قائدِ اعظم: یادوں کے آئینے میں

451

قائدِاعظم بیسویں صدی کے وہ تاریخ ساز رہنما ہیں جنہوں نے اپنی سچائی، اصول پسندی اور استقامت سے ایک محکوم و مجبور قوم کو دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کا مالک بنا دیا۔ قائد کا یہ احسان پاکستان کی صورت میں دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔

تحریکِ پاکستان سے لے کر آج تک بےشمار عقیدت مند اپنے قائد کے کارناموں، ان کے ساتھ گذرے قیمتی لمحات کو قلمبند کر کے ان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اپنی محبت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ گذرے وقتوں کے لوگ اور ان کی یادیں آنے والے وقت کا آئینہ ہوا کرتے ہیں۔ پیشِ نظر تحریر ایسے ہی ایک عقیدت مند کے قائد کے ساتھ گذرے بیش قیمت وقت کے تذکرے پر مبنی ماضی کا ایک عکس ہے۔

سید شہاب الدین احمد ہندوستان کے ان لاکھوں خوش نصیب مسلمانوں میں سے ہیں جنہیں تحریکِ پاکستان کے براہِ راست مشاہدے اور شرکت کا شرف حاصل ہے۔ سید صاحب اس وقت اگرچہ ایک نوعمر لڑکے تھے لیکن تحریکِ پاکستان اور قائدِ اعظم کے تعلق سے ان کے جذبات و احساسات کسی پرعزم نوجوان سے کم نہیں تھے۔ ہندوستان میں کانگریس ہی عوام کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت تھی۔ کانگریس کے ہندو پرستانہ عزائم واضح ہونے کے بعد مسلمانوں نے اپنی الگ جماعت مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کا آغاز کیا جس نے آ گے چل کر تحریکِ پاکستان کی شکل اختیار کی۔ اس تحریک کی مخالفت اور مسلم دشمنی میں مسلمانوں کی بستیوں میں بلوہ و فساد بڑھتا رہا۔ حفاظت کے لیے ہتھیار اور راتوں کو پہرے کا اہتمام عام طور پر کیا جانے لگا۔

مسلمانوں کے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ قائدِ اعظم کو مسلم لیگ کا صدر بنایا گیا۔ فولادی عزم اور بےمثال قوتِ ارادی رکھنے والے قائد نے مسلم لیگ کی تحریک میں نئی روح پھونک دی۔ علامہ اقبال نے آپ کے بارے میں درست فرمایا تھا کہ “محمد علی جناح ہی وہ واحد رہنما ہیں جو مسلمانانِ ہند کی منتشر قوتوں کو مجتمع کر کے ان میں متحدہ قوتِ عمل کا فسوں پھونکنے کا کٹھن کام انجام دے سکتے ہیں۔” مستقبل کے سخت ترین حالات میں قائدِ اعظم کی بےمثال استقامت اور مسلمانوں کی ان کی قیادت میں منزل کی جانب پیش قدمی نے اقبال کی اس پیش گوئی کو سچ ثابت کیا۔

دسمبر 1938ء آخری عشرے میں آل انڈیا مسلم لیگ کا چھبیسواں سالانہ اجلاس پٹنہ میں منعقد ہوا۔ اس میں سید صاحب کو اپنے نانا محترم کے ساتھ شرکت کا موقع ملا۔ اس تاریخی جلسے کے مناظر ان کے ذہن میں اب بھی تازہ اور جذبات کو گرماتے ہیں۔ اس اجلاس کا انعقاد بیرسٹر سید عبدالعزیز نے کیا تھا۔ جلسہ کے لیے ایک وسیع پنڈال سجایا گیا تھا جہاں اندر اور باہر سبز ہلالی پرچموں کی بہار تھی۔ قائدِ اعظم اور دیگر مقررین کے استقبال کے لیے حاضرین کا جوش و خروش حیرت انگیز تھا۔ مقررہ وقت پر تلاوتِ قرآن سے سے آغاز ہوا۔ مقررین نے یکے بعد دیگرے اپنے اپنے علاقے کی رپورٹ سے آگاہ کیا۔ جب قائدِ اعظم تقریر کے لیے آئے تو سارے مجمع نے محبت و عقیدت سے تکبیر اور قائدِ اعظم زندہ باد کے پرجوش نعروں سے ان کا استقبال کیا۔ قائدِ اعظم کی طبیعت ناساز تھی، اس لیے وہ اپنی تقریر لکھ کے نہ لا سکے تھے۔ اس کا یہ فائدہ ہوا کہ برجستہ زبانی تقریر نے حاضرین میں عجیب طرح کا غیر معمولی جوش و جذبہ پیدا کر دیا۔ “پاکستان ناگزیر تھا” کے مصنف سید حسن ریاض نے اپنی کتاب میں اس کا برملا اعتراف کیا ہے کہ قائدِ اعظم کی زبانی تقریر ان کی تحریری تقریر سے زیادہ اثرانگیز ہوا کرتی تھی۔ وہ ایک ایک لفظ تول کر نہایت جامع اور مدلل انداز میں مخاطب تھے۔ اجلاس کے دوران علامہ اقبال اور مولانا شوکت علی کے انتقال کی خبر ملی۔ قائدِ اعظم نے رقت آمیز لہجے میں اپنے ان عزیز ترین ساتھیوں کی تعزیت کی کہ ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔

اس جلسے میں قائدِ اعظم نے کانگریس کی حقیقت واضح کی کہ ملک کی نمائندہ جماعت ہونے کی دعویٰ کرنے والی جماعت دراصل ملک کے تمام طبقوں اور ثقافتوں پر ہندو راج قائم کرنے تہیہ کیے ہوئے ہے۔ کانگریس سے قائد اعظم کی بیزاری کا سبب کانگریس کے اپنی وزارتوں کے زمانے (1937ء) میں کیے گئے اسلام اور مسلمان مخالف اقدامات تھے۔ قائداعظم کو یہ اندازہ ہو گیا کہ کانگریس مسلمانوں کے ساتھ اس سے بھی بدتر سلوک کر رہی ہے جو انگریزوں نے ہندوستانیوں کے ساتھ روا رکھا تھا- یہ ان کی سیاسی سوجھ بوجھ اور قائدانہ سیاسی کردار کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے ایسے نازک موڑ پر مسلمانوں کی رہنمائی کی اور صحیح منزل کی طرف نشاندہی کی۔ مسلم۔لیگ کے اسی تاریخی جلسے میں پہلی بار “قائدِ اعظم زندہ باد” کا فلک شگاف نعرہ لگا اور زبان زدِ عام ہو کر آپ کا تاریخی لقب بنا دیا گیا۔ اس تاریخی جلسے کا ایسا اثر ہوا کہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود سید شہاب الدین صاحب سمیت ہزاروں سامعین کی زندگی کا نصب العین بن گیا۔

اس ضمن میں سید صاحب قائدِاعظم سے تعلق کا ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں کہ قائدِاعظم نے تحریک کے لیے مالی تعاون، چندے کہ اپیل کی۔ انہوں نے کم عمری کے باوجود دوستوں اور رشتے داروں سے مہماتی انداز میں چندہ جمع کیا۔ اس رقم کو منی آرڈر کے ذریعے قائدِ اعظم تک پہنچایا۔ جواب میں قائد اعظم نے انہی رقم کی وصولی کی اپنی دستخط شدہ رسید بھیجی۔ یہ رسید قائد کی نشانی طور پر ان کے لیے کسی بیش بہا سرمایہ کی مانند طویل عرصے سنبھلی رہی۔

بلاشبہ یہ قائدِ اعظم کی عظیم الشان قیادت ہی تھی کہ ان کے پرچم تلے شیعہ، سنی، بریلوی، پنجابی، بنگالی، بہاری، بلوچی، سندھی، پٹھان، امیر، غریب ۔۔۔۔ سب صرف اور صرف مسلمان اور امتِ مسلمہ تھے۔

“پاکستان کا قیام جس کے لیے ہم گزشتہ دس سالوں سے مسلسل کوشش کر رہے تھے۔ اللّٰہ کے فضل سے اب ایک حقیقت بن کر سامنے آ چکا ہے لیکن ہمارے لیے اس آزاد مملکت کا صرف قیام مقصود نہیں تھا بلکہ یہ ایک عظیم مقصد کے حصول کا ذریعہ تھا۔ یہ کہ ہمیں ایک ایسی مملکت مل جائے جس میں ہم آزاد انسانوں کی طرح رہ سکیں اور اپنی روشنی اور ثقافت کے مطابق نشو و نما پا سکیں۔ اور جہاں اسلام کے عدلِ انسانی کے اصول آزادانہ طور پر رو بہ عمل لائے جا سکیں۔”
(خالق دینا ہال میں حکام کے سامنے تقریر، اکتوبر 1947)

قائدِ اعظم اپنی بےمثال قیادت کے نتیجے میں “پاکستان” کی صورت میں آج بھی زندہ ہیں۔ فرقہ پرستی، نسل پرستی، مفاد پرستی، کرپشن، ظلم اور فساد کے ناسوروں سے چور ہے یہ زندگی اپنے محسنوں سے اپنی “روح” کی طلبگار ہے۔۔۔!!!

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.