ہم اور ہمارا آن لائن تعلیمی نظام

392

تعلیمی ادارے بند ہونے پر طلباء کی خوشی دیکھ کر کچھ لوگوں کی سنجیدگی، قوم کی حالت زار پر افسوس اور بطور قوم علمی معیار کی تنزلی، سب کچھ حیرت زدہ کر رہا ہے۔ تنقید کرنا واقعی بہت آسان ہے۔ اگر تعلیمی اداروں کی بندش کو ایک طرف رکھ کر طلباء کی خوشی کے پیچھے چھپے حقائق تلاش کرتے تو زیادہ بہتر تھا۔

سال 2020 سے اب تک پاکستان کے تقریبا تمام تعلیمی اداروں کا نظام آن لائن ہے، ان میں سے 80 سے90 فیصد ایسے تعلیمی ادارے ہیں جنہوں نے ہزاروں روپے ماہانہ فیس لینے کے باوجود اپنا آن لائن سسٹم بہتر نہیں کیا ، ان کی نااہلی کا نقصان سراسر طالبعلم کا ہے، اگر طالبعلم اتنا پیسہ خرچ کرنے کے باوجود بھی لیکچر سمجھ نہیں پا رہا تو اس کا منفی اثر امتحان میں اس کی کارکردگی پر پڑے گا، آخر میں عموما ہوتا یہی ہے کہ امتحان میں خراب کارکردگی کا سارا ملبہ طالبعلم پر ڈال دیا جاتا ہے، نہ ادارہ اور نہ ہی اساتذہ ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔

ہم ایسے ملک کے شہری ہیں جہاں تعلیمی اداروں میں پریکٹیکل کروانے کیلئے ساز و سامان ہی میسر نہیں۔ جو تھوڑی بہت پریکٹیکل گائیڈ لائن طلباء کو دی جا رہی تھی بد قسمتی سے کورونا کی وجہ سے وہ بھی ختم ہو گئی۔

اب جب سے آن لائن سسٹم آیا ہے اساتذہ اپنی طرف سے بات سمجھانے کی کوشش میں کسی حد تک کامیاب ہوتے ہیں مگر روایتی تعلیم جیسی افادیت حاصل نہیں ہو سکی۔ انسانی فطرت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان جسمانی وجود کے ذریعے بات زیادہ اچھے انداز اور کم وقت میں سمجھ جاتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک کلاس میں 40 طلباء ہیں۔ دوران لیکچر کوئی طالبعلم سوال کرتا ہے تو کچھ کے نزدیک وہ صحیح وقت نہیں تھا کہ سوال کیا جائے کیونکہ ان کی توجہ ہٹ گئی اور تسلسل ٹوٹ گیا۔ اب کچھ آن لائن کلاسز میں استاد محترم صرف اپنا لیکچر دیتے ہیں، اس کو سمجھنا سراسر طلباء کا ذمہ ہوتا ہے جیسے بھی سمجھیں۔

روایتی کلاس روم میں اساتذہ، طلباء کو فوری طور پر ہدایت دے سکتے ہیں۔ وہ طلبا جو پڑھائی میں پریشانیوں یا مسائل کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں وہ لیکچر کے دوران یا وقف شدہ دفتری اوقات کے دوران بروقت حل کرسکتے ہیں جبکہ آن لائن سسٹم میں ایسا ممکن نہیں۔

آن لائن تعلیمی سسٹم میں طالب علموں کے تاثرات کے ساتھ بھی کھلواڑ ہوتا ہے یعنی جب تک طالب علم کے سوال پر تسلی بخش جواب نہ دیا جائے تب تک وہ مطمئن نہیں ہو پاتا اگر ایسا نہ ہو سکے تو طالب علم ذاتی رائے دینے کے فقدان کا شکار ہو جاتا ہے۔

الغرض ہمارے آن لائن تعلیمی نظام میں اتنے زیادہ مسائل ہیں کہ طلباء اس سسٹم سے ہی نہیں بلکہ اس عجیب و غریب پڑھائی سے ہی تنگ آ چکے ہیں اس لیے اب وہ صرف نجات چاہتے تھے جو کسی حد تک انہیں بذریعہ شفیق وزیر تعلیم کی شفقت سے حاصل ہوئی۔ چھٹکارا پانے کی وجہ یہ مسائل تھے ان مسائل کو نہ تو عوام الناس دیکھ رہی تھی نہ ہی اقتدار پر بیٹھے لوگ۔

تنقید کرنے والوں کو چاہیے تھا اپنے چنیدہ الفاظ کے ذریعے حل بتاتے، مسائل کو اجاگر کرتے نہ کہ قوم کو دو چار باتیں سنا کر کوستے۔ ہمیں بحیثیت اس ملک کے شہری ہونے کے اپنے مسائل کو اجاگر کرنا چاہیے اور مقتدر طبقات سے ان مسائل کو حل کرنے کی اپیل کریں تاکہ آئندہ مشکل حالات میں ہمیں ایک دوسرے کو ذمہ دار نہ ٹھہرانا پڑے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ ہیں اور کالم نگاری کا شوق رکھتا ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.