25 دسمبر — خوشیوں کا پیامبر

342

ہاتھوں میں تھامے ہاتھ، ایک نئے عزم کے ساتھ ۔۔۔
آگے بڑھنے کا دن!!

دیکھو تو ذرا،
دن ہے یہ کیسا
ہر سوُ بکھیرتا،
خوشبوؤں کے جیسا

مسیحی برادری جسے مناتی
وہ کرسمس،
اسی روز ہے آتی

قائد کی بھی سالگرہ،
ہم مناتے ہیں آج کے دن
مادرِ وطن کی آزادی،
ناممکن تھی جنکے بن

دیکھ کر کیک
مزے مزے کے
للچاتے ہیں بچوں کے من
چاہے ہوں وہ مسلم
یا پھر ہوں، کرسچن

دکھُ، سکھُ اپنے سانجھے،
ایک ہی باغ کے پھول ہیں ہم
مل کر رہیں،
تو مضبوط چٹان
ورنہ اڑُتی،
دھُول ہیں ہم

نفرتیں،، عداوتیں
بغض اور کینہ،
کیا خوب گزرے زندگی
گر ان سب کے بنِ ہو جینا

ملک و قوم کی ترقی،
ہو جہدِ مسلسل، ایک عزم ہمارا
جوڑے ہوئے ہے ہم کو
رشتہ انسانیت کا،
پیارا، پیارا

  1. ہاتھوں میں تھامے ہاتھ
    ہو جانبِ منزل سفر
    وجود، تسلیم ہوں
    ایک دوسرے کے حقوق بھی
    مگر۔۔۔۔“
    نہ، کام ہوں یہ
    تحت مصلحتوں کے
    اور نہ ہی کر کے
    دلوں پہ جبر

پہنچے گی کوئی تکلیف
نہ کسی کو ہماری ذات سے
چلو آؤ کریں یہ وعدہ
آج ہم اپنے آپ سے!

***

کاشف شمیم صدیقی شاعر ہیں اور کالم نگار بھی، کراچی یونیورسٹی سے معاشیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں، شعبہ صحافت سے وابستگی کو کاشف اپنی زندگی میں پیدا ہونے والی مثبت تبدیلیوں کا موجب گردانتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.