کشمیر، شعلوں‌ میں‌ گھری جنت نظیر وادی

374

*”کشمیر کا چمن جو مجھے دلپذیر ہے”*
*”اس باغ جاں فزا کا یہ بلبل اسیر ہے”*
*”ورثے میں ہم کو آئی ہے آدم کی جائیداد”*
*”جو ہے وطن ہمارا وہ جنت نظیر ہے”*

کانوں نے یہ جملہ کئی بار سنا ہے کہ کشمیر جنت کی مثل دنیا میں موجود ایک خوبصورت ترین وادی ہے جس میں درختوں کی ہریالی، پہاڑوں کی بلندی، لہروں کی روانی، بہتے آبشاروں کی نغمہ ریزی، میووں اور نعمتوں کی فراوانی، مثل حوروں، غلماں کی خوبصورتی محسوس کی جا سکتی ہے۔ سچ! یہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے؟

یہاں تک سوچنے پر تو دل مطمئن رہتا ہے لیکن جیسے ہی حقیقت ذہن میں آتی ہے تو دل کانپ اٹھتا ہے۔ یہ جنت نظیر وادی اہل کشمیر کے لیے جہنم بنا دی گئی ہے۔ جہاں مسلمانوں کی حمیت، ماؤں کی آغوش، بیٹوں کی جوانی، بزرگوں کا بڑھاپا اور بیٹیوں کی عصمت تار تار کی جا رہی ہے۔ چند لمحوں کے لیے ہم خود کو وہاں کھڑا پائیں جہاں ماؤں کے سامنے ان کے بیٹوں کا بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے، ان کے جگر گوشوں کے لاشے ہر گلی کوچے میں نظر آرہے ہیں، جہاں معصوم بچوں کی معصومیت کو بڑی بے رحمی سے کچلا جا رہا ہے۔ آنکھیں بند کرکے ذرا تصور تو کیجئے کہ ہم ان ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں میں شامل ہیں جن کے سروں سے ان کی چادریں چھینی جارہی ہیں، جن کی عزت جن کی عصمت کافر درندے سرعام نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔ صرف یہ سوچ کر ہی دل دہل اٹھتا ہے، آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں، خوف سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور یہ سب کچھ حقیقی طور پر آپ کے اور میرے کشمیری بہن بھائی سالہا سال سے جھیل رہے ہیں۔

یہاں اس جنت نظیر وادی کا ذکر ہو رہا ہے جہاں اب پھولوں اور پھلوں کے اس لہلہاتے چمن میں ظلم و بربریت کے کانٹے اگا دیئے گئے ہیں، جہاں دریا کی لہروں کی ترنم کی جگہ خون کے آبشار بہہ رہے ہیں۔

*”سنا ہے بہت سستا ہے خون وہاں کا”*
*”ایک وادی جسے لوگ کشمیر کہتے ہیں*”

آج کشمیر کے حالات ہمیں واقعہ کربلا کی یاد دلاتے ہیں جہاں قافلہ امام حسینؓ، یزیدی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے اپنے جسم میں خون کی آخری بوند تک راہ خدا میں جہاد کر کے جام شہادت نوش کرتا ہے۔ مودی آج اسی یزید کی صورت میں ظلم و بربریت کا مجسمہ بنا پھرتا ہے، لیکن وہ یہ جان لے کہ

*” یاران جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت”*
*” جنت نہ کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی”*

ساتھ ہی ساتھ ہم اپنا موازنہ بھی کرتے چلیں کہ بحیثیت مسلمان قوم کیا ہم اپنا فرض ادا کر رہے ہیں؟ کیا ہم نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اس حدیث پر عمل کر رہے ہیں کہ *مسلمان قوم کی مثال ایک جسم کی ہے کہ اگر جسم کا کوئی حصہ تکلیف میں مبتلا ہو تو پورا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔*

ہاں! ہاں ہم محسوس کرتے ہیں ان کی تکلیف کو، ہاں ہمیں دکھ ہوتا ہے اپنے مسلمان بھائیوں کو یوں کٹتے، لٹتے دیکھ کر۔ لیکن صرف یوں سڑکوں پر نکل آنا، پوسٹ کارڈ اٹھا کر نعرے لگانا، یکجہتی کے نام پر عام تعطیل کا اعلان کرنا، تقریر اور بحث و مباحثہ کرنا، ان کے درد ان کی تکلیف کا مداوا نہیں ہو سکتا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں باعمل ہو کر، مل کر اور متحد ہو کر ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ ان ہندووں کو یہ دکھانا ہے کہ مسلمان دنیا کے کسی بھی خطے میں آباد ہوں لیکن ہم لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کے سائے میں ایک قوم ہیں اور وہ وقت دور نہیں کہ کشمیر سمیت جن جن ممالک میں مظالم ڈھائے جا رہے ہیں وہاں سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوں گی اور ظلم و بربریت کے یہ کالے بادل چھٹ جائیں گے، ان کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی، ماؤں اور بہنوں کی لوٹی ہوئی عزتیں رائیگاں نہیں جائیں گی، بے زباں معصوم بچوں کی دعائیں ضرور رنگ لائیں گی اور عنقریب اس کشمیر وادی میں آزادی کا سورج انشاءاللہ ضرور طلوع ہوگا۔ آخر میں سلام پیش کرتے ہیں ان تمام شہداء کو جنہوں نے ظلم کے آگے سر کٹوانا تو پسند کیا مگر جھکنا نہیں اور جام شہادت نوش کر کے اپنا مقام اور رتبہ بلند کیا ہے۔

*” چلے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر تم”*
*” رسول پاک ﷺ نے بانہوں میں لے لیا ہوگا”*
*” علی ؓ تمہاری شہادت پر جھومتے ہوں گے”*
*” حسین پاک ؓ نے ارشاد یہ کیا ہو گا”*
*” تمہیں خدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں”*
*” اے راہ حق کے شہیدو…!”*

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

صائمہ واحد تاریخ سے دلچسپی رکھنے کے علاوہ خواتین سے متعلق معاشرتی مسائل پر قلم آزمائی کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.