سولی پہ اٹکی جان

866

‘یا رب’ لکھ دینا اگر کسی پہر مقتل میں زبردستی خط لکھوایا جائے۔ باپ نے اپنے 12 سالہ چھوٹےاور 15 سالہ بڑے بیٹے کو گویا وصیت کی۔ بےبس بڑی بہن اپنے دو دودھ پیتے بچوں کے ساتھ باپ کے فیصلے کے ساتھ کھڑی تھی۔ ماں اور باپ دونوں بن کے پالنے والے باپ کو اللہ تعالی پر پورا بھروسہ تھا۔ بچوں کو خوب پتہ تھا کہ یہاں سے فرار میں عافیت ہے۔ راستہ طویل اور پرخطر ہے۔ زندگی کی کوئی ضمانت نہیں۔ مر جانے پر جنازے کی کوئی امید نہیں۔ دوبارہ بہن سے، بھانجوں سے یا والد سے اس جنم میں ملاقات ہوگی یا نہیں۔ یہ یہاں زندہ بچ سکیں گے یا نہیں۔

بچوں کی ماں کو اس دنیا سے گئے ہوئے گیارہ برس ویسے ہی گزر چکے تھے۔ ڈھاکہ کی امیدوں کا سورج ڈوب چکا تھا۔ غیر بنگالیوں کا قتل عام روز کا مشغلہ تھا۔ مرد خصوصاً جواں سال بچے ہر لمحے موت کا انتظار اور اس کے لئے تیار رہتے تھے۔ شامیں صرف خون الود ہوتیں۔ لٹے ہوئے لوگوں کے بچے کھچے زیورات بھی زندگی خریدنے کیلئے فروخت ہو رہے تھے۔ جہاں کہیں زندگی محفوظ ہونے کی امید ہو ۔ اپنے پیاروں کو وہاں بھیجنے کیلئے جمع پونجی دل کھول کے لٹائی جاتی اور اسکے لئے شدید خطرات مول لئے جاتے تھے۔

بازار کوئی سا ہو اس کے دل میں رحم نہیں ہوتا۔ تجارت کے دروازے بےبسی خرید رہے تھے۔ دلال پیسے لیتے۔ رات بھر اندھیرے میں پیدل سفر کرواتے۔ کہیں کشتی سے راستہ پار کرواتے۔ دن میں انجان جگہوں پر قیام کرواتے۔ کھیتوں میں خستہ حال جھونپڑیاں ہوتیں۔ یہ انسانی اسمگلروں کی مرضی تھی کہ کچھ کھلاتے یا بھوکا رکھتے۔ کھلاتے بھی تو موٹے ابلے چاول پانی بھگوئے ہوئے ہوتے تھے جس میں کچے پیاز کے ٹکرے ملا دیئے جاتے تھے۔ پینے کے لئے راستے کا پانی۔ جان کے تحفظ کی خاطر سیاحت کے دوران ہوٹلوں میں آرام کرنے والے بچوں کا یہ سفر کتنا وزنی تھا۔ انھیں اپنی بہن، بھانجوں اور والد سے دوبارہ نہ ملنے کا خدشہ ان کے قدموں کو کتنا بوجھل کر دیتا ہوگا۔ بہنوئی کی زندگی کی خبر آئے تو کئی ماہ گزر چکے تھے۔ بڑے بھائی کی توجہ چھوٹے بھائ پر ہوگی جبکہ چھوٹے بھائی کی نظر بڑے کی زندگی پر ہو گی۔

عجیب سفر تھا کہ اسمگلر دونوں بھائیوں کو ایک دوسرے کی نظر سے اوجھل اور فاصلے پر رکھتا۔ جسم پر ایک شرٹ اور لنگی کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا۔ ہاتھ خالی تھے۔ کچھ پیسے زیب تن لباس میں چھپا رکھے تھے تاکہ دوسرے مقام پہنچنے کے بعد محفوظ جگہہ پہنچ سکیں۔ دلال پہ اعتماد کے علاوہ کوئ چارہ نہ تھا۔ وہ خطیر پیسے کے عوض کلکتہ پہنچاتے اور پہنچنے کے بعد خیریت کا خط لکھواتے اور واپس پہنچ کر یہ خط چاہنے والوں کے حوالے کرتے اور پھر ایک اور خطیر رقم کا حصہ لیتے۔ لاش تو کسی کی نہ ملتی۔ راستے میں قتل ہونا معمول تھا ۔

بدقسمتی تھی یا زبردستی کہ خیریت کا خط لکھوا کر مار دینا یا بیچ میں چھوڑ دینا کوئی غیر متوقع بات نہیں تھی۔ بالائے ستم ان بے گناہ مقتولوں کے چاہنے والوں سے ان خطوط کے بدلے میں مزید رقم لینے والوں میں اپنے مسلمان بھی تھے۔ جان اٹکی رہتی تھی جب تک سرحد پار مقیم احباب یا رشتہ دار پیاروں کی خیریت کی تحریری اطلاع نہ بھیج دیں۔ زندگی ادھر بھی قید تھی مگر کم ازکم قتل ہونے کے خدشات نہ تھے۔ پکڑ دھکڑ تھی، جیل تھی، غرض ہر سانس گراں تھی۔ دونوں جانب تشویش تھی، فکر تھی، زخم کا دکھ تھا، لٹ جانے کا سانحہ تھا ۔ مر جانے والوں کا غم تھا ۔ گمشدہ کا بین تھا۔ کیا سنائیں۔ کیا سنتے سنتے جواں ہوئیں ہیں ہم ۔ آپ آنکھیں بند کریں ۔ اپنے پیاروں کو اس کردار میں دیکھیں۔ آپ کے آنسو آپ کو بہت ہلکا کریں گے۔

اسمگلروں کے حوالے کئے جانے والے بچوں کے21 سالہ بڑے بھائی یہی سفر کرکے محفوظ مقام پر پہنچ چکے تھے۔ ان بچوں کے دودھ پیتے بھانجوں کے 22 سالہ چچا بھی اسی راستے سرحد پار کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ بہن کی ساس جس جگہ تھیں وہاں بہنوئی کو ڈھونڈنے والے ہاتھوں میں بم لیکر گشت کیا کرتے تھے ۔ محفوظ مقام پر ان دونوں بھائیوں کے بڑے بھائی اور دیگر رشتےداروں کو بذریعہ خط آگاہ کردیا گیا تھا اور وہ بھی بےچینی سے منتظر تھے۔ ادھر ان دونوں کی باری اور قسمت تھی کہ دلال نیا تھا۔

کدھر جارہے ہو، قریب ہی جارہے ہیں ۔ (کوت تو جاسئ۔ ایت تی جاسی) 12 سالہ چھوٹے بھائی نے ناکام کوشش سے واپسی پہ سوال پوچھنے والوں کو جواب دیا۔ دہشت ناک ماحول میں نہ کوئی پولیس تھی نہ کوئی انصاف کی امید۔ جانوروں کیطرح سماج کے رحم و کرم پر تھے۔ جو چاہے۔ جب چاہے پاکستان منتخب کرنے والے باشندوں اور ان کی اولادوں کو خون میں نہلا سکتا تھا۔ ہر آنکھ میں خون اترا ہوا تھا۔ بتائے گئے راستوں میں کھیت کھلیان آتے تھے۔ سانپ، بچھو، گیڈر، کتوں کی بہتات تھی۔ سورج کی روشنی میں سفر آگ میں مٹی کا تیل ڈالنے کے مترادف تھا۔ ہوا یوں کہ جیسے ہی یہ سرحد پار کرنے والے تھے وہ اسمگلر شاید واقعی کسی مشکل میں آ گیا ورنہ پیسہ کسے اچھا نہیں لگتا۔

اکثر دلال مشکل صورت میں اپنی جاں بچانے کی خاطر مسافروں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور نشانیاں مٹا دیا کرتے تھے۔ ایک جھونپٹری میں ان دونوں بھائیوں کو واپسی کے سفر کی ہدایات دی گئیں، راستے کا نقشہ سمجھایا گیا اور شاید ضروری رہنمائی بھی کی گئی۔ ان کے ساتھ چند اور اسی عمر کے زندگی کے مسافر بھی تھے۔ ہدایات کی مطابق بڑے بھائی کی شکل بنگالی نہیں لگتی تو اسکے راستے میں قتل ہونے کا زیادہ خطرہ ہے۔ چھوٹے بھائی کے لہجے میں پکڑے جانے کے امکانات کم ہیں اس لیے اسے کم خطرہ ہے۔ دنوں بھائیوں کے واپسی کے سفر میں دس گھنٹے سے زائد کا وقفہ تھا۔ بچے اپنے والد کے دیئے گئے پیسوں کا دلالوں کے کارکنوں سے پوچھ نہیں سکتے تھے، نہ سرحد پار نہ کرانے کا شکوہ۔ کیوں کہ اسکا نتیجہ صرف ان کا قتل تھا۔

بڑے خنجر ان کو سوال کرنے پر دکھا دیئے گئے تھے۔ بہرکیف بوجھل زندگی کے اس نئے سفر میں آگے بھی موت ناچتی نظر آتی اور پیچھے بھی سائے کی طرح تعاقب کرتی۔ زندگی بوجھ تھی صرف بوجھ اور اوپر سے پیاروں کی فکر کا سینے پہ ایک پہاڑ سا دھرا تھا۔ مستقبل سیاہ ترین نظر آتا تھا۔ ان بہادر بچوں کا حوصلے کے ساتھ اکیلے سفر دو راتوں اور تین دنوں پر مشتمل تھا۔ راستے کے لہلہاتے کھیتوں سے کچھ کھانے کا خدا دے ہی دیا کرتا تھا۔ کان کےاوپر بیڑی (سگریٹ نما خاکی بتی) رکھے، کان میں گول سکہ پھنسائے لنگی کو دوبارہ اٹھا کر کمر میں ٹھونس کر راستہ کاٹ رہے تھے۔ بھیس بدل کر بنگالی مزدور ہونے کا رنگ دینا وقت کا بدترین ستم تھا۔ خونخوار لوگوں سے مڈبھیڑ اگر ہو جاتی اور ان کو شک گزرتا تو مادری زبان کا لہجہ جانچنے کی خاطر دور سے چلا کر وہ پوچھتے کوت تو جاسئ- ایت تی جاسی (کدھر جارہے ہو ۔ قریب ہی جارہے ہیں)۔ لہجہ، حلیہ اور خوف جانچ لیا جاتا۔ بہادری کے ساتھ بہادر بچوں نے موت کی وادی کا رات میں لمبا اور پیدل سفر مکمل کیا۔

ادھر ڈھاکہ سے دریا کے اس پار سیعدپور میں والد اور بہن خریت سے پہنچنے کی اطلاع سننے کے لیے بیتاب تھے ۔ ادھر بچوں کے بڑے بھائی اور رشتہ دار سرحد کے دوسری طرف بےچین ۔ خط رابطے کا واحد ذریعہ تھا اور ہاتھ کی لکھائی و جملوں سے شناسائی سب کچھ تھا ۔ اچانک دن میں گرد وغبار میں لپٹا تھکن سے چور چھوٹا بیٹا گھر پہنچا تو گھر والوں کو اطمینان نصیب ہوا لیکن اسکے ساتھ جانے والے بڑے بھائی کے انتظار کی شدت میں ابال آ گیا۔ اگر کوئی اس راستے میں مار دیا جائے تو نہ لاش ملتی نہ تدفین نہ جنازہ، کیسی سخت سزا تھی، کیسی بےیاری و مددگاری تھی۔

وقت گزرتا گیا اور الحمداللہ وہ بڑا بھائی بھی رات گیارہ بجے زندہ واپس پہنچ گیا۔ یوں سمجھیے یہ قبرستان میں جنگ کے دوران ہماری ایک اور پرسوز عید تھی۔ لوگوں نے بہت سخت اور کئی سو گنا مشکل حالات کا سامنا کیا۔ آج اللہ تعالیٰ نے بہت اچھا رکھا ہے مگر کچھ آج بھی کیمپوں میں ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔ اللّہ رب العزت پاکستان کی لاج رکھ لے۔ آمین

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

عبید علی پیشہ وارانہ طور پر حیاتیاتی اور ادویاتی ڈاکٹر ہیں، تدریسی سرگرمیوں سے تعلق کے سبب قلمکاری بھی کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.