صحت کے مقدس پیشے پر لگا کمیشن کا داغ‌

620

صحت ان شعبوں میں شامل ہے جنہیں مقدس ترین پیشہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا تعلق براہ راست حقوق العباد سے ہے۔ چند دہائیوں پہلے جو بھی اس شعبہ کواپناتا تھا، اس کے دل میں حقوق العباد ہورے کرنے کا عنصر ضرور پایا جاتا تھا لیکن اب صورتحال بہت مختلف ہو چکی ہے۔ اسےحکومتی ناکامی سمجھیں یا عدم دلچسپی، یہ شعبہ اب کافی حد تک کاروباری بن گیا ہے۔ اس شعبے میں عوامی صحت کے ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں،کروڑوں میں سودے کیے جاتے ہیں۔

ہسپتالوں میں بہتریں سوٹ بوٹ پہنے اور خوبصورت سا بیگ اٹھائے بہت سے معززین نظرآتے ہیں جوکہ مریضوں کے ساتھ ڈاکٹروں سے ملاقات کے انتظارمیں کھڑے ہوتے ہیں۔ اصل میں یہ لوگ مختلف کمپنیوں کے نمائندے بن کرآتے ہیں اورڈاکٹر حضرات کو اپنی مصنوعات متعارف کرواتے ہیں اور یہیں سے اصل کاروبار کا آٰغاز ہوتا ہے۔

اکثر ڈاکٹرز جن کے دلوں میں خوف خدا کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے، وہ تو اس کاروبار سے باز رہتے ہیں لیکن کچھ ڈاکٹرز لالچ میں آ کر اپنے ضمیر اور ڈاکٹری قلم کا سودا کر دیتے ہیں۔ دھڑا دھڑ ان میڈیکل ریپس کی خاص ادویات لکھنا شروع کر دیتے ہیں جس کے انعام میں انہیں فریج، اے سی، ٹی وی دیئے جاتے ہیں اورحتی کہ بیرون ملک تفریحی دورے بھی کروائے جاتے ہیں۔ سالوں سال ان خاص ادویات کے لکھے جانے کے وعدے پرڈاکٹروں کے بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں۔

اس چکرمیں پستی ہے توبیچاری غریب عوام، ڈاکٹروں کی لکھی ہوئی ان خاص ادویات کی قیمت بہیت زیادہ ہوتی ہے اورعموما مخصوص دکانوں کے علاوہ کہیں اور سے ملتی بھی نہیں ہیں۔ اگراسی خاص دوائی کے فارمولے میں کسی اور کمپنی کی دوائی کا پتہ کیا جائے تو40 سے 50 فیصد سستی ملتی ہے کیونکہ کمپنیوں کوبھی ڈاکٹرز کے کمیشن کے ساتھ ساتھ ادویات پر اٹھنے والے اخراجات بھی تو پورے کرنا ہوتے ہیں جسکا نتیجہ ادویات کی بڑھتی قیمت کی صورت میں نکلتا ہے۔

عوامی صحت کے یہ کاروباری، ان خاص ادویات کی مقدار کا بھی خیال نہیں کرتے اور مریضوں کو جو دوائی دو وقت کھلانی ہوتی ہے وہ انہیں تین وقت کھلائی جاتی ہے۔ بے جا دوا کے استعمال کی وجہ سے بیکٹیریا اور دوسرے خوردبینی جاندار ان دواوّں کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے جس سے مریضوں پران دواوّں کا اثر تقریبا ختم ہوجاتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے بھی اس بڑھتی ہوئی مزاحمت پرتشویش کا اظہار کیا ہے اورحکومت نے بھی اس ضمن میں کئی اقدامات کیے ہیں لیکن جب تک اسے جڑ سے ختم نہیں کیا جائے گا یہ مسئلہ جوں کا توں برقرار رہے گا۔

بات یہاں ختم نہیں ہوتی، یہ کمیشن سسٹم لیبارٹریز کے ٹیسسٹ، سی ٹی سکین اور ایکسرے وغیرہ پر بھی ہوتا ہے۔ اس صورتحال میں مریضوں سے کہا جاتا ہے کہ یہ ٹیسٹ فلاں لیبارٹری سےکروانے ہیں کیونکہ ان خاص لیبارٹریوں سے ڈاکٹرز کو50 فیصد تک کمیشن ملتا ہےاور بوجھ غریب عوام کی جیبوں پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاج کی سہولیات غریب ہوام کی دسترس سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ مہنگائی کے اس دور میں کمیشن کے ظالمانہ نظام کا نوٹس لیا جائے اور ایسے اقدام کیے جائیں جس سے اس منفی کاروباری رجحان کی حوصلہ شکنی ہو اور غریب عوام صحت کی بہترین اور سستی سہولیات سے استفادہ حاصل کرسکیں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

فیصل چوھدری سماجی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.