انفارمیشن ٹیکنالوجی ، روزگار اور بدلتے تقاضے

2,371

کچھ عرصہ پہلے تک روایتی دفتری کام کرنے کے لئے افرادی قوت کی بہت مانگ ہوا کرتی تھی لیکن اطلاعات و ٹیکنالوجی کے اس دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار نے کام کرنے کا ماحول اور طریقہ کار یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ آج کل آن لائن کام کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، صرف امریکہ میں ہی آئندہ دس سال میں روایتی کام کے مقابلہ میں آن لائن کام کی شرح میں 42 فیصد اضافہ متوقع ہے، یہی حال کم و بیش ہمارے ملک میں ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک اس کا رجحان اتنا زیادہ نہیں تھا لیکن آئی ٹی کی ترقی، انٹرنیٹ اور براڈبینڈ سہولیات اور علم و آگہی میں اضافے کی وجہ سے آج اس کاروبار سے وابستہ لاکھوں لوگ ہزاروں روپیہ ماہانہ کما رہے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً دس ہزار آئی ٹی گریجویٹس و کالج ڈگری ہولڈرز آن لائن جاب مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں انسانی سرمایہ (Human Capital) میں اضافہ ہوا ہے جس میں سے سولہ فیصد نوجوان گریجویٹس ہیں، ایک تخمینہ کے مطابق 2030 تک ہر تین میں سے ایک فرد آن لائن روزگار سے منسلک ہو گا۔

ایک سروے رپورٹ کے حوالے سے اس وقت پاکستان کا شمار آﺅٹ سورسنگ (Outsourcing) میں دنیا کے ٹاپ ممالک میں دوسری پوزیشن پر ہے جبکہ فری لانسنگ (Free Lancing)سے کمانے والوں میں انڈیا اور امریکہ کے بعد تیسرا نمبر ہے۔ اگر ہم آن لائن روزگار کی کمائی کے حوالے سے مزید تجزیہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ59% آئی ٹی، 25% تخلیقی کاموں، 7%مارکیٹنگ، 6% آپریشنل ورک یا انتظامی امور اور 3% دیگر شعبوں سے وابستہ افراد آن لائن کاموں سے کما رہے ہیں۔ سو ان نتائج سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس کاروبار میں کتنا زیادہ پوٹینشل(Potential) موجود ہے۔

فری لانسنگ کے بے حد فوائد ہیں جن سے استفادہ کیا جاسکتا ہے جیسے کہ روزگار و کاروبار کا ایک جدید انداز، علم و آگہی میں اضافہ، شرح خواندگی میں اضافے کا ذریعہ، مختلف اہم و بنیادی مسائل کے بارے شعور و آگہی کا سبب وغیرہ وغیرہ۔

پنجاب گورنمنٹ کا ای روزگار (E-Rozgar)پروگرام بھی اسی کا شاخسانہ ہے جس کا بنیادی مقصد اس بڑھتے ہوئے رجحان کو ایک منظم انداز سے مناسب تعلیم و تربیت اور رہنمائی کے ذریعے نوجوان نسل کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرتے ہوئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

ای روزگار (E-Rozgar) پروگرام کے علاوہ وفاقی سطح پر وزارت اطلاعاتی ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات (Ministry of Information Technology & Telecommunication) کے زیرانتظام بھی آن لائن کاروبار و روزگار سے منسلک یا دلچسپی کے حامل لوگوں کی مناسب اور جدید انداز میں تعلیم و تربیت کے حوالہ سے ایک پروگرام شروع کیا گیا ہے جس میں فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس مینجمنٹ، تھری ڈی آٹوکیڈ، کری ایٹو رائٹنگ، ورڈ پریس، کوئیک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل لٹریسی بارے بلامعاوضہ تربیت دی جا رہی ہے، اس پروگرام میں شمولیت کے لیے نہ تو کوئی عمر کی پابندی ہے اور نہ ہی وقت کی۔ موجودہ حالات میں کورونا کی وجہ سے جو دنیا بھر میں معیشتیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے، اگر ہم روایتی ملازمتوں کی سوچ سے باہر نکل کر آگے بڑھیں تو اس سے نہ صرف ہم اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں بلکہ ملکی معاشی ترقی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

فرخ نذیر سوشل ایشوز پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.