ڈھلتی عمر کی بنا پر عورت کی کردار کشی

738

دنیا بھر کے سماجی مسائل میں جہاں ایک بڑا مسئلہ باڈی شیمنگ کا ہے، وہیں ایج شیمنگ کا سلسلہ بھی سر اٹھا رہا ہے۔ پاکستان کی بات کی جائے تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہاں تو جیسے ایج شیمنگ کی روایت کو ہم نے اپنی تہذیب کا حصہ بنا لیا ہے۔

حال ہی میں پاکستان کی مشہور و معروف اداکارہ مہوش حیات نے اپنی سالگرہ منائی اور اپنی عمر بغیر کسی جھجھک کے عوام کے ساتھ شیئر کی۔ سوشل میڈیا پر اپنی عمر کی تصدیق کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ وہ اپنی 33 ویں سالگرہ منا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اس بات کی ضرورت ہے کہ سماجی تبدیلیوں کے لیے نظام کو بدلا جائے۔ انہوں نے پوسٹ میں لکھا کہ آج کل کے دور میں ایک عورت 30 سال تک شادی کیے بغیر اور بچوں کے بغیر بھی خوش رہ سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر تو مہوش حیات کو اپنی عمر اور شادی کےحوالے سے کھل کر بات کرنے پر داد دی جا رہی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنی اصل زندگی میں ایج شیمنگ جیسے کھوکھلے اور تعصبی نظریے کو کیوں ختم نہیں کر پا رہے۔

پاکستان میں خواتین کے ہر عمل کو ان کی عمر کے ساتھ محدود رکھنا عام سی بات ہے اور عمر کی بنا پرتعصب کا نشانہ بنانا ہمارا وطیرہ بن چکا ہے۔ ہم سب نے یہ سنا ہے ” خواتین سے کبھی ان کی عمر نہیں پوچھنی چاہیے “لیکن ان جملوں کا جنم کیوں ہوا یہ کوئی نہیں جانتا۔ شاید اس غلط تہذیب، روایت، رویے سے تنگ آکر یہ احساس پیدا ہوا کہ عورت کو کس عمر میں کیا کرنا چاہیے۔ 25 سال کے اندر اندر تک پڑھائی مکمل کر لینی چاہیے۔ تیس سال سے پہلے شادی لازمی ہے اور 30 سے 40 کا عرصہ بچوں کی ذمہ داری اٹھانے تک محدود ہے۔

‘Forty is new Thirty ‘ ، یہ کہنا تو عام ہے پر جیسے ہی 40 کے بعد عورت کی عمر ڈھلنے لگتی ہے تو نہ صرف اسے کم جاذب نظر یا کم دلکش سمجھاجاتا ہے بلکہ کم باصلاحیت بھی تصور کیا جاتا ہے۔ چیریٹی ایج یو-کے کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک عمر کی بنا پر تعصب ہے اور زیادہ تر خواتین کو اس کا شکار بنایا جاتا ہے۔

اس تحریر کو لکھتے ہوئے کچھ عرصہ پہلے کا ایک واقعہ یاد آ گیا جس میں پاکستان کی نامور اداکارہ کو سینیر اداکار کی طرف سے صرف اس لئے تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ اس ایکٹریس نے ہمارے معاشرے کی طے کردہ عمر میں اپنے کام کا آغاز نہیں کیا۔اداکار کا کہنا تھا” اس عمر کی عورت ہیروئن نہیں بنتی “۔

یہ الفاظ اس معاشرے کی ترجمانی ہے جہاں عورت، عمر اور شرم سازی کو آپس میں خوب جوڑا جاتا ہے اور اس روش کی پیروی طویل عرصے سے چل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین عمر کو لے کر بہت احتیاط برتتیں ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ اپنی اصل عمر چھپانے لگتی ہیں۔ خواتین عمر کے بڑھنے اور اس پر پرکھے جانے کے ڈر سے اپنی ذات کی اصل خوبیوں کو فراموش کرکے مختلف بناوٹی حربوں کو اپنانا شروع کر دیتی ہیں۔

ان حربوں میں شادی جیسے بندھن میں بندھنے کے لیے عمر کو 30 سے کم بتانا، ازواجی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے ڈھلتی عمر میں ہر وقت خوبصورت نظر آنے کی کوشش میں لگے رہنا، نوکری کو زیادہ دیر تک قائم رکھنے کے لیے فٹ رہنے کی بے جا جدوجہد میں لگے رہنا شامل ہیں۔ مختلف انٹی ایجنگ کریمز اور ٹریٹمنٹ کا استعمال کرنا سوشل میڈیا پر جوان نظر آنے کے لیے بیوٹی فلٹرز اور بیوٹی ایپس سے مدد لینا، عقل ودانش رکھتے ہوئے بھی بچگانہ باتیں کرنا، اپنی پسند کے نہیں بلکہ عمر کے مطابق لباس کا انتخاب کرنا شامل ہے۔

یوں معلوم ہوتا ہے یہ کہنا تو آسان ہے” عمر صرف ایک نمبر ہے” لیکن ہر آنے والے نمبر کو خوش آمدید کرنا اور اپنی ذات کی آزادی کو عمر اور نمبر تک محدود نہ کرنا 21 ویں صدی میں بھی بہت مشکل نظر آتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.