والی نئی نسل کی اخلاقی تربیت کریں۔ انھیں حیا باختہ تہواروں کے بارے میں آگاہ کریں کہ ہمارے مذہب اور ہماری معاشرتی اقدار کا تہذیب ہے جو ہمارے صاف ستھرے چہرے کو مسخ کرنا چاہتی ہے۔ اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا اور تمام ذمہ داران اخلاقیات کے دشمن ان تہواروں سے صرفِ نظر کرتے رہے تو آج مغربی معاشرہ جس مسخ شدہ صورتِ حال سے دو چار ہے، وطنِ عزیز میں اس کے پیدا ہونے کو کوئی نہیں روک سکتا۔ ہماری آبادی کی اکثریت اس آگ کی تپش سے اب تک محفوظ ہے۔ ابھی وقت ہے کہ آگے بڑھ کر چند جھاڑیوں کو لگی آگ کو بجھا دیا جائے‘ ورنہ یہ آگ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی…!

مذکورہ دن درحقیقت ایسی خلیج کو پاٹنے ور رشتے ناتوں کو مضبوط بنانے کا ایک بہت اچھا ذریعہ اور صحیح معنوں میں ایک تہوار بھی ثابت ہوسکتا ہے‘ جس طرح ہم اپنے تہوار ”عید“ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس روز جب دو افراد ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں تو سارے گلے دور ہوجاتے ہیں‘ حتیٰ کہ ویلنٹائن ڈے پر بھی ہم اور آپ عید کی طرح صرف اپنے دوستوں‘ والدین‘ اساتذہ‘ پڑوسیوں‘ بھائی بہنوں اور شریک حیات کو ہی اپنے محبت اور اپنے خلوص کا یقین نہ دلائیں بلکہ معاشرے کے محروم اور پسے ہوئے طبقات کے حامل افراد کو بھی کسی پیغام‘ کسی کارڈ کے ذریعے یا خود ان کے پاس جاکر اپنی زبان سے بھی اپنے جذبات اور اپنے خلوص سے آگاہ کرکے اس دن کو بامقصد اور بڑا دن بنا سکتے ہیں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

عابد ضمیر پیشہ ور صحافی ہیں، کرنٹ افیئرز سمیت دیگر موضوعات پر قلم آزمائی کرنے کے علاوہ سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر ایکٹو ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.