سب سے پہلے پاکستان۔۔۔۔

1,123

پاکستان میں اپوزیشن پر ہر دور میں غداری کے مقدمے بنتے آئے ہیں، یہ اب کوئی انہونی بات نہیں۔اپوزیشن نے جب بھی کسی بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تو بدلے میں ہر حکومت سےغداری کے سرٹیفیکیٹ ہی ملے ہیں۔ کسی بھی محب وطن کو غدار کہنا اب ایک فیشن بن چکا ہے۔ موجودہ حکومت نے تو اپوزیشن کو غداری کے سرٹیفیکیٹ تقسیم کرنے کی انتہا کر دی ہے۔ اپوزیشن کی پی ڈی ایم کی موومنٹ میں 11پارٹیاں ہیں، ہر پارٹی میں حکومت کی طرف سے غدار موجود ہیں۔ اپوزیشن کے مطابق پی ڈی ایم کے 3 کامیاب جلسے ہو چکے ہیں، ہر جلسے میں اپوزیشن نے اداروں پر زیادہ تنقید کی ہے۔ اپوزیشن کے مطابق عمران خان کو حکومت میں لانے والے ادارے ہیں ، اپوزیشن عمران خان سے نفرت میں اتنی آگے جاچکی ہے کہ اب ریاست پاکستان بھی ان کے آگے ہیچ ہے۔

اپوزیشن کی ہر پارٹی اداروں اور حکومت کو نیچا دکھانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے، اب تو سیاسی حا لات بہت ہی خراب ہو چکے ہیں۔ اپوزیشن عمران خان کے خلاف جو راستہ اختیار کر چکی ہے وہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ اپوزیشن کے خیال میں عمران خان خود ہی اداروں کو متنازع بنا رہے ہیں. عمران خان نے اداروں کو اپوزیشن کے سامنے لاکے کھڑا کیا ہے حالانکہ عمران خان اداروں کے بارے میں اتنا کہتے ہیں کہ ادارے میرے ساتھ ایک پیج پر ہیں جس سے اپوزیشن کو آگ سی لگ جاتی ہے.

اپوزیشن کہتی ہے کہ یہ ادارے ہمارے ساتھ کیوں نہیں، جب آپ اداروں کو متنازع کریں گے اور اداروں کے سربراہان کا نام لے کر جلسوں میں کہیں گے کہ آج ہم جس طرح ملکی سیاست سے آؤٹ ہیں اس میں سارا کیا دھرا ان اداروں کا ہے. ہمارے ملک میں ادارے ہی حکومتیں بناتے اور گراتے ہیں. ادارے ملکی سیاست میں مداخلت کرتے ہیں، عمران خان کو لانے والے یہی ادارے ہیں. 2018 کے الیکشن میں اداروں نے دھاندلی کرائی ہے. عمران خان کی حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے، پھر کس طرح آپ توقع رکھتے ہیں کہ آپ اداروں پر الزام بھی لگائیں اور ادارے آپ کے ساتھ بھی چلیں، آپ جو کہیں وہ چپ چاپ سنتے رہیں۔

آپ دیکھ لیں اپوزیشن نے پی ڈی ایم کے جتنے جلسے کیے چاہے وہ گوجرانوالا کا جلسہ ہو یا کراچی، کوئٹہ کا جلسہ ہو. ان تینوں جلسوں میں اپوزیشن نے پاکستان کے اداروں اور ریاست پاکستان پر حملہ کیا ہے. نواز شریف نے تو انتہا ہی کر دی. انہوں نے گوجرانوالا کے جلسے میں اداروں کے سربراہوں کے نام لے کر اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے. آپ نے جو اداروں پر بات کرنی تھی وہ کی لیکن ریاست پاکستان کی جوتذلیل کوئٹہ کے جلسے میں ہوئی اس کی کوئی مثال نہیں ملتی. کوئٹہ کے جلسے میں کہا گیا کہ پاکستان کے ادارے ناجائز لوگوں کو اٹھاتے ہیں اور ساتھ میں آزاد بلوچستان کے نعرے لگائے گئے. یہ سب کچھ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر ہو رہا ہے. پی ڈی ایم کی جتنی سیاسی جماعتیں ہیں سب کا ایک ہی منشور ہے اداروں کی تذلیل۔ جمہوریت کو جتنا نقصان پی ڈی ایم نے دیا ہے شاید ہی کوئی اور تحریک دے. اپوزیشن اداروں اور ریاست کو نقصان پہچانے میں لگی ہوئی ہے. نواز شریف کا بیانیہ ووٹ کو عزت دو اداروں کی تذلیل ہے.

ساری اپوزیشن نواز شریف کے اداروں اور ریاست مخالف تحریک کے ساتھ نہیں ہے جس میں پیپلزپارٹی سر فہرست ہے. پیپلز پارٹی ایک جمہوریت پسند ہے، پیپلز پارٹی چاہتی ہے ملک میں حقیقی جمہوریت ہو لیکن جو جمہوریت نواز شریف چاہتے ہیں، جمہوریت کے نام پر اداروں‌کی مخالفت کے ساتھ پیپلز پارٹی ہرگز نہیں. اسی طرح مولانا فضل الرحمان بھی اندر سے اداروں کے ساتھ مفاہمت چاہتے ہیں، وہ بھی نواز شریف کے ادارے مخالف بیانیے کے ساتھ نہیں ہیں. وہ چاہتے ہیں عمران خان کی حکومت جتنا جلدی ہو سکے ختم ہو لیکن ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں. اداروں کے ساتھ ہماری کوئی لڑائی نہیں. مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ ہماری لڑائی اس ناجائز حکومت سے ہے، مولانا کی پارٹی کے بہت سارے لوگ نواز شریف کے ادارے مخالف بیانیے سے بہت خفا ہیں. وہ نہیں چاہتے کہ نواز شریف کا اس تحریک میں ساتھ دیں. وہ کہتے ہیں نوازشریف پی ڈی ایم کا غلط استعمال کر رہے ہیں، نواز شریف اپنے ذاتی سیاسی فائدے کے لیے پی ڈی ایم کو استعمال کر رہے ہیں۔

نوازشریف اپنے سیاسی ورکرز کو بھی اپنے سیاسی مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، ن لیگ کے لوگ اپنے سیاسی فائدے کے لیے ریاست کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں. مریم نواز تو اپنی اور اپنے باپ کی سیاسی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہیں. ان کو معلوم ہے کہ والد کی سیاسی اننگز اب آخری مر حلے میں داخل ہو چکی ہیں، اس لیے مریم نواز عوام سے ہمدردی لینے کے لیے میدان میں اتری ہوئی ہیں. وہ چاہتی ہیں کسی نہ کسی طرح ان کے والد کو کرپشن کے سبب عدالتوں سے ملی سزا ختم ہو. وہ اس کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں. جس کی وجہ سے مریم نواز نے اپنی سیاسی پارٹی کو بھی داؤ پر لگایا ہوا ہے. وہ بھی اپنے باپ کی طرح اداروں سے نفرت میں اتنی آگے جاچکی ہیں کہ واپسی کا کوئی راستہ نہیں. اس مقصد کے لیے وہ اپنی پارٹی کے ورکرز کو استعمال کر رہی ہے.

حال ہی میں ایاز صادق نے ایک ریاست مخالف بیان دیا ہے جس میں اس نے کہا ہے پلوامہ کے بعد جب انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا تھا اور جواب میں پاکستان نے اگلے دن انڈیا کے دو جہاز گرائے تھے اور ایک پائلٹ ابھی نندن کو پکڑا تھا پھر پاکستان نے پیس جیسچر کے طور پر اس کو انڈیا کو واپس کر دیا تھا کیونکہ انڈیا نے حملہ کرنا تھا. اس لیے پاکستان نے ڈر کر ابھی نندن کو انڈیا کے حوالے کیا تھا. جس کو انڈین میڈیا نے اپنی فتح سمجھ کےاپنے چینلوں پر خوب چلایا، مودی نے بھی اس کو اپنی فتح قراردی کیونکہ پاکستان نے دن کی روشنی میں ہندوستان کے جہاز گرائے تھے. پوری دنیا اس فتح کو پاکستان کی فتح سمجھتی ہے جس سے ہندوستان کی پوری دنیامیں جگ ہنسائی ہوئی ہے لیکن ہماری اپوزیشن اسکو اپنے سیاسی انتقام کے لیے استعمال کر رہی ہے.

ن لیگ نے پاکستان کی اس فتح کو بھی متنازع بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، ن لیگ عمران خان اور اداروں سے نفرت میں اس حد تک جا چکی ہے کہ ریاست کی فتح بھی ان کو اچھی نہیں لگی. یہ سب کچھ ایاز صادق نے اپنے طور پر بالکل نہیں کہا، اس میں پارٹی قیادت کا ہاتھ ہے. ایاز صادق کو پارٹی قیادت نے استعمال کیا ہے اور ان کے ریاست مخالف بیان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے. سیاسی پارٹیوں کو چاہیے کہ ریاست کو بالائے طاق رکھ کر سیاست کریں۔ ریاست مخالف بیانیے کی ہر سیاسی پارٹی کو شدید مذمت کرنی چاہیے. سیاسی پارٹیوں کے لیے سب سے پہلے پاکستان ہونا چاہیے، پاکستان کی سلامتی میں ہی سب کی بقاء ہے ریاست ہے تو سیاست ہو گی، پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.