لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے

548

محبت کی خوشبو کو شعروں میں سمو کر بیان کرنے والی منفرد لہجے کی شاعرہ پروین شاکر کو ہم سے بچھڑے 26 برس بیت گئے لیکن ان کے الفاظ آج بھی ہزاروں دلوں میں زندگی کا احساس دلا رہے ہیں اور اس عظیم شاعرہ کے ہمارے درمیان موجود ہونے کی گواہی دے رہے ہیں۔

خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر 24 نومبر 1952ءکو کراچی کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں، ان کے والد ثاقب حسین بھی شاعر تھے۔ انہوں نے انگلش لٹریچر اور زبان دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر کو ایم بی اے کی ڈگری امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی سے حاصل کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ پروین شاکر نو سال تک استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ 1986ءمیں کسٹم ڈیپارٹمنٹ میں بحیثیت سیکرٹری خدمات سر انجام دیں جبکہ امریکہ کی ایک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے مکمل کیا گیا مقالہ، زندگی کے ساتھ نہ دینے کے سبب پیش کرنے سے قاصر رہیں۔ آپ کو اردو کے منفرد لب و لہجے کی شاعرہ ہونے کی وجہ سے بہت ہی کم عرصے میں وہ شہرت حاصل ہوئی جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔ آپ نے اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت قلیل سی متاع حیات میں وہ کارنامے سرانجام دیے جن کی بدولت آپ کو پرائیڈ آف پرفارمنس اور آدم جی کے ایوارڈز کے ساتھ ساتھ ”خوشبو کی شاعرہ “ کے خطابات و القابات سے نوازا گیا۔

ٹی وی پروگرامز میں میزبان کی حیثیت سے بھی جلوہ گر ہوئیں۔ وہ اپنی اولین کتاب کی اشاعت سے پہلے ہی ادبی رسالوں کے ذریعے ہزاروں دلوں کو اپنا مداح بنا چکی تھیں۔ 1976ء میں محض 24برس کی عمر میں پروین شاکر کی پہلی کتاب” خوشبو“ شائع ہوئی جس کو بے حد پذیرائی ملی اور ان کے فکرو فن کی خوشبو چار سو پھیل گئی۔ خوشبو کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ پہلی اشاعت کے چھ ماہ بعد ہی اس کا دوسرا ایڈیشن چھاپنا پڑا۔ کتاب نے تحفوں کی شکل اختیار کرنا شروع کردی، اس کتاب نے پروین شاکر کے ادبی کیئریر میں نئی روح پھونک دی۔ پروین شاکر نے کچی عمراور نسل نو کے جذبات کی ترجمانی سے الفاظ اور جذبات کو ایک انوکھے تعلق میں باندھ کر سادہ الفاظ میں نسائی انا، خواہش اور انکار کو شعر کا روپ دیا، گہری شاعری کے اسلوب بیاں نے پروین شاکر کو جلد ہی شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

پروین شاکر کی ذاتی زندگی پر نظر دوڑائی جائے توان کی ذاتی زندگی کا دکھ ازدواجی زندگی کے اختتام پر منتج ہوا۔ انہوں نے کراچی کے ڈاکٹر نصیر علی سے شادی کی جن سے ایک بیٹا مراد علی پیدا ہوا، بعد ازاں ڈاکٹر نصیر سے طلاق لیکر ازدواجی زندگی کو خیر آباد کہہ دیا۔ پروین شاکر کی شاعری کے موضوعات میں جہاں محبت ،عورت اور اقدارکا گراں قدر احساس موجود ہے، وہاں ان کی شاعری میں دکھ اور حزن کی کیفیت بھی ابھر کر سامنے آئی۔

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاﺅں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا

پروین شاکر کا شمار ان چند ایک خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنا آپ منوایا۔ انہوں نے عورت کے مشرقی احساس، گھٹن، دکھ اور ملال کی جومنظر کشی کی ان سے پہلے کسی شاعرہ نے نسوانی جذبات کو اتنی نزاکت سے بیان نہیں کیا۔ ماں کے جذبات ، شوہر سے ناچاقی اور علیحدگی، ورکنگ وومن کے مسائل، ان سبھی کو انہوں نے بہت خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے۔ ان کی شاعری میں روایت سے انکار اور بغاوت بھی نظر آتی ہے۔ پروین شاکر کی پوری شاعری ان کے اپنے جذبات اور درد کائنات کے احساسات کا اظہار ہے، شاعری میں قوس قزح کے ساتوں رنگ نظر آتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں دور جدید کی شاعرات میں نمایاں مقام حاصل ہے۔

ان کے شعری مجموعے 1976ءمیں خوشبو، 1980ء میں صد برگ ، 1990ء میں خود کلامی، 1990ءمیں ہی انکار اور 1994ء میں ماہ تمام شائع ہوئے۔ انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ کالم نویسی بھی کی۔ ابھی فن وادب کے متوالے پوری طرح سیراب بھی نہ ہو پائے تھے کہ خوشبو بکھیرتی پروین شاکر 26 دسمبر 1994 ء پیر کے دن اسلام آباد اپنے آفس جاتے ہوئے ٹریفک حادثے میں 42 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملیں۔ آپ نے اپنی شاعری میں کہا تھا کہ

مر بھی جاوں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے

یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کی نظموں اور غزلوں کے الفاظ آج بھی نوجوان نسل اور شاعری کے دلدادہ لوگوں کی زبانوں پر اور دلوں میں زندہ ہونے کا احساس دلا رہے ہیں۔ ان کی نظمیں بھی اسی معیار کی ہیں جو گہرے تخلیقی تاثر میں ڈوبی ہوئی ہیں اور ان کی عظمت کے اثبات کے لیے کافی ہیں۔ انہوں نے غزلیں تو ایسی عمدہ کہی کہ زبان زد خاص و عام ہوگئی مثلاً غزل کے کچھ اشعار ملاحظہ ہوں۔

کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی میرے ہرجائی کی
تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہے
تجھ پر گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی
اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
روح تک آگئی تاثیر مسیحائی کی
اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اٹھتی ہے عجب خواہشیں انگڑائی کی

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

رانا اعجاز سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.